پارو

پارو

جب وہ آنگن میں چت کبَرے کو باندھ رہا تھا تو دھیرے دھیرے یہ بھی بڑبڑا رہا تھا:
”جب اساڑھ آئے گا اور بھڑولے بھر جائیں گے تو تجھ جیسا ایک اور ضرور لاؤں گا“

کھونٹے سے بندھی رَسی کو اس نے کھنچ کر گرہ کی مضبوطی کا اِطمینان کیا پھر سیدھا کھڑا ہو گیا اور چِت کبَرے کی پشت پر ہاتھ پھیرنے لگا۔
ایسا کرنے پر اس کے بدن میں عجب سی سرشاری اترنے لگی۔

ابھی اطمینان کی یہ سرشاری پوری طرح اس کے بدن میں نہ اُتر پائی تھی کہ اُسے اَپنی پُشت پر بے ہنگم سانسوں کے طوفان کا احساس ہوا۔ وہ جلدی سے گھوما ‘مگر تب تک یہی بے ہنگم سانس ایک دردناک چیخ میں ڈھل کر فضا کو چیر چکے تھے۔

لوگ کہتے ہیں:
”وہ پارو کی آخری چیخ تھی“
پارو‘ ولایت خان کی بیوی تھی جس پر جنات کا سایہ تھا۔
لوگ یہ بھی کہتے ہیں:
”اس آخری چیخ کے بعد پارو کو کبھی دورہ نہ پڑا“
لیکن یہ واقعہ بھی اَپنی جگہ ہے کہ اس کے بعد کسی نے اُسے بولتے بھی نہ سنا۔

لوگ پارو کی اِس کیفیت پر دُکھ کا اِظہار کرتے ہیں اور اُن دنوں کو بہتر خیال کرتے ہیں جب اُسے دورے پڑتے تھے مگر جونہی وہ جنات کے اثر سے نکلتی تھی تو چنگی بھلی ہو جاتی۔ اتنی اچھی کہ ولایت خان اُسے دیکھتا رہ جاتا اور سارا گھر اس کی مسکراہٹوں سے بھر جاتا۔

لیکن اس آخری چیخ کے بعد یوں ہوا کہ اُس کے سارے لفظ‘ اُس کی ساری مسکراہٹیں‘ حتّٰی کہ اس کی چیخیں بھی کہیں گم ہو گئی تھیں۔ اُسے دورے نہ پڑتے تھے مگر اُس کے ہونٹوں پر فقط چپ کی پپڑی تھی۔

اماں حجن پارو کی ویران گود اور لمبی چپ کو دیکھ کر ولایت خان سے کہتی:
”میں جانتی ہوں تم پارو کا بہت خیال رَکھتے ہو۔ پارو جنات کے زیرِ اَثر رہی‘ چیخی چلائی مگر تم نے اُسے پھولوں کی طرح رَکھا۔ اب دِل جکڑ لینے والی چپ ہے اور گھر کا سُونا پن۔ مگر تم واقعی حوصلے والے ہو جو تم نے دوسری عورت کا سوچا تک نہیں۔ کوئی اور ہوتا تو کب کی دوسری لاچکتا۔ میری مانو تو وقت کو تھام لو۔ ایک اور بیاہ کرلو۔ خدا نے چاہا تو اس سونے آنگن میں بہار آ جائے گی۔“

ولایت خان جب بھی یہ سنتا اُس کے چہرے کا رنگ زرد پڑجاتا۔ وہ کچھ کہنے کی بہ جائے پارو کے ہونٹوں کو تکنے لگتا جن پر فقط چپ کا پہرہ تھا۔
شروع شروع میں اس گھر میں اُس کی مسکراہٹیں تھیں جو پورے گھر کو اُجال دیا کرتی تھیں۔ یہ مسکراہٹیں بہت جلد مدہم پڑنے لگیں۔ ایسے میں ولایت خان آنگن کے اُس سرے پر کھرلیوں کے پاس بندھی بیلوں کی وہ جوڑی پر اپنا دھیان مرکوز کر لیا کرتا تھا ‘ جو ہر مِیلے میں جیت کر لوٹتی تھی۔

