وزیراعظم خادم رضوی کا پین دی سری قوم سے خطاب

وزیراعظم خادم رضوی کا پین دی سری قوم سے خطاب

اوئے پاکستانیو
تہاڈی پین دی سری

میں آپ کے سامنے آج صرف اس لیے آیا ہوں کہ پین دی سری سپریم کورٹ کا فیصلہ آیا ہے اور اس فیصلے پر چند خنزیروں نے جو ردعمل دیا ہے، جس طرح ان ملعونوں نے راستے بند کیے ہیں کان کھول کر سن لو اوئے کہ راستے کھول دو ورنہ او آیا جے غوری۔

پہلے ایک چیز اچھی طرح سمجھ لو، کان کھول کر سن لو اوئے ۔۔۔۔ اوئے توجہ کرو۔۔۔ بیٹھ جاؤ۔

اب جس طرح کی زبان استعمال کی گئی ہے سپریم کورٹ کے سور ججوں کے خلاف، اور پھر یہ کہنا کہ فوج اپنے کدو شریف نہ کھانے والے سربراہ کے خلاف بغاوت کر دے ۔۔۔ میں پہلے تو ادھر سے شروع کرتا ہوں اپنی حکومت کی پہلے بات کرتا ہوں میں بار بار یہ کہہ چکا ہوں کہ انشاء اللہ پاکستان جب ایک عظیم ملک بن جائے گا تو وہ ممتاز قادری کے جو اصول تھے ان پر چل کر بنے گا۔

پاکستان دنیا کا وہ واحد ملک ہے جہاں عشق رسول کی طاقت سے بجلی پیدا کی جا رہی ہے، جہاں حرمت رسول کے کارخانے قائم ہیں، جہاں توہین مذہب و رسالت کے خلاف پوری امت چوراہوں پر دھرنا دیئے بیٹھی ہے۔۔ دنیا کا کوئی اور ملک ایسا نہیں جو اتنی محنت سے مدینہ کی ریاست کو پاکستان کی ریاست بنانے کی کوشش کر رہا ہو۔ مدینہ کی ریاست کو پاکستان بنانے کا مطلب یہ ہے کہ یہاں کوئی مسلمان انسان کا بچہ نہیں بن سکتا۔

آج تک پاکستان کی کسی حکومت نے نہیں کیا جو ہم نے کیا ہے۔ ہم نے سب سے پہلے کدو شریف کو قومی پھل قرار دیا، ہم نے مسواکوں سے ورلڈ کپ جیتا، ہم نے سب سے پہلے بحر ظلمات کے کنارے دھرنا دیا، مجسمہ آزادی کو برقع ہم نے پہنایا، ابولہول کو داڑھی ہم نے رکھوائی، سب سے پہلے اقوام متحدہ میں دھرنا ہم نے دیا، او آئی سی میں جوتیاں ہم نے چلائیں۔ ہم نے سب سے پہلے گستاخان رسول کو گالیاں دے کر بتایا ہے کہ ہم سے بہتر گالیاں کوئی نہیں دیتا۔

میں یہ سوال پوچھنا چاہتا ہوں کہ کون سا دھرنا کامیاب ہو سکتا ہے کہ جب اس کے راستے میں کوئی اور دھرنا دے کر بیٹھ جائے، کوئی کیسے آسیہ کی پھانسی کا مطالبہ کرنے کے لیے توڑ پھوڑ کر سکتا ہے اگر سب کچھ پہلے سے ہی توڑ دیا گیا ہو؟ اوئے خنزیرو یاد رکھو کہ ملک اس وقت نازک دور سے گزر رہا ہے، قرضے واپس مانگنے والوں پر جو غوری داغنے ہیں ان کا ہرا روغن بڑی مشکل سے ابھی سوکھ رہا ہے، گستاخانہ خاکے بنانے والوں پر جو ایٹمی چپلیں برسانی ہیں ان کے تلوے ابھی مرمت ہو رہے ہیں ایسے میں جو لوگ یہ ایک دلے۔۔۔ ایک دھرنا دینے والے دلے کے پیچھے پیمپر باندھ کر احتجاج کر رہے ہیں کان کھول کر سن لو ہمارے صبر کا امتحان نہ لو۔ ریاست کو مجبور نہ کرو ورنہ ریاست تمہاری ماں بہن ایک کر دے گی۔

