صدف فاطمہ کی دو نظمیں

صدف فاطمہ کی دو نظمیں
نظم۔1

تمہارے شکستہ بدن اور اگلی ہوئی روح سے
کنوارے خنجر سے لگنے والے یہ زخم مندمل نہیں ہو سکتے
نہ ہی چھچھلے نمکین پانی سے پاکی ملے گی
میں ایک سیال ہوں
پاک ہونا ہے،مجھ میں سماؤ
زخموں کو بھرنے کی خاطر نمک ہے
دریا نمک کا ،
آؤ سماؤ
پاکی ملے گی

نظم۔2

رات جھپکی نہیں آنکھ
وحشت سفر کرکے آنکھوں میں اتری ہو ممکن ہے
نوحہ کیا ہو نگاہوں نے
بجھتی ہوئی ہر نظر کا
آس کی ان مزاروں پہ
بیٹھی ہوئی یہ مجاور ہیں آنکھیں
خواب تھے ہی کہاں
جس کی خاطر نگاہوں پہ پہرہ بٹھاتے
مگر
ایک الھڑ سا دربان ہے
ان بوسیدہ فصیلوں پہ ٹھہرا ہوا
اس دیے کی حفاظت میں
جس کا ہالہ بنا ہے وفا کی شعاع کا
رخ سیلاب آور دریا کی جانب ہے
اور الھڑ سا دربان بوسیدہ فصیلوں کے ڈھ جانے کے خوف میں
قدموں کو گاڑے ہوئے
ڈھا رہا ہے
Image: Roberto Matta

Did you enjoy reading this article?
Subscribe to our free weekly E-Magazine which includes best articles of the week published on Laaltain and comes out every Monday.
Sadaf Fatima

Sadaf Fatima

صدف فاطمہ اردو زبان کی نئی نسل سے تعلق رکھتی ہیں، یہ اردو میں افسانے بھی لکھتی ہیں اور شعر بھی کہتی ہیں، ان کا اردو زبان و ادب اور اسلامیات کا مطالعہ خاصہ وسیع ہے، اردو میں تنقیدی اور تحقیقی مضامین بھی لکھتی رہی ہیں۔ بنیادی طور پر لکھنو کی رہنے والی ہیں، مگر ان دنوں جواہر لعل نہرو یونیورسٹی، نئی دہلی سے ایم فل کر رہی ہیں۔


Related Articles

اے میری، سردیوں کی دھوپ سی، شیریں محبت!

کومل راجہ: اے مجھ پر
سخت جاڑے کے دنوں میں مسرتیں لے کر
اترنے والی جامنی محبت!

ہمیں اس جنگ سے کس دن مفر تھا

قسم رب کی
اور اس سب کی
جسے اس پالنے والے نے پالا ہے
ہمیں اس جنگ سے کس دن مفر تھا
مگر یہ کہ
عباؤں میں تمہارا اپنی تلواریں چھپانا
اور سجدوں میں ہمارا قتل ہو جانا
روایت ہے

شہر اب ہم سے مخاطب نہیں ہوتا

ہم۔۔۔۔ اپنے آپ کو شہر میں چھپانے کی کوشش کرتے ہیں
تو۔۔۔ ہمیں تلاش لیتی ہے
کوئی نہ کوئی سڑک!!