شاعری، امکانات اور بے کرانیت

شاعری، امکانات اور بے کرانیت

ایک شاعر ناممکن سے ممکن کی راہ نکالتا ہے۔ ہر وہ خیال جسےایک عام ذہن بنجر اورخشک تصور کر لیتا ہے، شاعر اس میں نمی کی موجودگی کا خیال پیش کرتا ہے۔ بظاہر یہ اتنا مشکل معلوم نہیں ہوتا،لیکن جب خیال کی سطح پر ایک بنجر خیال سے نئی زمینیں آباد کرنے کی کوشش کرو تو احساس ہوتا ہے کہ یہ کام واقعتا ً کتنا مشکل ہے۔موجودہ حقیقت کو عین حقیقت نہ سمجھنا اور اس حقیقت میں مزید حقائق تلاش کرنا یہ ایک شاعر کا کمال ہے۔ یہ بات سچ ہے کہ شاعر جو کچھ کہتا ہے وہ عین حقیقت نہیں ہوتی،لیکن حقیقت کیا ہے؟ اس پر سوال قائم کرنے میں شاعر بہت اہم رول ادا کرتا ہے۔ دنیا کی ہر زبان میں اور ہر خطے میں پائے جانے والے شاعر ایسے ہی ہوتے ہیں۔ کوئی زبان اور تہذیب ان کو اندھیرے میں روشنی اور تنہائی میں شور تلاش کرنے میں معاون ثابت نہیں ہوتی اور نہ ہی رکاوٹ بنتی ہے۔ نہ کوئی عہد ایسا ہوتا ہے جس میں وہ نئی اور انوکھی باتیں کہنے سے چوکتے ہیں۔ میرے سامنے اس وقت موجودہ عہد سے تقریباً تین سو برس پرانا ایک شاعر ہے۔ جس کا نام تہذیب، زبان،مذہب، طرز زندگی، معاشرت، سیاسی نظام اور جغرافیائی حالات سب کچھ کسی نہ کسی طرح محدود ہیں۔ لہذا ہر اس زاویے سے جو ظاہری دنیا کا ہے اس کا تعین کیا جا سکتا ہے جس سےاس شاعر کے متعلق آپ بہت سی مختلف آراء قائم کر سکتے ہیں۔ مگر فکر ایک ایسی آزاد لہر ہے جس سے اس کی ذات کا تعین ممکن نہیں، کیوں کہ وہ آپ کو کسی ایک مقام یا زبان، لہجے یا انداز، تہذیب یا معاشرت اورمذہب یا معتقدات تک سیمت نہیں رکھتی۔ اس میں آپ کو ایک سیال نظر آئے گا جس سے آپ مختلف دنیاوں کی مختلف النوع رنگین بستیوں کی سیر کرتے چلے جائیں گے۔کہیں رکے بنا خیال کے نئے طرز کو محسوس کریں گے اور زبان کے جھگڑے سے آزاد ایک نئی تمثیلیت کا لطف اٹھائیں گے۔میں اس شاعر کا نام لے سکتا ہوں۔ اس کے اشعار پر اظہار خیال بھی کر سکتا ہوں، مگر اس میں وہ لطف نہیں جو بے نامی اور بے راہ روی میں ہے۔ خیال پر خیال کوئی واقعہ نہیں، خیال کی ترسیل کا احساس واقعہ ہے۔ ہم کسی بھی شعر کو سمجھ لیں اور اس پر اپنی رائے دے دیں تو کھیل کا خاتمہ ہو جاتا ہے۔ کھیل کو جاری رکھنا اصل لطف ہے اور اس لطف کو جاری رکھنا شعر کی خود تک مستقل رسائی کو جاری رکھنا ہے۔ کبھی ہم اس بات پر غور کیوں نہیں کرتے کہ یہ شاعر جو اس وقت میرے پیش نظر ہے کیا اس نے یوں ہی بہت سے شعر کہے۔ بہت سی ایسی باتیں جن میں رنگ ہے، نشہ ہے، تکمیلیت ہےاورمصنوعی اظہار ہے۔