شادیوں کے سیزن پر حسن نثار کا پیروڈی کالم

شادیوں کے سیزن پر حسن نثار کا پیروڈی کالم

قارئین، آپ تو مجھے جانتے ہی ہیں. میں تنہائی پسند انسان ہوں. تقریبات سے مجھے چڑ ہے. لیکن یہ مچھندر قوم شادیاں کر کر کے مر جائے گی. اتنی شادیاں تو پورے برس نہیں ہوتیں جتنی دسمبر میں بھگتانی پڑ جاتی ہیں. روز ایک دعوت نامہ میرا اور جمہوریت کا منہ چڑا رہا ہوتا ہے. جمہوریت کا اس لئے کہ ہماری اکثر شادیاں بھی ہماری لولی لنگڑی، اندھی بہری، بانجھ جمہوریت کی طرح اپنی مدت پوری نہیں کر پاتیں. ساس بہو کی اسٹیبلشمنٹ کا شکار ہوجاتی ہیں. مگر لعنتی لوگ پھر بھی اپنی دموں پر اچھل اچھل کر لاڈلی جمہوریت اور شادیوں کی حمایت کرتے ہیں. اوئے شرم کرو بے غیرتو اگر دسمبر میں نہا دھو نہیں سکتے تو شادیاں کیوں کرتے ہو؟

اگلے دن میرا ننھا منھا دوست اوریا مقبول جان، میری جان، میراثی سا منہ بنا کر میرے گھر پہنچ گیا کہ میری دختر کی شادی ہے، حسن تم نے لازمی آنا ہے. ظاہر ہے انکار ناممکن تھا کہ ایک تو بیٹیاں سانجھی ہوتی ہیں، دوسرا اوریا کے خیالات سے کھربوں نوری میل کی دوری کے باوجود ایک عجیب محبت کا رشتہ ہے. خیر شادی کے روز اپنی عادت سے مجبور ہو کر عین وقت پر منہ اٹھا کر تقریب میں پہنچ گیا. ایک تو راستے میں جگہ جگہ ٹریفک کا کنجر پن جمہوریت کی کرپشن کی طرح ذلیل کرواتا رہا دوسرا اس ننگی جاہل قوم نے فٹ پاتھوں پر قبضے جما رکھے ہیں. خون کھول اٹھتا ہے. کوئی ایٹم بم گرے اور میرے اور میرے پیارے قارئین اور ویورز کے علاوہ اس جہالت کے پلندے کو نیست و نابود کر دے.

تقریب میں سوائے میزبان اوریا کی بوتھی کے سب نوٹنکی اس مردود قوم کی عادت ثانیہ کی طرح تاخیر کا شکار تھے. ہاں شادی کے بعد بچوں کی فوج پیدا کرنے میں یہ بہت فاسٹ ہیں. میں نے اوریا سے کہا او بھائی کچھ عقل کو ہاتھ مارو. ابھی تمھاری بیٹی کی عمر ہی کیا ہے؟ گندہ غلیظ، ناپاک ملاوٹ زدہ دودھ پی کر وہ باقی بچوں کی طرح جلد جوان ہوگئی ہے ورنہ اسکی شادی کی یہ عمر نہیں. ابھی کل ہی تمہاری مسلم امہ کے کئی ملکوں شام، فلسطین، کشمیر، عراق اور افغانستان میں بے گناہ لوگ جان سے گئے ہیں اور آج تم اپنے گھر شہنائیاں بجا رہے ہو؟ سودی معیشت کے اس ناپاک دور میں شادی کرتے تمہیں موت کیوں نہ آئی؟ خیر اوریا نے کیا جواب دینا بس اسکے سے حلق سے ایک مافوق الفطرت قہقہہ بلند ہوا جو اسکے کالموں میں درج زلزلوں کی پیشگوئیوں کی طرح وقفے وقفے سے خارج ہوتا رہا.