اوئے خنزیرو دھرنے دے دے کر، آنسو گیس کی وجہ سے، میرے خص۔۔ے خراب ہو گئے میں نے انہیں ہاتھ سے کھجا کر کہا اوئے ٹھیک ہو جاؤ سیدھے ہو جاؤ ۔۔۔۔فوراً ٹھیک ہو گئے۔ یہ تو ایک راز کی بات ہے جو میں نے بتا دی ہے۔

یہ بھونکتے ہیں کہ ہمارے دھرنے سے موازنہ نہ کرو، اوئے کتو تمہارے دھرنے سے موازنہ کیوں کرنا؟، جہاں ہم نے گالیاں دیں تم پیشاب کر رہے ہو، جہاں ہم نے توڑ پھوڑ کی تم وہاں بم پھوڑ رہے ہو۔ معلوم نہیں تم نے شراب پی ہوئی تھی کہ بھنگ پی ہوئی تھی مجھے تو تمہاری بات کی سمجھ ہی نہیں آئی کہ چار دن ہو گئے تم دھرنا دیئے ہوئے ہو، عاشق رسول ممتاز قادری کے مزار کے سامنے۔۔۔ کیسے سور کے بچے ہیں کہ جن کی وجہ سے عشق رسول کا کاروبار نہیں چل پا رہا، خود ہی بتاؤ پین دی سری ملک کیسے چلے گا اگر ممتاز قادری کے مزار کا چندہ لوٹ لو گے، اگر داتا صاحب کا لنگر چھین لو گے، اور اگر ہمارے منبروں پر قابض ہو جاؤ گے تو عشق رسول کیسے ہو گا؟

کن کھول کے سن لو اگر کسی نے ہمارے دھرنے کے مقابلے پر دھرنا دینے کی کوشش کی، کسی نے ہمارے عشق رسول کے مقابلے پر عشق رسول کرنے کی جرات کی ہماری ایک گالی پر تمہاری دھوتیاں کھل جائیں گی۔ اپنی بوتھی بند کرو ورنہ چھوڈے لا دیاں گے، موچھے پا دیاں گے، نانی یاد کرا دیاں گے، تارے وکھا دیاں گے۔

Did you enjoy reading this article?
Subscribe to our free weekly E-Magazine which includes best articles of the week published on Laaltain and comes out every Monday.
Muhammad Shoaib

Muhammad Shoaib

Muhammad Shoaib is the editor of news section and is responsible to communicate with the correspondents' network of Laaltain.


Related Articles

محبوب بمقابلہ باتھ روم

ہم نے ایک عدد نوکری صرف اسی وجہ سے چھوڑی تھی کہ کل ملا کر 35 مردوزن کے لیے ایک عدد کموڈ سے مزین باتھ روم اور جون جولائی میں مسلم شاور سے کھولتا گرم پانی آیا کرتا تھا۔

ضرورت "اجتہاد" کی ماں ہے

کوئی چیز جو پہلے ہمارے مولوی صاحبان کی جانب سے حرام قرار پائی ہو اور پھر بتدریج حلال بن گئی ہو اس کا ایک اہم ضابطہ و اصول، شرعی نصوص (جو کہ ہمیشہ ایک ہی ہوتے ہیں) سے کہیں زیادہ یہ ہے کہ وہ چیز کسی خاص طبقے اور عوامی ضرورت سے آگے بڑھ کر مولوی حضرات کی ضرورت بن جائے۔

سارا دین داڑھی میں ہے

مفتی صاحب کا مقیاس الایمان ایک ہی ہے، بندے کی مسلمانیاں ہوئی ہوں، شلوار پائنچے سے بلند ہو اور داڑھی مشت بھر سے لمبی ہو۔