رشتے کا ایک برس

رشتے کا ایک برس

موسم بیت جاتے ہیں، وقت ہوا ہو جاتا ہے اور انسان وقت کے ساتھ ساتھ اجنبی ہوتے چلے جاتے ہیں، حقیقتوں کے تبدیل ہونے اور حالات کے بدلنے کا یہ سلسلہ زندگی کی سخت زمینوں پر کبھی نہیں رکتا۔ کون کہہ سکتا ہے کہ اس نے اپنی زندگی میں اچھا اور برا، آسان اور مشکل دن نہیں دیکھا۔ زندگی انہیں گورے، کالے سورجوں سے چڑھتی ،بڑھتی اپنے انجام کو پہنچتی ہے اور اک روز آتا ہے جب ہم سب زندگی کے ایک ایسے روشن مستقبل کی آغوش میں کہیں کھو جاتے ہیں جہا ں سے ہماری سانسوں کی حرارت کا سراغ تک نہیں ملتا۔ میں نے کئی بارشیں دیکھی ہیں، کئی راتوں کی الجھنوں کا سکون پیا ہے اور کتنے ہی ان دیکھے خوابوں کی ہوا کا جھونکا اپنے بدن کی مٹی سے لگتا ہوا محسوس کیا ہے۔ مگر میں نےکوئی پانی کی بوند ایسی نہیں دیکھی جس میں خاک کا عکس نہ ہو، کوئی کپاس کا ریشہ ایسا نہیں چھوا جس میں پتھر کی سلیں نہ ہوں اور کوئی راکھ کی آندھی ایسی نہیں دیکھی جس میں گلابوں کی خوشبووں کا مہکتا رنگ نہ ہو۔ اپنی زندگی میں بہت کچھ دیکھنے اور بہت کچھ نہ دیکھنے کے احساس میں میں دور تک گیا ہوں، انجان گلیوں کی خاک چھانتا، نمکین پسینوں کا دھواں تلاشتا اور نئے پتوں کی سرسراہٹ کا نغمہ سنتا، کوئی تھا جو وقت کی اس ریت پر، مجھے ہمیشہ ایک تازگی محسوس کرواتا رہا، میری آنکھوں سے اوجھل، میرے ماضی سے دور اور حال سے آگے۔ کس کو علم ہوتا ہے کہ اس کے خواب کی تعبیر زمین کے کس حصے کی مٹی تلے دفن اس کو پکار رہی ہے۔ وقت گزرتا ہے اور ہم زندگی کے نئے منظر کی نذر ہوتے چلےجاتے ہیں۔وقت کے گزرنے کا احساس بھی نہیں ہوپاتا کہ کب آنکھوں کے پیالوں نے اپنا چراغ خود بجھا دیا، کب بدن کی توانائی کو حالات کی دیمک نے چاٹ چاٹ کر کھوکھلا کر دیا اور کب ان سرمئی اور معصوم خواہشوں کو ہوس کے ناگوں نے نگل لیا جن سے زندگی میں ٹھنڈی ہواؤں کے لچکتے ہوئے تھپیڑوں نے اک رمق پیدا کر دی تھی۔ کئی دن کا خواب ایک دن میں چور ہوتا ہوا دیکھا تو لگا کہ غالبا اب زندگی دوبارہ موقع نہیں دے گی۔ کون اٹھنا چاہتا ہے اس ریت پر سے جس کے ٹیلوں پر بادلوں کا سایہ ہو اور جس کی آغوش میں پانی کی وہی میٹھی کلکاریاں ہوں جن سے جلتے ہوئے جسموں کا دھواں بجھ کر ہوا میں تحلیل ہو جاتا ہے۔ میں نے بھی کوئی سوال نہیں کیا، بس خاموش نظروں سے اس پیالے کو دیکھا اور دیکھتا رہا کہ وقت کی ریت اسی پیالے میں اک روز میرے نورانی دھندلے خوابوں کو سجانے والی ہے۔ دونوں جانب ایک ہلکی سی خاموشی تھی ، جس کے زیر زمیں کئی آوازیں روز بیان کا پتا دیتی ہوئی اپنی زندگی کا اثبات کروانے میں لگی ہوئی تھی۔ میں نے وقت کو ایک سفید گھوڑے پر سوار کیا اور اس کی دم پر ایک آہنی تازیانہ لگا کر اسے ہوا کے سپرد کر دیا۔ اس کا بھی یہ ہی خیال تھا کہ اسی سے ہمیں تسکین مل سکتی ہے۔ پھر وہ سب ہوا جس کا ہم دونوں کو انتظار تھا۔ کچھ سورج میری چھاتی سے اگے، کچھ اس کی ناف کے اندھے غاروں میں مدغم ہوگئے۔ کبھی چاندنی کا دھواں ہماری رانوں کے دمیان کلبلایا تو کبھی ارتعاش اور محبت کے ہوس ناک تیر ہم دونوں کے کلیجوں میں اترتے چلے گئے۔ درمیان میں کنوئیں آئے، جھیلیں پڑیں اور ان جھیلوں سے اچھلتی، کودتی مچھلیوں نے ہمارے منہ چومے، کوئی نہنگ ہماری قدموں کو چھوتا ہوا گزر گیا اور کسی ویل نے ہماری سانسوں کا ریشم نوچ کھنسوٹ دیا۔ ہم سمندر کی گہرائی تک پہنچنے ہی والے تھے کہ آسمان کی تیسری منزل سے کسی نے ہاتھ دے کر ہمیں اوپر اٹھا لیا، کون جانتا تھا کہ رگ جاں کا تصور اسی نارنگی اور سرمئی آستینوں سے لپٹا ہوا ہے۔ کون کہہ سکتا تھا کہ نور کے سائبان تلے ایک خاموش بستی ہےجس میں ہم دونوں کو ایک روز دفن ہو جانا ہے۔ اس نے ذرا سا زور لگایا اور میری پلکوں کا پانی جھڑ کر اس کے شاخ شاخ بدن پر تیر گیا اور میں نے تھوڑی سی کوشش کی اور اس کے پہاڑوں میں سوراخ ہوگئے۔ وہ دن بھی آیا جب میں ہانپتی کانپنی زلفوں کو سہلاتا ہوا ، افشاں کے باریک روشن نکات کو چومتا ہوا گیلی مٹی پر اوندھے منہ سو گیا اور وہ رات بھی آئی جس میں برف کی چٹانوں نے میرے لہوکو مجھ میں جما دیا ۔کبھی کوئی راہ گیر میرا ہمسایہ بنا اور کبھی کوئی جانور میرے قدموں تلے روندا گیا۔ کسی نے پیاس کی شدت میں پانی کا ایک گھونٹ دیتے ہوئے اپنے احسان کی چھریاں میرے گلے پر رکھ دیں اور کبھی یوں بھی ہوا کہ ایک اجنبی خیال نے میرے لبوں پر مسکان دوڑا دی۔ کسی موسم کا میں خواہش مند نہیں، کسی فکر کے الجھاوے کا اسیر بھی نہیں ،لیکن ایک آنکھ نے مجھے ایسا باندھا اور ابرو نے مجھے ایسا کھینچا کہ میں زمین کی آخری پرت تک اترتا چلا گیا اور سویا تو صدیوں کے لیے سوتا ہی رہا کہ سکون کی نیند ابدی تھی اور جاگا تو آسمانوں کی سیر کر لی کہ وقت کا بھنور یہ ہی تھا۔ نہ کوئی لمس ، نہ کوئی چشمہ، نہ کوئی لٹ اور نہ کوئی صدائے دلبر ، ایک برس جس میں تیرتے ہوئے بادلوں کا احساس تھا، جھومتی ہوئی ندیوں کا سرور، کھیلتے ہوئے بچوں کی شرارت اور ناچتے ہوئے مور کی تشنگی،اس کا ہاتھ میری کلائی سے بندھا رہا اور میں اہراموں سے اونچا ہوا کی تاریکی میں معلق ہوتا چلا گیا۔اس کی پلکیوں کی چاندنی میرے کندھوں پر بکھری رہی اور میں رات کے کلیجے سے لگا نیند کی نازکی کو محسوس کرتا رہا۔ ایک دبیز سی لہر، ایک گدگداتی ہوئی موج ،میرے اندر کہیں سفر کرتی اور مجھے ان حقائق سے دور لے جاتی جن کی مشعلوں سے میں برسوں تپتا رہا، اپنی ہی انگلیوں سے اپنے اندرون کو نوچ نوچ کر پارہ پارہ کرتا رہا۔ سب کھو گیا، وقت ہوا ہوا، احساس بجھ گیے ،مگر وہ ایک برس جو ریت کی طرح آیاتھا وہ میری پیشانی کی خواب آور لکیروں میں کہیں جذب ہوگیااورمیرے ستاروں میں شامل ہو کر زندہ جاوید ہو گیا۔

