سماعتوں کے اندھیرے (عظمیٰ طور)

سماعتوں کے اندھیرے (عظمیٰ طور)

میں ان سماعتوں سے بھی واقف ہوں
کہ جو گفتار کی بیساکھیاں تھیں
مگر ٹوٹ چکی ہیں
اب کسی کو کسی کے سہارے کی ضرورت کہاں ہے
میں اس سماعت کے مفلوج ہونے کی بھی گواہ ہوں
جو گفتار کو اپاہج سمجھ کر
خود اپنی ہی سناٹوں میں گونجتی اپنی آوازوں سے محظوظ ہونے کی عادی ہے
میں جانتی ہوں اس دکھ کو
جو میرا ہے
اور صرف میرا ہے
جہاں سماعتوں کے اندھیروں سے جوجتے کئی ہیں
جن کے *ہاتھ بولتے ہیں
میں ان اندھیروں کی قسم کھاتی ہوں
میرے پیارو !
اس دنیا کو سننا اتنا بھی آسان نہیں تھا
سو تم تسلی رکھو
اس اذیت کو سنبھل کر جھیل لو
یہ اپنی آوازیں سننے کی عادی سماعتوں کی دنیا ہے
تم تسلی رکھو کہ تم
کم از کم اپاہج نہیں ہو __!

*sign language


Related Articles

خدا یہاں تو نہیں ہے

جسم سجدے تان کر لیٹا ہے
مگر
خدا یہاں تو نہیں ہے

بھوک ہڑتال کی مکمل گائیڈ اور دیگر عشرے

جنید الدین: شاہدرہ سے گجومتہ جانے تک
میٹرو کتنا وقت لیتی ہے
نصرت کی تین چار قوالیاں، عطاء اللہ کے پانچ چھ گانوں جتنا

تری خیر انارکلی۔۔

(اختر عثمان) تری خیر انارکلی تو جنموں لیکھ جلی نورتن ترے درپَے ہی رہے دیوار میں چنوا کر نہ جیے

No comments

Write a comment
No Comments Yet! You can be first to comment this post!

Write a Comment

Your e-mail address will not be published.
Required fields are marked*