پختگی (عظمیٰ طور)

پختگی (عظمیٰ طور)

میں اس سے جب ملی تھی
وہ اپنی عمر کی تین دہائیاں بڑے ہی رکھ رکھاؤ
بڑے سبھاؤ سے
گزار چکا تھا
میں بھی __
بھلا دس برس پہلے
میں عمر کے کس حِصے میں ہوں گی؟؟؟
شاید عمر کے اس حِصے میں
جہاں خواب بنے جاتے ہیں
اور ہر دھاگے کو اپنے ہاتھوں سے
کسا جاتا ہے
میں بہت خاموش رہ کر
بہت کچھ سہہ کر
جب اس تک پہنچی
تو اس کے ساتھ میں نے کئی زمانوں کو
الیوژن کی صورت خود پر بیتتے دیکھا
میں نے بھری دوپہروں میں اس کے ہمراہ
سنسان گلیوں میں
اتنی سائیکلنگ کی کہ ہم دونوں اور ہمارے ساتھی
تمتماتے سرخ چہروں کے ساتھ
سورج سے لڑتے تھے
باغِ جناح کے کئی ٹریک
ہمارے قدموں کو پہچانتے ہیں اب بھی
کئی کلیاں کھلنے سے پہلے ہم توڑ لاتے تھے
کئی بارش کی بوندیں
چھپاک چھپاک ہمارے پیروں تلے روندی جاتی تھیں
ہم ہنستے تھے تو ہوائیں چلتیں
بولتے تو وقت رک جاتا
وہ اب اپنی عمر کی چار دہائیاں بڑے ہی رکھ رکھاؤ
بڑے ہی سبھاؤ سے گزار چکا ہے
اور میں
عمر کے اس حِصے میں ہوں
جہاں
سمجھ پختگی کے دھاگوں سے سِل کر
مکمل اک کتاب بن کر
سامنے آ چکی ہے _!!!
Image: Henn Kim


Related Articles

مستنصر حسین تارڑ سے ایک شکوہ

محمد سعید اللہ قریشی:
یہ وہ دور ہے
صبح دم جس میں بچوں کی خاطر
کوئی چاچا تارڑ ابھی ہست کے باغ میں سانس لیتے ہوئے بھی چہکتا نہیں

درخت

سید کاشف رضا: میرے سینے پر جتنے لفظ اُگے
ان سے میں کچھ اور بنانا چاہتا تھا
مثلاً ایک درخت
جسے کاٹ دیا جائے
تو اس سے میرا خون ابلنے لگے

اپالو اور اتھینا ۔۔۔۔۔ حالتِ التوا میں لکھی گئی نظم

بند آنکھوں سے مرا تو جا سکتا ہے
محبت نہیں کی جا سکتی
محبت موت کا التوا ہے!
محبت زندگی کا اجرا ہے