اس سے بہتر تو وہ نام نہاد ڈکٹیٹر تھے جنہیں ہم، آج اسی کے آغاز کردہ پرائیویٹ ٹی وی چینلز پر بیٹھ کر باندروں کی طرح چیاں چیاں کرکے آمر کہتے ہیں. اس سے پہلے ایک آمر پی ٹی وی کھول گیا تھا. اس دور میں مناسب تعداد میں، وقت پر شادیاں شروع ہوتی تھیں اور وقت پر ختم ہوجاتی تھیں. سوائے اس لعنتی، مکروہ، منافق ضیاء الحق کے مردار دور حکومت کے، جب دیگر سلفی، غلیظ خارش زدہ کلچرز کی طرح دھڑا دھڑ شادیوں کے کریہہ کلچر کا آغاز ہوا.

اس منحوس کلچر کا ایک اور المیہ یہ ہے کہ شادیوں پر رشوت کی طرح نذرانہ یا ٹوکن دینا پڑتا ہے. جو ملک جعلی کلیم کی پیداوار پر پرورش پایا ہو اس سے یہی توقع ہوسکتی ہے. یہ فرض ادا کرکے گھر جو روانہ ہوا تو ڈرائیور بولا دھند بہت ہے. عجیب لعنتی موسم ہیں اس ملک پاکستان اور حقیقتاً نا پاکستان کے. سردی پڑتی ہے تو جان عذاب میں اور گرمی آئے تو مصیبت. ہور چوپو جمہوریت کو. خیر اب عمران سے اتنی امید تو ہے پانامہ پلٹون شریف فیملی اور زر کے پجاری زرداری کی الف ننگی چوری چکاری کی طرح پھپھوندی زدہ، کینسر شدہ حرکتیں تو نہیں کریگا. ہے تو عمران بھی ڈنگر نہ کھانے کی تمیز، نہ بیٹھے کی، نہ کپڑے پہننے کی مگر کمیٹڈ، ڈسپلنڈ ،محنتی اور مالی طور پر دیانت دار آدمی ضرور ہے.

گھر پہنچا تو ڈرائیور دروازہ کھول کر بولا سر کل میرے بیٹے کی شادی ہے. اوئے بے غیرت، بے حیا دعوت دینے کا بھی کوئی طریقہ ہوتا ہے. منہ پر چپیڑ مار کر دعوت دے ماری. لعنت ہو اس قوم پر جسے شادی کی دعوت دینا بھی نہیں آتی.

Saqib Malik

Saqib Malik

Saqib Malik is a writer who pours his heart out. He tries to portray the truth. He writes about politics, cricket, media and religion. Read him: http://www.archereye.tk/


Related Articles

جاوید چوہدری کا ایک فرضی کالم

آخر ہم کب تک پکوڑوں پر شہد لگا کر کھاتے رہیں گے ؟ کب تک ہم، پٹرول کی ربڑی بنا کر پیتے رہیں گے ؟ کب تک ہم اپنی مونچھوں سے دیواروں پر تصویریں بناتے رہیں گے؟ ہمیں سکون حاصل کرنا ہو گا ورنہ فرعون کی لاش کی ممیوں کی طرح ہماری بھی ممیاں بن جائیں گی۔

مونچھ نامہ

سارے مردوں کی طرح ہمیں بھی اپنی مردانہ خوب صورتی پر ناز ہے، اور ناز بھی کیوں نہ ہو، ہمارے پاس دو عدد اور بحیثیت مجموعی ایک عدد گھنی سیاہ تاو دار مونچھیں جو ہیں۔ وہ جو کہتے ہیں نا کہ مونچھ تو مرد کی شان، ٓان بان، پہچان، مان، پران، جان اور کبھی کبھی بلائے جان بھی ہوا کرتی ہے، اف ! ایسا حسن جو سنبھالے نہ سنبھلتا ہو ۔ تو بس ہمارے لیے بھی ہماری مونچھیں ایسی ہی تھیں جو باتوں سے نہیں بنتیں۔

تخلص

یہ ان دنوں کی بات ہے جب ہم رات اپنے چند شاعر، ادیب اور فلسفی دوستوں کے ہمراہ عباسی ٹی سٹال پر ڈیرے جمایا کرتے تھے اور موجودہ حکومت کو سلطنت عباسیہ سمجھ کر اس کے خلاف سازشیں کرتے تھے