پورے نو مہینے کا اجالا؛ سات مختصر نظمیں

پورے نو مہینے کا اجالا؛ سات مختصر نظمیں
پہلی نظم

میں چھوٹی عمر کا
نو مولود ستارہ ہوں
میرا راستہ کیسا اور کتنا ہوگا؟

بالکل چھوٹی جمائی کی طرح
میری ٹمٹمانے اور
میرے رینگنے جتنا
مگر یہ پھر بھی آسمان میں تو ہے.

دوسری نظم

ملاح یہ ملاح
گھرے بلدار لہراتے پانی کے اندر
یا بڑبڑاتی اجھلتی غصیلی
عوامی بھیڑ کے اندر
کتنا بھی گائے گنگنائے
مچہلیاں لطف اندوز نہیں ہو سکتیں

تیسری نظم

کون کہتا ہے
چاندنی چار دن کی ہوتی ہے ؟
پورے نو مہینے کا اجالا
لڑکی کو عورت بنا دیتا ہے
مرد بننے کے لیئے تو
ایک چاند گرہن ہی کافی ہے

چوتھی نظم

پہلے دھواں تھا
بھاپ تھی
ایک کوک تھی
کوئی خاص بات نہیں تھی
بس زندگی کو بار اٹھانے کے لائق سمجھا
وہ ٹرین بنتی چلی گئی

پانچویں نظم

بھوک میں:
ربا او ربا او ربا رے
میری تو شہہ رگ جلنے لگی رے
شششش
ناشکرے
خدا ناراض ہو جائے گا

دھوپ میں:
اماں او اماں
شششش
بے صبرے
تمہارا ابا جاگ جائے گا

چھٹی نظم

ضروری ہے
کہ مور جنگل میں ہی ناچے

ضروری ہے کہ
بھڑوں کے چھتوں میں انگل ڈالی جائے
اکیلے مالھی سے
اتنا بڑا چمن چھین لیا جائے

ضروری ہے کہ
کیکر سے بیر مانگے جائیں
ضروری ہے کہ
چمچہ سینک کر
الیکشن سے پہلے
لوہار کے انگھوٹھے پر رکھ دیا جائے.

ساتویں نظم

اتنے پڑھے لکھے ہو
تمہیں ٹھیک سے جلانا
بتی بھی نہیں آتی
میں ہنس دیا

بات شروع
جہاں سے ہوئی تھی
میں نے اسے وہیں ختم کر دیا
آخر بتی جلانے سے تعلیم کا تعلق؟
میں آگے چل دیا

مگر یہ محض بات نہیں تھی
ختم کیسے ہو پاتی

ایک پروفیسر نے بتایا :
ہر فرد اپنے حصے کا کام
خلوصِ دل اور نیتِ ایمان سے کرے
انسان ؟
انسان ہے انسان سے جڑا ہوا
معاشرہ؟
معاشرے کے بگاڑ کا حل
بس اسی میں ہے چھپا ہوا

میں سوچتا ہوں آج تک
نانی بتی جلنے کڑھنے
اور دماغ کا آپس میں کیا تعلق ہے؟

Image: MARC CHAGALL

Did you enjoy reading this article?
Subscribe to our free weekly E-Magazine which includes best articles of the week published on Laaltain and comes out every Monday.

Related Articles

آسمان کی چھوٹی سی خواہش

انور سین رائے: کچھ نہیں بس اتنا چاہتا ہوں
کچھ دیر کے لیے سمٹ جاؤں
کچھ دیر کے لیے
پاؤں پسار کر آنکھیں موند لوں
اور اس سے پہلے دیکھوں
کیسا لگتا ہے سب کچھ
میرے بغیر

نظم لکھنے سے پہلے ایک نظم

زاہد امروز:کون مرے اِس سچ کو سچا جانے
میرا سچ جو اِس اَن حد باغیچے کے اِک گوشے میں کھِلا ہوا معمولی پھول ہے

شاعری میری ضرورت ہے

قاسم یعقوب: شاعری میری پہچان بننے سے زیادہ
میری ضرورت کو پورا کرتی ہے
میرا شاعری سے وہی تعلق ہے
جوکسی بھیڑ کا اپنی اون سے ہوتا ہے