پیشہ ور (ساحر شفیق)

پیشہ ور (ساحر شفیق)

جدائی کا کیلنڈر چھپ چکا ہے
جسے ہم دونوں نے مل کے ڈیزائن کیا تھا

ہم اُس دن پہلی بار ملے تھے
جب پاگل خانے کی چھت پہ پتھر مار کر وقت کو شہید کر دیا گیا تھا
ہم اُس وقت بھی معصوم نہیں تھے
کیونکہ ہم چومنے کے معنی جانتے تھے

ہم نے اپنی پچھلی محبتوں کو جانور ذبح کرنے والی چھری سے کاٹ کر الگ کر دیا تھا
محبت کوئی پیشہ نہیں
یہاں پچھلا تجربہ کسی کام نہیں آ سکتا تھا
ہمیں ایک دوسرے کو رسمی انداز میں الوداع نہیں کہنا چاہیے
اگر تم چاہو تو مجھے کہیں سے بھی چوم سکتی ہو
ایک دوسرے کا ہاتھ پکڑ کر ہمیں دریامیں چھلانگ لگا دینی چاہیے
کیونکہ بیزاری کے اندھے کبوتر نے توقعات کی تتلیوں کو چُگ لیا ہے
اور
دیوار پہ لکھی ہوئی نیند کی آنکھوں میں
بے گانگی کی چمگاڈر بچہ جَن رہی ہے
ہم فاصلے کی طرح بڑھ رہے ہیں

اگر آنے والے وقتوں میں بھی تاریخ لکھنے کا چلن رہا
تو ہمارے بارے میں لکھا جائے گا
کہ ہم نے ایک دوسرے کو کُتے کی طرح سونگھ کر چھوڑ دیا تھا


Related Articles

ہمارے ہاتھوں کا کوئی معاوضہ نہیں

عذرا عباس: ہمارے ہاتھ ایک بار پھر گھاس کاٹنے پر لگا دئیے گئے
ہمارے ہاتھوں کا کوئی معاوضہ نہیں
ہمیں پھر جوتا جائے گا مال بردار گدھوں کے ساتھ
ہمارا خون چوسنے کے لئے

آخری موسم

فیصل عظیم:زینے سے آنے والے کی صورت
دھُند میں کھو جاتی ہے
یخ بستہ سانسوں کے سنّاٹے کا منتر
چُپ کا جادو کرتے کرتے سو جاتا ہے

میرے شہر کی فصیل پہ خدا بیٹھا ہوا ہے؟؟

سدرہ سحر عمران: سیاہ دن کی ڈائری میں ان چہروں کی راکھ
ایک تصویر جوڑتی ہے
جنہیں پچھلے سفر میں راستے لکھا گیا