سات مختصر کہانیاں: محمد جمیل اختر

سات مختصر کہانیاں: محمد جمیل اختر
قسمت

پہلی سیڑھی پرڈرکم تھا، درمیان میں خوف کچھ اوربڑھ گیااورآخری سیڑھی پراُس کی ٹانگیں کانپنے لگی تھیں۔
’’آخری سیڑھی کے آگے لہراتے پردے کے پیچھے کیا ہوگا، کیوں نا یہیں سے واپس لوٹ جاؤں؟
اب آگیا ہوں تو واپس کیا جاناکچھ نا کچھ تو لے کرہی جاؤں گا‘‘۔اُس نے سوچا
وہ بھوکاتھا اور اُس نے کئی گلیاں چھان ماری تھیں صرف اِسی گھر کا بیرونی دروازہ کُھلا تھاسو اُس نے سوچاکہ اِس سے اچھا موقع چوری کا بھلا کیا ہو سکتا ہے ۔
اُس نے ہمت کرکے آخری سیڑھی کے آگے لٹکتاپردہ سرکایا لیکن کسی نے اُس کا ہاتھ پکڑلیا۔
’’ کون؟‘‘ اُس نے آہستہ سے کہا
’’ تم کون ہو؟‘‘ دوسری طرف سے سرگوشی ہوئی
’’میں مُسافرہوں ‘‘
’’ بکواس، چور ہو تم‘‘ دوسرے شخص نے کہا
’’ ہاں، مگر، نہیں ، وہ پہلی بار، وہ بھوک۔۔۔۔‘‘ اُس کے الفاظ گُم ہوگئے
’’ہاں، ہاں، مجھے سب پتا ہے ، چلو اِدھرسے کہیں اور قسمت آزمائیں، کوئی سالا ہم سے پہلے ہی ہاتھ دِکھا گیا ہے ‘‘۔۔۔

محاذ پر

’’ پہلے کسی محاذ پرگئے ہو؟‘‘
’’نہیں سر‘‘
’’تویہ پہلی دفعہ ہے ؟‘‘
’’جی سر‘‘
’’ ڈر رہے ہو؟‘‘
’’نہیں سر‘‘
’’جھوٹ بولتے ہو؟‘‘
’’نہیں سر، تھوڑا ساڈرہے ‘‘
’’کوئی یاد آتاہے ‘‘
’’جی سر‘‘
’’کون؟‘‘
’’اپنے بچے سر‘‘
’’فائر کھول دو جوان‘‘
’’آگے بچے ہیں سر‘‘
’’خیرہے ، دُشمن کے ہیں ۔۔۔‘‘

پتھرکی سِل

بیٹی کی پیدائش پر اُسے آدھی رات کو گھر سے نکال دیاگیاتھا۔
پیچھے والادروازہ مرنے کے بعدکُھلنا تھااورآگے کا دروازہ بیٹے کے بغیرنہیں کُھل سکتاتھا۔۔۔صبح اُس کے شوہر نے دروازہ کھولاتو باہرایک پتھرکی سِل پڑی تھی جس کے اوپر پتھرکی آنکھیں اورہونٹ بنے ہوئے تھے ۔
شوہر نے کہا ’’ اندرآجاؤ، سردی سے برف ہوجاؤ گی ‘‘
پتھرکی سِل نے کوئی جواب نہ دیا۔
شوہر نے پتھرکی سِل کو اٹھایااور روتے ہوئے کہا
’’ آہ ! میری بیوی کو ٹھنڈ لگ گئی ہے ‘‘ اور اُس نے اُسے اٹھا کرباقی سِلوں کے نیچے رکھ دیا۔۔۔

اُلٹ

’’جج صاحب ! یہ فیصلہ اُلٹ ہے ، آپ نے دائیں سمت کو بائیں اور بائیں کو دائیں لکھ کر تمام فیصلہ تبدیل کردیا ہے اور میں مجرم ثابت ہوگیا ہوں ‘‘ کٹہرے میں کھڑے ملزم نے کہا
’’ فیصلہ درست ہے ‘‘ جج نے کہا
’’ جناب سمتیں غلط ہیں ‘‘
’’ فیصلے میں ہرسمت درست ہے ‘‘
’’ لیکن جناب واردات دوسری سمت سے بڑے صاحب نے کی تھی اور ان کو آپ نے بری کردیا ہے ‘‘
’’ وہ صاحب بے گناہ تھے ‘‘
’’یہ فیصلہ الٹ ہے جج صاحب میرا یقین کریں ‘‘
’’فیصلہ ابھی مکمل نہیں ہوا، قید بامشقت کے ساتھ عدالت یہ حکم بھی سُناتی ہے کہ تمہیں جیل میں روز اُلٹالٹکایا جائے تاکہ تمہیں سیدھا دکھائی دینے لگے ‘‘