ولایت خان اپنے سوہنے بیلوں کی جوڑی کو دیکھتا تو سرفخر سے بلند کر لیتا اور جب پارو کو دیکھتا تو آنکھیں چمک کر بجھنے لگتیں اور سینے کے اَندر دِل کہیں گہرائی میں ڈوبتا ہوا محسوس ہوتا۔

اُدھر پارو بھی عجب مخمصے میں تھی۔
ابھی اُن کے بیاہ کو زیادہ عرصہ نہ گزرا تھا۔

اور بہ ظاہر مخمصے میں پڑنے کی کوئی خاص وجہ بھی نہ تھا۔۔۔۔۔۔ مگر کچھ تھا جو اُسے سمجھ نہ آرہا تھا۔ اور جو اُسے سمجھ نہیں آرہا تھا وہ اُسے اُلجھاتا چلا جاتا تھا۔ یہی اُلجھاوا ہنسی کے اُس پرنالے میں پھنس کر رکاوٹ بن گیا تھا جو بے اِختیار شڑاپ شڑاپ بہتا سارے گھر کو جل تھل کر دیا کرتا تھا تاہم ولایت خان‘ کہ جو کبڈی کے ہر اکھاڑے میں مقابل کو مٹی چاٹنے پر مجبور کر دیتا تھا‘ کی وجاہت کسی نہ کسی طور اس کے اندر اطمینان اتار دیتی تھی۔
پھر یوں ہوا کہ اطمینان کے کڑوے گھونٹ‘ جو وہ اپنے حلق سے جبراً اُتارتی رہی تھی‘ اُس کے سارے وجود میں زہر بن کر سرایت کرنے لگے۔

یہ تب کی بات ہے جب ولایت خان کو گھر میں چِت کبرا لائے سال ‘سوا سال کا عرصہ گزرچکا تھا۔
گاﺅں بھر کے وہ چند ایسے جوانوں میں سرفہرست تھا جنہیں ہر کوئی محبت سے دیکھتا ہے۔

محبت سے دیکھے جانے کی ایک وجہ تو اس کا اپنا مضبوط جثّہ‘ مناسب کلا جبڑا‘ اونچا قد کاٹھ اور کبڈی کے ہر میدان میں فتح تھی تو دوسری وجہ بیلوں کی وہ خوبصورت جوڑی تھی جو ہرمیلے اور ہر مقابلے میں پنجالی گردن پر پڑتے ہی یوں کراہ لے کر دوڑتی کہ مقابل اس کی دھول تک کو نہ چھو پاتے۔
اپنا جثّہ بنائے رَکھنے کا فن وہ جانتا تھا۔ منھ اندھیرے اُٹھ کھڑا ہوتا۔ میلوں دوڑتا ‘ پلٹتا تو کلہاڑا لے کر کئی کئی من لکڑیاں کاٹ ڈالتا۔ غذا میں دیسی گھی میں تلے پراٹھے‘ دودھ اور لسی کا اہتمام کرتا۔ شام کو بدن کی مالش ہوتی۔ گھنٹہ بھر کے لیے دوستوں سے زور اور ڈنٹر پیلنا اُس کے معمولات کا حصہ تھے۔

بیلوں کی جوڑی کے ساتھ بھی وہ خوب تھکتا۔ انہیں نہلاتا‘ خوب رگڑ کر ان کا بدن صاف کرتا ‘ سینگوں اور کھروں پر تیل لگاتا۔ خود چارہ کاٹ کر لاتا‘ کترا بناتا‘ ونڈا بھگوتا‘ ونڈے اور کترے کو چھی طرح صاف کیے ہوئے بھوسے میں ملا کر گتاوا بناتا اور کھرلی تک خود بیلوں کو کھول کر لاتاتھا۔

اور جب دونوں بیل مزے مزے سے گتاوا کھانے لگتے تو اسے تب چین آتاتھا۔
لیکن جب اتنا تھک چکنے کے بعد اُسے بے چینی رہنے لگی تو وہ چِت کبرا لے آیا۔

اُس کا اِرادہ تھا‘ اساڑھ میں جب بھڑولے بھر جائیں گے تو وہ چت کبرے کے مقابل کا ایک اور بیل لے آئے گا جو پہلی جوڑی کی جگہ لے لے گا۔
اَساڑھ آیا اور گزر گیا۔

