پھول تمہیں دیکھنے کو کھلتے ہیں (صدیق شاہد)

پھول تمہیں دیکھنے کو کھلتے ہیں (صدیق شاہد)

پھول تمہیں دیکھنے کو کھلتے ہیں
اپنے اپنے موسموں میں
اپنے اپنے ملکوں میں

سرحدوں پہ تعینات فوجیوں پر امام کی تقریریں بے اثر جاتی ہیں
وطن سے محبت اور شہید کا رتبہ
تمہارے خطوں سے افضل نہیں ہو سکتا

تمہارے خط
کچی مہندی اور کنواری رانوں کے مدھ بھرے سندیسے
امیدوں بھری صبحوں کی انگڑایوں اور بدن کاٹتی راتوں کی کروٹوں کے ملبے
نور محمد کو سونے نہیں دیتے

نور محمد
ایک فرض شناس ڈاکیہ
جو لفافوں کو تھوک اور انسانوں کو ملاوٹ سے پہچانتا ہے
جس کی رسوئی میں اناج کی بوریاں گل جاتی ہیں ختم نہیں ہوتی
سو نہیں سکتا

سنتالیس برسوں سے
چھتیس گاؤں اس کی ایمانداری اور نیک سیرتی کی قسمیں کھاتے آئے ہیں

روایتوں میں آتا ہے
نور محمد آخری کنوارہ ڈاکیہ تھا
جسے سلانے کو خود فرشتے آئے

جوابی حملوں میں جوانوں نے اپنے دل داغے
اور کفن میں پرچم کی جگہ تمہاری خوشبو پسند کی


Related Articles

مرکزہ اپنی اکائی توڑتا ہے

قاسم یعقوب: عجب عشوہ گری ایام نے سیکھی ہے موسم کے تغیر سے
زمیں پاؤں کی ٹھوکرپرپڑی ہے
آسماں مرضی کا منظر چاہتا ہے
رتجگے کی شب کروموسوم کی ہجرت پہ پہرہ دے رہا ہے

ریحانے جباری

نصیر احمد ناصر: میں نے قتل کیا ہے
ایک مرد کو
جو میرے جسم میں چھید کرنا چاہتا تھا

یہ شام بکھر جائے گی (ابرار احمد)

ہمیں معلوم ہے یہ شام بکھر جاے گی اور یہ رنگ۔۔۔۔ کسی گوشہ بے نام میں کھو جائیں گے یہ

No comments

Write a comment
No Comments Yet! You can be first to comment this post!

Write a Comment

Your e-mail address will not be published.
Required fields are marked*