گھڑی اور وقت

اُس شخص کا خیال تھا کہ وقت بدلے گااور اُسے اِس بدلاؤ کا اِس شدت سے انتظار تھاکہ وہ گھڑی کے اندر ہی رہنے لگ گیاتھا۔
وہ صبح اٹھتا، وقت دیکھتا، گھڑی کی سوئیاں روز بدل جاتی تھیں لیکن وقت وہیں کا وہیں تھا۔
ساری رات وہ بدلے ہوئے وقت کے خواب دیکھتارہتاتھا۔ گھڑیاں دنوں اور سالوں میں ڈھل گئیں اُس کے بال سفیدہوگئے وہ تھک گیااوراُس نے سوچاا ب وقت کبھی نہیں بدلے گاسو مجھے گھڑی سے باہر نکلنا چاہیے اور وہ چھڑی کے سہارے گھڑی سے باہر نکلاتو اُس کی بدلے ہوئے وقت سے ملاقات ہوئی۔

شیش محل

اُس کو وراثت میں شیشے کا گھر ملا تھاجس کو وہ بہت احتیاط سے سنبھال کر رکھتا تھا لیکن آئے روز کوئی نا کوئی پتھر مار کر چلاجاتا۔۔
صبح کو وہ مرمت کرتاتورات کوکوئی پتھر اُٹھائے آجاتا، حتٰی کہ بعض دفعہ سوتے ہوئے بھی شیشے کے گھر پر حملہ ہوا تھا۔
اُس نے باہر ایک بورڈ لگوا یا۔
’’ براہِ مہربانی یہاں پتھرمت ماریں ‘‘
لوگوں نے بورڈپر لکھی تحریرکو یکسرنظرانداز کردیا۔
ایک روز تنگ آکراُس نے شیش محل کے باہر پتھر کی دیواریں چڑھادیں ۔

چھڑی

’’ مُسکراؤ‘‘
’’ جناب ! آپ کے ہاتھ میں چھڑی ہے ‘‘
’’تمہیں ضروں خوش رہناہوگا‘‘
’’ جی مجھے چھڑی سے ڈر لگتاہے ‘‘
’’میں کہتاہوں ہنسو‘‘
’’یہ دیکھیں میں چھڑی سے زخمی ہوگیاہوں ‘‘
’’ہنسو ورنہ میں مارڈالوں گا‘‘
’’جی اچھا ہنستاہوں ‘‘
ایک قہقہہ کہ جس میں آنسو اوردکھ شامل تھا۔
’’ آہا ! یعنی اب تم خوش ہو‘‘
’’جی ہاں، لیکن میں زخمی ہوگیا ہوں ‘‘
’’ہنسو اور ہنستے رہو‘‘
’’ جناب میں اِس سے زیادہ نہیں ہنس سکتا، تکلیف ہوتی ہے ‘‘
’’کمبخت نوکر تم کوئی بھی کام ٹھیک سے نہیں کرتے ‘‘
Image: Marc Chagall

Did you enjoy reading this article?
Subscribe to our free weekly E-Magazine which includes best articles of the week published on Laaltain and comes out every Monday.

Related Articles

مظہر حسین سید کی دو کہانیاں

مظہر حسین سید: گولی پیٹ کو چیرتے ہوئے گزر گئی تھی۔ شدید درد اور جلن کے احساس کے ساتھ معلوم نہیں وہ کتنے منٹ تک سرپٹ بھاگتا رہا اندھا دھند جھاڑیوں اور درختوں سے ٹکراتے ہوئے وہ مزید زخمی ہو چکا تھا ۔ اُس کی چیخیں پورے جنگل میں گونج رہی تھیں۔ دوڑتے دوڑتے وہ بے دم ہو کر گرا اور بے ہوش ہو گیا۔

دائرہ

اسد رضا: مجھے وہاں تقریر کرنے کے لئے بھیجا گیا تھا۔ میں یہ نہیں جانتا تھا کہ مجھے کس نے بھیجا ہے اور نہ ہی یہ کہ میرے سامع کون ہوں گے۔

جنگل اور دوسری کہانیاں

محمد جمیل اختر: " چوہدری صاحب مبارک ہو آپ الیکشن جیت گئے وہ اب کچی بستی کا کیا کرنا ہے؟ " چوہدری صاحب کے پی اے نے کہا
" وہاں تو اب پلازہ بنانا ہے"