منھ تک بھر جانے والے بھڑولے دِھیرے دِھیرے خالی ہوتے چلے گئے۔
مگر‘د وسرا بیل نہ آیا۔ کیسے آتا؟کہ ولایت خان کا ارادہ بدل چکا تھا۔

یوں تو وہ دُھن کا پکا تھا‘ جو من میں آتا اُسے پتھر پر لکیر سمجھتا‘ جب تک کر نہ چکتا چین سے نہ بیٹھتاتھا۔
لیکن اس بار نہ صرف ارادہ بدل چکا تھا بل کہ ایک لذّت بھی اس کے بدن میں اُتر رہی تھی۔
ہوا یوں کہ ابھی چت کبرے کو آئے چند ہی روز ہوئے تھے اور ولایت خان اس کے فوطے کچلوانے کے لیے ہسپتال لے جانے کا ارادہ باندھ ہی رہا تھا کہ فضلو اَپنی گائے لے آیا۔

گائے پر دِن آئے ہوئے تھے۔
اورفضلو کے خیال کے مطابق دور نزدیک کے کسی گاﺅں میں کوئی اچھی نسل کابیل نہ تھا۔
جب کہ وہ گائے کی نسل نہ بگاڑنا چاہتا تھا۔
ولایت خان کو پہلے پہل تامل ہوا۔
ویسا ہی تامل ‘جیسا پارو سے شادی کے وقت ہوا تھا۔
اُس کا خیال تھا ‘اکھاڑے میں اُترنے والوں کو عورت ذات کی طرف نگاہ اٹھا کر بھی نہ دیکھنا چاہیے۔ لیکن ضد میں آکر اسے اپنا خیال بدل دینا پڑا۔
وہ ضد میں یوں آیا کہ اس کے اکھاڑے کے دوستوں نے اُسے پارو دِکھائی اور کہا:
”مرد وہ ہے جو اُسے حاصل کرے گا۔“
پارو نمبردار فیروز کی بیٹی تھی اور پچھلے کچھ عرصے میں یک دَم جوان ہو گئی تھی۔
اس قدر جوان کہ سارے گاﺅں پر اس کی جوانی چھا گئی تھی۔

ایک مُدّت سے گاﺅں کی لڑکیوں پر جوانی چپکے چپکے آرہی تھی ‘ یوں کہ اِرد گرد والوں کو تو کیا خود لڑکیوں کو بھی اس کی خبر نہ ہوتی تھی۔
مگر پارو پر جوانی چیختی چنگھاڑتی آئی تھی۔ کچھ اس دھج سے کہ اس کا سارا بدن اپنے جوان ہونے کا زور زور سے اعلان کرنے لگاتھا۔

یہ اعلان ولایت خان نے بھی سنا۔ تاہم نہ تو اس کے اندر کوئی خواہش جاگی‘ نہ بدن پر بے چینی کی چیونٹیاں رینگیں لیکن لنگوٹ کَس کر اکھاڑے میں اُترنے والے اُس کے ساتھی پارو کو حاصل کرنے والے ہی کو مرد تسلیم کرنے پر تلے بیٹھے تھے۔
اور وہ چاہتا تھا اسے مرد تسلیم کیا جائے۔
وہ ضد میں آگیا اور قسم کھا بیٹھا کہ وہ پارو کو حاصل کر کے دَم لے گا۔

اگرچہ وہ بہت بڑا زمیندار نہ تھا مگر جتنی بھی زمین اس کی ملکیت تھی وہ اس کی ضرورتوں سے کہیں زیادہ تھی۔ خوبصورت جسم ‘کبڈی کے ہر میدان کا فاتح‘ صاف ستھرا شجرہ نسب۔ یہ وہ عوامل تھے جو پارو کے حصول میں اُس کے معاون بنے تھے۔

اور جب وہ پارو کو حاصل کر چکا تو بالکل ویسی ہی بے کلی اُس کے بدن میں اُتری تھی جیسی کہ اب فضلو کی بات سنتے ہوے اُتری تھی۔
فضلو کَہ رہاتھا۔

