پاروتی کا نیل کنٹھ (ثروت زہرا)

پاروتی کا نیل کنٹھ (ثروت زہرا)

میں نے دھیرے دھیرے
خواب کی ایک ایک گانٹھ کھولی
اور اس ڈوری کو اپنی گردن پر لپیٹ لیا
میں نے آہستہ آہستہ
تمنا کی شاخ سبز
زندگی کے مرتبان میں ڈال کر
اس کی شاخوں کا لیپ تیار کیا
اور دل کے زخموں پر لگا لیا
میں نے چپکے چپکے
شوق کے رسیلے پھل سے
ایک سانس نچوڑی
اور اپنی پیاس کی کٹوری
۔۔۔۔۔۔ میں انڈیل دی
میں نے سورج کی کرنوں کی حرارت نچوڑی
اور اپنی آنکھوں کے زخمی پپوٹوں کے
درمیان صبح کی خواہش میں دبا لیا
میں نے تمہاری
زلف گرہ گیر سے ایک
نصف دائروی کمان دریافت کی
اور تمہارے دائرے سے باہر نکلنے کا
متحرک زاویہ نکال لیا
Image: Neha Kapil


Related Articles

اسے ہماری شرافت نے جو پالا ہے (ایچ-بی-بلوچ)

اس دنیا میں شاید امن کا کوئی خط نہیں کیونکہ یہ دنیا چاند یا مریخ جیسا کوئی بانجھ گرہ یا

میرے پاس کیا کچھ نہیں

ابرار احمد: تمھاری اس دنیا میں میرے پاس کیا کچھ نہیں ہے
وقت
اور تم پر اختیار کے سوا

اب کوئی آواز آتی نہیں

وجاہت مسعود: جوانی کے کچھ بعد
کان بہت تیز ہو جاتے ہیں
بس ناک اور کان کے بیچ
جھولتا ہوا پل
منہدم ہو جاتا ہے
اور کوئی آواز نہیں آتی