سچ ہی،کہنے والےکا سچ ہے

سچ ہی،کہنے والےکا سچ ہے

میں نے بہت غور کیا، ادھر ادھر سے باتوں کو جان کر، انہیں جمع کر کے، ان کی تلاش میں ان کے ساتھ سفر کر کے یہ جانا کہ ایک انسان میں اور ایک بولنے والے یا کہنے والے شخص میں صرف یہ فرق ہے کہ وہ سچ بولتا ہے، بولنے والے کوئی مبہم یا پیچیدہ اصطلاح نہیں یہ کسی بھی ادیب پر صادق آ سکتی ہے، بس مسئلہ اتنا ہے کہ میں اس لفظ ادیب کا استعمال نہیں کرنا چاہ رہا تھا۔ زندگی کے عام حالات میں سچ ایک مسئلہ ہےجسے لوگ چھپاتے ہیں یا یوں کہیے کہ ظاہر کرنے سے گھبراتے ہیں۔ ان کو اس بات کا ڈر ہوتا ہے کہ سچ ان کی لٹیا ڈبو دے گا۔ ان کے معمولات زندگی کو خراب کرے گا،کیوں کہ سچ اتنا ہی سفاک اور غیر نفع بخش ہوتا ہے۔ مگر سوچنے والے اس بات کو سمجھتے ہیں کہ سچ کا ساتھ دینا اتنا بھی مشکل نہیں۔ اس سچ کے ساتھ میں سیاست کی مہک ہے مگر یہ خالص غیر سیاسی جملہ ہے۔ بولنے والا بول دیتا ہے، سوچ لیتا ہے اور بڑی بات یہ ہے کہ عملی طورپر سچ پہ عمل بھی کر گزرتا ہے۔ یہ کسی نیکی کا حصہ نہیں، بس ظاہر ہونے کا ایک طرز ہے۔ جس میں سچ بولنے والے کو اطمینان حاصل ہوتا ہے۔ اسے معلوم ہوتاہے کہ غیر سچ آسان اور منافع بخش ہے یا کم سے کم درجے میں غیر سچ کی جگہ خاموشی اس کا کام کرتی ہے، لیکن اس کو ایک طرح کیرو کہا جا سکتا ہے،جس میں بولنے والا بہک جاتا ہے۔ پھر کہتا ہےاور لکھ بھی دیتا ہےتاکہ اسے حال، ماضی اور مستقبل سبھی جان لیں۔ سچ تو یہ بھی ہے کہ سڑکوں پر چیخنے والے، اجنبیوں کی ٹولی میں ہاتھ اٹھا اٹھا کر نعرے لگانے والے اور نم آنکھوں سے دوسروں کی قبروں پر آنسوں بہانے والے عام طور پر اتنے سچے نہیں ہوتے جتنے وہ لوگ ہوتے ہیں جو مجمع میں دوسروں کے لبوں پر مسکراہٹ بکھیرنے کے لیے اپنامذاق اڑاتے ہیں، کسی مظاہرے کے جلوس کی بھیڑ پر ایک کونے میں کھڑے مسکرا رہے ہوتے ہیں یا کسی عورت سے گالیاں کھا کر بھی بے مزا نہیں ہوتے ہیں۔ یہ کوئی کلیہ نہیں ہے، عین ممکن ہے وہ بھی جھوٹے ہی ہوتے ہوں، مگر سچ کا اادراک ایسوں میں سے بیش تر کو ہوتا ہے۔ایسے سچوں کا سراغ لگانا ذرا مشکل ہے، مگر واقعتاً ایسے سچوں کا وجود ہے، اس سے انکار نہیں کیا جا سکتا۔ بہت سی باتیں جو رسمی انداز کی محفلوں میں نہیں کہی جا سکتیں ان کو ہنستے ہوئے کہہ جانے والے لوگ اسی قبیل کے ہوتے ہیں اور ان کی ادا کیے ہوئے جملوں پر ناک بھوں چڑھانے والے دوسرے قبیل کے۔ ان سچوں کی شناخت ایک مشکل امر ہے۔لیکن جہاں آپ کو کوئی ایسا شخص نظر آئے گا خواہ وہ زندہ ملے یا کتابوں کے اوراق میں دبا کچلا، اس کی سچائی سے آپ بعض اصولی باتوں کو پیش نظر رکھتے ہوئے واقف ہو جائیں گے۔ اول تو یہ کہ اس کے یہاں تصنع نہیں ہوگا اور دوسری بات یہ کہ اس نے وہ کچھ کہا ہوگا جو آپ کو آپ کے اساتذہ نے نہیں بتا یاتھا۔