”دیکھ پُت ولایت گائے اعلیٰ نسل کی ہے۔ دریا پار سے لایا تھا تو بوری نوٹوں کی اُٹھ گئی تھی اِس پر۔ دودھ دیتی ہے تو ولٹوہے کناروں تک چھلکنے لگتی ہیں۔ سچ جانو تو میں اس کی کھیری بھی دیکھتے ہوے جھجکتا ہوں کہ کہیں نظر نہ لگ جائے۔ اور ماشااللہ تمہارا بیل ‘واہ‘ دیکھنے میںاس قدر صحت مند لگتا ہے کہ آنکھ دیکھتے ہوئے بھتی نہیں ہے۔ یقیناً اس سے نسل بھی اچھی چلے گی۔“

فضلو اس کے بعد بھی بہت کچھ کہتا رہا مگر ولایت خان چپ چاپ اپنے قدموں پر اُٹھا اور فضلو کو گائے چِت کبرے کے پاس لانے کا اشارہ کیا۔
جب فضلو کی گائے کا خوبصورت اور صحت مند سا بچھڑا ہوا اور دُودھ کی مِقدار پہلے سے بھی بڑھ گئی تو وہ سیدھا ولایت خان کے ہاں پہنچا۔
ولایت خان نے سنا تو عجب سی سرشاری اُس کی نَس نَس میں دوڑ گئی۔

فضلو مہینہ بھر اُس کے ہاں دُودھ بھیجتا رہا۔
ولایت خان اُسے منع کرتا رہا مگر وہ باز نہ آیا۔
اسی دودھ کی لَسّی بلوتے بلوتے ایک روز پارو کو دورہ پڑا۔ یوں کہ اُس نے بدن کے کپڑے پھاڑ ڈالے‘ بال نوچ لیے‘ جبڑے اکڑ گئے اور ہاتھ پاﺅں ٹیڑھے میڑھے ہونے لگے۔
اماں حجن کا خیال تھا ‘ پارو پر جنات کا سایہ ہو گیا ہے۔

تعویذ گنڈے ہونے لگے۔ مزاروں کے چکر کاٹے گئے۔ دھونی دہکائی گئی۔ حصار باندھا گیا۔ چلہ کشی ہوئی۔ مگر جنات کا سایہ ویسے کا ویسا رہا۔

ولایت خان پارو کی اِس کیفیت کو دیکھتا تو دُکھی ہوتا۔ اُسے سمجھ نہ آرہا تھا اس معصوم نے جنات کا کیا بگاڑا تھا جو وہ اس کا پیچھا نہیں چھوڑ رہے تھے۔
پارو کے دورے اور چت کبرے کی تعریفیں ایک ساتھ شروع ہوئی تھیں۔

فضلو نے اپنے بچھڑے کی خوبصورتی اور دودھ میں اِضافے کا ڈھنڈورا یوں ہر کہیں پیٹا تھا کہ ولایت خان نہال ہوتا چلا گیا۔
پھر یوں ہو اکہ نہ صرف اُس کے اپنے گاﺅں بلکہ اردگرد کے مواضعات کے لوگ اَپنی گائیں چت کبرے کے پاس لانے لگے۔
صحت مند بچھڑوں اور بچھیوں کی پیدائش کی خبریں اور بعدازاں دودھ نذرانے آنا‘ معمول بن گئے۔
گھر میں دودھ گھی کی فراوانی نے اُس کے بدن میں مزید نکھار پیدا کیا۔
مگر پارو ‘کہ جس پر پہلے پہل لَسّی بلوتے جنات آیا کرتے تھے ‘اَب موقع بے موقع دوروں میں لوٹنے لگتی تھی۔
جب وہ جنات کے زیر اثر آتی تو عجب عجب حرکتیں کرتی۔ کبھی کبھی یوں لگتا وہ کسی ننھے منے بچے کو پیا ر سے پچکار رہی ہو۔
غالباً یہی وہ حرکت تھی‘ جسے دِیکھ کر اماں حجن نے خیال ظاہر کیا تھا:
” اگر پارو کے ہاں اولاد ہوتی تو شاید اسے دورے اس شدت سے نہ پڑتے۔“
دوروں میں شدت بڑھتی چلی گئی کہ پارو کی گود ہری ہونے کا دُور دُور تک نشان تھا نہ آس اُمید۔

