سیدھی بارش میں کھڑا آدمی (حسین عابد)

سیدھی بارش میں کھڑا آدمی (حسین عابد)

بارش بہت ہے
وہ ٹین کی چھت کو چھیدتی
دماغ کے گودے میں
اور دل کے پردوں میں
چھید کرتی
پیروں کی سوکھی ہڈیاں چھید رہی ہے
میں چاہتا ہوں
چھت پہ جا کر لیٹ جاوں
اور سوراخوں کو
چھلنی وجود کے بوجھ سے
بند کردوں
مگر
سیدھی بارش کی میخوں نے
پاوٗں
بہتے فرش میں گاڑ دیئے ہیں
Image: Victor Calahan

Did you enjoy reading this article?
Subscribe to our free weekly E-Magazine which includes best articles of the week published on Laaltain and comes out every Monday.
Hussain Abid

Hussain Abid

Poet and Musician Hussain Abid, was born in Lahore and is currently living in Germany. His poetry collections; "Utri Konjain", "Dhundla'ay din ki Hidat" and Behtay Aks ka Bulawa" have been praised by the general audience and the critics alike. Hussain Abid collaborated with Masood Qamar to produce "Kaghaz pe Bani Dhoop" and "Qehqaha Isnan ne Ejad kia". Abid's musical group "Saranga" is the first ever musical assemble to perform in Urdu and German together.


Related Articles

کچھ مرنے کے لیے زندہ چھوڑ دیے گئے ہیں

نصیر احمد ناصر:
موت کسی کے دل میں نہیں تھی
لیکن مارے گئے
جو بچ گئے
وہ کیمپوں میں
مرنے کے لیے زندہ چھوڑ دیے گئے ہیں
پتا نہیں انہیں کب، کہاں اور کیسے موت آئے گی

خدا ایک آنسو مِرا بارشوں میں بہا دے

نصیر احمد ناصر: خدا، میری آنکھوں کو نظمیں بنا دے
خدا، میری نظمیں کہیں دور دیسوں کو جاتے
پرندوں کی ڈاریں بنا دے

آج اسی خوشی میں بم بانٹو

زیادہ چاٹو یا کم چاٹو
جب بھوک لگے تو بم چاٹو
زیادہ پہنو یا کم پہنو
کپڑوں کی جگہ بهی بم پہنو