Did you enjoy reading this article?
Subscribe to our free weekly E-Magazine which includes best articles of the week published on Laaltain and comes out every Monday.
Taleef Haider

Taleef Haider

Taleef Haider is a student of M. Phil. Urdu at Jawahar Lal Nehru University. He is a poet and has written many critical essays for various literary magazines.


Related Articles

گل ارباب کے افسانے "داستانِ ہجرت" کا تاثراتی جائزہ

شین زاد: کہانی کے بین المتن جو معانوی نظام تخلیق ہوا ہے اس نے اس کلی متن کو ایک علامت بنا کر ابھارا ہے

کج فہمیاں

ایک بین الااقوامی کارپوریش نے صاف آکسیجن فراہم کرنے کا ٹھیکہ لے لیا۔ایک بین الاقوامی قانون کے ذریعے، جس کے تحت منظور شدہ سلنڈر اور ماسک کے بغیر سانس لینا جرم قرار دیا گیا جس کی سزاعمر قید طے پائی۔

سپاہی تنویر حُسین کی ڈائری - 13 دسمبر 1971- الوداع

بختیار صاحب نے فجر کی اذان دی تو میں جاگ رہا تھا۔ رورو کر میری آنکھیں خشک ہو چکی تھیں،غم سے پتھرا گئی تھیں۔سچ تو یہ ہے کہ پوری پلٹن کا مورال ایک صدمے سے دوچار تھا۔