”یہ جو عورت کا بدن ہوتا ہے نا! یہ نرا گورکھ دھندا ہے۔ باہر سے نواں نکور ہوگا مگر اندر نہ جانے کیا کیا روگ پال رکھے ہوتے ہیں۔ اب جو ولایت خان جیسے شینہہ جوان کے ہاں اولاد نہیں ہو رہی تو یقیناً پارو میں کہیں نہ کہیں گڑ بڑ ہے۔“
اماں حجن نے جو کہا سب نے اس پر یقین کر لیا۔
ایک مرتبہ پھر پیروں فقروں کے پاس لے جایا گیا۔ سنیاسیوں کے نسخے اِستعمال ہوئے۔
مزاروں پر منتیں مانی گئیں۔۔۔۔۔۔۔۔ مگر نتیجہ کچھ بھی نہ نکلا۔
پارو اب اپنے لیے آسانی سے تعویذ لینے یا دوا کھانے پر راضی نہ ہوتی تھی۔ اماں حجن کا اصرار تھا۔
”پارو کا علاج ہونا چاہیے۔“
علاج ہوتا رہا مگر اولاد نے نہ ہونا تھا۔۔۔۔۔۔۔۔۔ نہ ہوئی۔
ولایت خان یہ سب کچھ لاتعلقی سے دِیکھ رہا تھا‘ جیسے راضی بہ رضا ہو۔

اُس کے لیے یہ بھی بہت کچھ تھا کہ گاﺅں سے کوئی نہ کوئی فرد اپنے ہاں بچھڑا پیدا ہونے کی خبر سناتا تھا اور دودھ کی بھری بالٹیاں بھیج دیتا تھا۔
دِنوں کا یہی معمول تھا۔ وہ اَپنے صحن میں چِت کبرے کے بدن پر محبت سے ہاتھ پھیر رہا تھا۔ پاس کھڑا‘ ساتھ والے گاﺅں کا ایک شخص اُسے اپنے ہاں صحت مند بچھڑے کی پیدائش کی خبر سنا رہا تھا۔ ایسے میں اُسے برآمدے میں لسی بلوتی پاروکے تڑپ کر گرنے اور چیخنے کی آواز سنائی دی۔ وہ بھاگ کر برآمدے میں آیا۔ پارو چت زمین پر لیٹی ہوئی تھی اور اس کا منھ اَدھ رِڑکے کی جھاگ سے بھرا ہوا تھا۔ چیخیں ہونٹوں پر جم گئی تھیں اور وہ نہایت محبت سے چکنی گیلی مدھانی پر یوں ہاتھ پھیر رہی تھی جیسے کہ وہ ایک ننھا سا بچہ ہو۔

تب ولایت خان نے ایک فیصلہ کیا۔ اپنے قدموں پر پلٹا چت کبرے کو کھونٹے سے کھولا سیدھا ہسپتال جا پہنچا۔

اور جب وہ چت کبرے کے فوطے کچلوا کرواپس پلٹا تھاتو اپنی پشت پر پارو کی بے ہنگم سانسوں کو کرب ناک چیخ میں ڈھلتے پایا۔
لوگ کہتے ہیں:

”وہ پارو کی آخری چیخ تھی جو سنی گئی تھی۔“

لوگ یہ بھی کہتے ہیں کہ اب اُس پردورے نہیں پڑتے مگر لوگ افسوس کرتے ہیں کہ جنات پاروکے سارے لفظ اَپنی گٹھڑیوں میں باندھ کر لے گئے تھے۔
Image: Saeed Akhter

Did you enjoy reading this article?
Subscribe to our free weekly E-Magazine which includes best articles of the week published on Laaltain and comes out every Monday.

Related Articles

قصور میرا بھی ہے شائد

اچانک میرا منہ کھلا اور آتش فشاں پھٹ پڑا، میرے منہ سے سیاسی قائدین خصوصاً اس سیاسی قائد کے بارے میں جس کے گھر کے قریب میں پہنچ چکا تھا کے خلاف نعرے ابلنے لگے۔

The Madness of Readymade Letters[i]

Dr. Javed Jalees, a psychiatrist, has put me to a really difficult test. It is a test of my skill to write,

سرخ شامیانہ - قسط نمبر 3

حسین عابد: کالج غیر معینہ مدت کے لئے بند کر دیا گیا، مبینہ ملزم فرار ہوچکے تھے، ہاسٹلوں کی تلاشیاں لینے کے بعد انہیں گھروں کو کوچ کرنے کا حکم جاری ہوا۔