سچ بولنے اور سچ کادکھاوا کرنے والوں میں ایک بڑا فرق یہ بھی ہے کہ سچوں سے آپ محبت کریں گے اور اس دکھاوا کرنے والوں سے ڈریں گے۔ میں بھی ایسے کچھ خطر ناک سچوں کو جانتا ہوں جو میرے خواب میں آتے ہیں۔ دراصل سچوں کی سب سے اچھی بات ہی یہ ہے کہ ان کا جھوٹ بھی سچ ہوتا ہے۔ یہ جملہ صرف کہنے کے لیے نہیں کہا گیا ہے، بلکہ عام حالات میں ہم اور آپ اس کا بہ آسانی معائنہ کر سکتے ہیں۔ کوئی ایسا شخص جس کے دل میں کسی کا خوف نہ ہو، کسی سے مراد کسی کا نہیں، جس میں مذہب، رسم و رواج اور بناوٹ سب شامل ہیں، ایسے شخص کی گفتگو سے ہمیں انسانی کمزوریوں اور بے ثباتی، کم مائیگی اور محدود دائرہ عمل کی کہانیاں سننے کو ملیں گی وہ حقیقتاً سچا ہوگا۔ اسے معلوم ہوگا کہ انسان کی حقیقت کیا ہے۔ وہ لا علم نہیں ہوگا، بلکہ علم کی بنیاد پر اس کے یہاں ایک طرح کی بے اعتنائی نظر آئے گی۔ اس کی گفتگو میں مایوسی نہیں ہوگی، بلکہ اس حقیقت کی روشنی نظر آئے گی کہ دنیا کو سوائے خدا کے کوئی نہیں بدل سکتا ہے۔ اسے معلوم ہوگا کہ انسان بہت دھیمی رفتار سے چلتا ہے، اتنی دھیمی کہ اپنے کیے کا اثر خود نہیں دیکھ پاتا، اپنے عمل سے خود فیضیاب نہیں ہوپاتا اور اپنے دائرہ علم سے کبھی باہر نہیں آ پاتا۔ گھونگے میاں کی رفتار سے بھی دھیمی گتی سے چلنے والا انسان جم مجمع کی صورت اختیار کرتا ہے تو مزید دھیما ہو جاتا ہے، لہذا ایسی حالت میں کسی ایک عمل پر فخر کرنا، کسی ایک خیال کو عظیم سمجھنا اور کسی انقلابی صورت حال تک خود کو محدود رکھنا کتنا بڑا سچ ہے اسے اس کا ادراک ہوتا ہے۔ لہذا وہ صورت حال کو بدلنے سے زیادہ اس پر مسکرانے کو ترجیح دیتا ہے۔ ہیبت ناک حادثات اور واقعات پر سچ بولنے والا مسکراتا ہے۔ طنزیہ انداز میں نہیں،بلکہ طربیہ انداز میں۔ مجمع میں کہیں گم، کسی چھوٹی سی دنیا میں محنت، مزدوری کرتا اور کسی کارخانے یا سلائی کی دکان پر بیٹھا ہوا کوئی بھی شخص ایسا سچا بولے والا ہو سکتا ہے۔جسے لوگ نقصان پہنچاتے ہیں اور وہ مسکر کر سچ کہہ دیتا ہے،معاشی ابتری میں مستقل ملوث ہوتا ہو سچ کہتا چلا جاتا ہے۔ پھر خاموش ہو جاتا ہے۔ مگر اس خاموشی کے باوجود بھی اس کے سچ کہنے کا عمل کبھی نہیں رکتا۔ لہذا ایک ادیب خاموش رہ کر بھی سچ کہتا ہے اس کی خاموشی کسی معاشرے کی سچائی کو لاکھ غیر سچ بولنے والوں سے زیادہ بیان کرتی ہے اور وہ اس حالت میں بھی تصنعات سے پاک رہ کر سچ کہتا رہتا ہے اور یہ ہی سچ اس کی شناخت ہوتی ہے۔

Did you enjoy reading this article?
Subscribe to our free weekly E-Magazine which includes best articles of the week published on Laaltain and comes out every Monday.

Related Articles

کوا چلا ہنس کی چال، اپنی چال بھی بھول گیا! ۔

تصور کیجئے کہ موجودہ پاکستانی میڈیا اگر سن اکہتر میں بھی یوں ہی سب سے پہلے سب سے تیز ہرخبر پر نظر رکھے ہوئے لمحہ بہ لمحہ ارض و سما اور دنیا بھر کی خبروں کے سہارے جیو اور جینے دو کی پالیسی پر عمل پیرا ہوتا ،تو مشرقی پاکستان ٹوٹنے کی خبر کیسے نشر کرتا؟

پاگل خانہ

محترم مبشر علی زیدی صاحب، آپ کی سو لفظوں کی کہانی "غلط فہمی" پڑھی تو سوچا کہ میرے ساتھ جو مسئلہ ہے وہ آپ کو لکھ کر دیکھ لوں شاید آپ میری کچھ مدد کرسکیں۔

مولاناکچھ ذمہ داری تو بنتی ہے

جنید جمشید کے کچھ کہنے یا سننے کا وقت گزر چکا ہے، معافی مانگنے کے باوجود ان سے متعلق تین ہی خبروں کا اندیشہ ہے؛قانونی کاروائی ،ملک سے فرار، یا کسی نئےممتاز قادری کے ہاتھوں کسی اندوہناک سانحہ کا سامنا۔