وہ نہ چاہتا تو نہ کہتا،یا کوئی شاعر نہ کہتا یا صرف اتنا کہتا جس سے اس کی بات کو محدود کرنا آسان ہوتا۔ یہ کتنا مضحکہ خیز ہے۔ مثلاً آپ جانتے ہیں کہ دنیا کے ایک مخصوص مقام پر ایک شہر بنارس ہے،جس کی سرحدیں کن کن علاقوں سے جڑی ہوئی ہیں۔ کس دریا کے بعد وہ ختم ہوتا ہے اور کس زمین کے ٹکڑےسے غیر بنارس کی شروعات ہوتی ہے۔ مگر اس طرح کیا میں اس شاعر کا احاطہ کر سکتا ہوں۔ یہ تو پھیلا ہوا ہے۔ بے کنار۔ پھر اس بات سے کوئی فرق ہی نہیں پڑتا کہ اس نے ہزار شعر کہے ہیں یا پانچ سو۔ مجھے تو اس کی خیال کی کوئی سرحد نظر ہی نہیں آتی یا کسی شاعر کی۔ کیا ہی خوب ہوتا کہ دنیا کا ہر شاعر اپنی زندگی میں صرف ایک شعر کہتا۔ صرف ایک شعر اور تعین قدر بالکل آسان۔ اس فلسفی،طبعیات داں اور ریاضی داں کی مانند جس کی کسی ایک مساوات سے ہم اس کی تعین قدر کا مسئلہ حل کر لیے ہیں۔ میکسویل جو اپنی مساوات سے ہی جانا جاتا ہے یا پھر فیثاغورث، آئین سٹائن، نیوٹن،ہوکر اور اسی طرح کے تمام لوگ۔ مگر یہ شاعر تو خیال کی کسی مساوات میں قید نہیں۔ بس بکھرا ہوا ہے۔ چوطرفہ۔اس لیے مجھے اس کی دنیا میں داخل ہونے کے لیے کسی طرح کی جد و جہد نہیں کرنی پڑتی۔ بس اس پھیلے ہوئے خیال کی سرخ اور سبز نہ دکھنے والی شعاعوں کو دیکھنے کی آنکھ کو مہمیز کرنا ہوتا ہے اور وہ ناممکن دنیا نظر آنے لگتی ہے جہاں ممکنات کی افشاں بکھری ہوئی ہے۔ یہ شاعر مجھے وہ سب کچھ دکھاتا ہے جو میں شائد اپنی خیالی دنیا میں رہ کر کبھی نہ دیکھ پاتا۔میں جب اس کی رنگین دنیا کا حصہ بنتا ہوں تو محسوس کرتا ہوں کہ میں کتنا قید ہوں، کتنا بندھا ہوا۔ خود میں،اپنے اطراف میں اور اپنے ممکن الحصول جذبات میں۔ کسی ایک بات کو کہنا، پھر اسے رد کرنا،پھر اس کے بالمقابل ایک اور بات کہنا، پھر اسے بھی رد کرنا او ر پہلی کہی ہوئی بات کو اچانک سب سے اہم اور افضل ثابت کردینا۔ بظاہر چھوٹی سی نظر آنے والی بات میں بہت بڑی بات تلاش کر لینا اور بہت اہم اور یقینی باتوں کو بے یقین اور غیر اہم بنا دینا۔ کوئی شاعر یہ ہی تو کرتا ہے۔ کبھی ایک راہ کا تعین کرنا اور پھر اسی کو مضر قرار دینا، اس پر چلنا بہادری تصور کرنا اور اس کے نقصانات پر کف افسوس ملنا۔پھر اس میں انبساط کا کوئی نکتہ تلاش کر لینا اور پھر ایک طنز کے ساتھ سب کچھ در گزر کر دینا۔ شاعر ہمیں ایک مقام سے دوسرے مقام تک لے جاتا ہے اور پھر اس مقام پر پہنچنے کے خیال کو وہم قرار دے کر کہیں اور لئے چلتا ہے۔ ان تمام حرکات و سکنات میں وہ زندگی کی بے یقین سالمیت کو ہم پر ظاہر کر دیتا ہے۔
