سمندر، ڈالفن اورا ٓکٹوپس (عامر صدیقی)

سمندر، ڈالفن اورا ٓکٹوپس (عامر صدیقی)
مزید مائیکرو فکشن پڑھنے کے لیے کلک کیجیے۔

’’یوپی، ناگن چورنگی، حیدری، ناظم آباد، بندر روڈ۔۔۔۔۔۔۔۔ کرن۔۔"
کنڈیکٹر کی تکرار سن کر اچانک وہ اپنے خیالات سے باہر نکل آیا۔
’’کرن؟ کیا اس کی منزل آگئی۔۔ـ‘‘ اس نے سیٹ پر سیدھا ہوتے ہوئے باہر جھانکا۔۔۔۔
’’بندر روڈ سے اگلا اسٹاپ بولٹن مارکیٹ کا ہی ہوتا ہے۔ سمندر تو ابھی کچھ دور ہے۔۔۔ مگر پھر میرے ذہن میں کرن کا نام کیوں آیا۔ کیا کنڈیکٹر نے صدا لگائی تھی؟ یابس یوں ہی۔۔۔۔۔‘‘
بس ابھی بھی بولٹن مارکیٹ پر ہی رکی ہوئی تھی۔۔۔ وہ دوبارہ سیٹ پر ڈھے گیا۔۔ پھر، ایک گہری سانس بھرتا ہوا۔۔۔ گہری سوچوں میں گم ہو گیا۔۔۔۔۔۔

’’تم تو سمندر تھے۔‘‘
’’تم بھی تو اس سمندر کی واحد ڈالفن۔‘‘

’’تم سمندر نہ رہے۔‘‘
’’تم نے اور پانیوں کی تلاش کر لی۔ اس سمندر کو چھوڑ کر۔ اور میں شاید بھول گیا تھاکہ سمندر کے اطراف آکٹوپس بھی تاک میں کھڑے ہیں۔‘‘

سیٹ یکایک، ایک ہائی ٹیک سیٹ میں اور بس خلائی راکٹ تبدیل ہوچکی تھی اور بے پناہ رفتار سے کرہ ارض سے باہر نکل کر اب چاند کے پاس سے گزر رہی۔۔۔۔۔۔
"چاند۔۔۔۔۔۔۔کرن۔۔۔۔ چاند۔۔۔"
اس نے بے اختیار ہو کر دروازہ کھولا اور باہر نکل کر اسے اپنی گرفت میں لینا چاہا۔۔۔۔۔۔ مگر چاند اس کا ارادہ بھانپ چکا تھا۔ وہ کنی کاٹ گیا۔۔۔ اورکچھ فاصلے پرجاکر طنزیہ انداز میں ہنسنے لگا۔۔۔۔۔اچانک خلا کی یخ بستہ تاریکی اس کے اندر سما گئی۔۔۔ وہ منجمد ہو گیا اور تیزی سے نیچے گرنے لگا۔۔۔۔
"ٹاور۔۔ ٹاور "
وہ چونک پڑا۔منزل تک لے جانے والا اسٹاپ یعنی سمندر اب سامنے ہی تھا، وہ تیزی سے نیچے اتر گیا۔۔۔اسے نیچے اترتا دیکھ کر اس کے اور کرن کے درمیان حائل خون آشام آکٹوپس چاروں جانب سے اس کی سمت لپکنے لگے۔ اور اسے نگل گئے۔۔۔۔۔
Image: Vasko Taskovski

Amir Siddiqui

Amir Siddiqui

عامر صدیقی شاعر افسانہ، افسانہ نگار، محقق اور مائکرو فکشنسٹ ہیں۔ آپ کی متعدد کتب شائع ہو چکی ہیں اور پندوستان اور پاکستان کے متعدد ادبی رسائل میں آپ کی تحاریر شائع ہو چکی ہیں۔


Related Articles

سات مختصر کہانیاں: محمد جمیل اختر

محمد جمیل اختر: اُس کو وراثت میں شیشے کا گھر ملا تھاجس کو وہ بہت احتیاط سے سنبھال کر رکھتا تھا لیکن آئے روز کوئی نا کوئی پتھر مار کر چلاجاتا۔۔

سیاہ گڑھے اور دیگر مائکروفکشن (عامر صدیقی)

سیاہ گڑھے وہ ایک خونی لٹیراتھا۔ اس کے سر پر انعام تھا، اس کی موت یقینی تھی اور اس وقت

سائن بورڈ اور دوسری کہانیاں

جنید الدین: آپ کتاب کو بند کر کے نارمل ہونے کی کوشش کرتے ہیں اور یا تو سو جاتے ہیں یا ماں کے پاس بیٹھ جاتے ہیں اور انتظار کرتے ہیں کہ وہ کوئی ایسی بات کرے گی جسے سن کے آپ ہنسنے لگیں گے اور سوچیں گے وہ کتنی معصوم ہے۔