Self Actualization (حمیرا فضا)

Self Actualization (حمیرا فضا)

میں اکثر اعتراف کر جاتی ہوں تم ایک اچھے مرد ہو
تم بھی ماننے پر مجبور ہوجاتے ہو میں ایک اچھی عورت ہوں
مگر تم نے کبھی سوچا ہے!
تمھاری باتیں ہر سمے خوشبوؤں سے بھیگی نہیں رہتیں
نہ وقت کی وصیت میں تم مجھے اُتنا حصہ دیتے ہو جتنا تم نے مجھے لکھ کر دیا تھا
تم نے کبھی دیکھا ہے!
میں بھی وعدوں اور قسموں کے دریا کا صرف ایک حصہ پار کر پائی ہوں
پھر بھی اقرار عنایت احساس کے تحفوں کی میں خود کو زیادہ حقدار سمجھتی ہوں
لگتا نہیں مگر سچ یہی ہے
ہم کہانی بن چکے ہیں
مگر لیلیٰ مجنوں ہو نہیں سکتے
پچھلی چھٹیاں ہم نے پھولوں کے ساتھ گزاری تھیں
پر اِن چھٹیوں سے پہلے ہی ساری خوشبو ختم ہو چکی ہے
کتنی طویل راتوں میں ہم ستاروں کی محفل میں بیٹھے ہیں
مگر تمھاری جیب اور میرے پرس میں روشن لمحوں کی کوئی بچت نہیں ہوتی
جنوری کی پہلی تاریخ پر ہم خوشیوں کی کمیٹی ڈالتے ہیں
اور اکتیس دسمبر تک ایک دوسرے کو گنتی کی مسکراہٹیں دے پاتے ہیں
یوں تو تم فائلوں کے پاس اور میں کچن کی شیلف کے کونے پر خاص دنوں کی فہرست رکھتی ہوں
لیکن زندگی کے ریڈیو پر یاد کا وہ نغمہ ضرورتوں کے گیت کے بعد ہی آتا ہے
ہمیں مان لینا چاہیے کہ ہم محبت کا سمندر نہیں
بس ایک قطرہ ہیں
اور محبت کی ہارٹ بیٹ نارمل رکھنے کے لیے وہی ایک قطرہ ہی کافی ہے
اگر سنبھال لیا جائے ــــــــــــ
Image: Henn Kim


Related Articles

آدمی زندہ ہے، آدمی زندہ ہے!، آدمی زندہ ہے؟ (زاہد امروز)

ریڈیو گا رہا ہے ‘‘ماٹی قدم کریندی یار’’ ماٹی قتل کریندی یار آدمی سو رہا ہے آدمی ٹھنڈی لاشوں کے

کاشی

ورشا گورچھیا: بوڑھے بنارس کے بڑھے ناخنوں
جھریوں سے بنی تھیلیوں
اور چپچپی چمڑی والے ہاتھوں کو چھو کر
یوں لگا کہ تم وہی ہو، جو میں ہوں

بارہ سال کی ماں

سعد منیر: دنیا میں دو لوگ ہیں
ہندسے
اور
نظمیں