اپنے کرتب سے اور اس امر سے کہ کہیں رکنا، تسکین نہیں بلکہ چلنے کے لطف کو کھو دینا ہے۔ اس شاعر کے یہاں بھی مجھے وہی بکھراو نظر آتا ہے،یہ مجھے مرتب نہیں ہونے دیتا۔ میں جن خیالات، استعارات اور اعتقادات کے ساتھ زندگی گزارتا ہوں یہ ان پر ہنستا ہے۔خود کو غیر مرتب اور غیر منظم ثابت کرتا ہے اور مجھے مقلد محض بتا کر میرے طرز حیات پر سوالیہ نشان قائم کر دیتا ہے اور واقعہ یہ ہے کہ جب میں اس کا قائل ہوجاتا ہوں اور اس کے طرز کو اپنانے کی سعی کرتا ہوں تو یہ اپنے مسلمات کو وہم بتا کر ہوا ہو جاتا ہے اور میرا طرز زندگی مجھے پھر سے مثالی نظر آنے لگتا ہے۔شاعر حیات اور عدم حیات میں ایک نوع کی کشمکش پیدا کرتا ہے۔ وہ زبان سے نہیں بلکہ انسانی ذہن کی پیچیدہ پرتوں سےکام لیتا ہے۔ مستقبل میں ہمیں دور تک لے جاتا ہے،اتنا کہ ہم حال اور ماضی کو بھول جائیں۔پھر اچانک ہمیں حال میں جینے کا درس دینے لگتا ہے۔ وہ جھوٹ نہیں بولتا اور نہ ہی سچ بولتا ہے۔وہ ہمیں حقیقت کے غیر موجود ہونے کا احساس دلانے میں کوشاں رہتا ہے۔ زندگی کو اپنے اطراف کی پیچیدگی سے زیادہ الجھا ہوا دیکھنے پر ابھارتا ہے۔ پھر اس بات کی ہدایت دیتا ہے کہ اس الجھن میں کس طرح سلجھن تلاش کی جاسکتی ہے۔ وہ پل میں پہاڑ اور پل میں سمندر بن جاتا ہے۔ بڑا ہوتا ہے تو آسمان کی سرحدوں سے باہر نکل جاتا ہے اور چھوٹا ہوتا ہے تو ہماری آنکھ کی پتلی کے اندر اتر جاتا ہے۔ یہ ہی اس کی ذات ہے اور یہ ہی صفت۔شاعر خود میں ایسا ہی ہوتا ہے اور اپنے فنی اظہار سے ہمیں بھی اپنی طرح بنا لیتا ہے۔ اس کا فن اسی امر میں مضمر ہے کہ وہ کتنی صفائی سے ہمارے مسلمات کو توڑتا ہے اور ہمارے خیال کی ایک دنیا تشکیل دے دیتا ہے۔

Did you enjoy reading this article?
Subscribe to our free weekly E-Magazine which includes best articles of the week published on Laaltain and comes out every Monday.
Taleef Haider

Taleef Haider

Taleef Haider is a student of M. Phil. Urdu at Jawahar Lal Nehru University. He is a poet and has written many critical essays for various literary magazines.


Related Articles

سائیں فتو

گاوں سے مغرب کی طرف باہر نکلتے ہی ایک چھوٹی سی پگڈنڈی حاجیوں کے امرود وں کے امرودوں کے باغ سے نکلتی ہوئی ملکوں کے ڈیرے سے ذرا آگے قبرستان تک جانے کا مختصر ترین راستہ ہے

سوشل میڈیا اور جون ایلیا کا زوال

شامل شمس: جون ایک مثال بن تو چکے ہیں لیکن ایک زوال پذیر معاشرے میں۔ فیس بک زدہ شاعر دھڑا دھڑ قافیہ بندی کر رہے ہیں، بے تکی نثری نظمیں کہہ رہے ہیں اور ہر کوئی راشد، فیض اور ناصر بنا ہوا ہے۔