شیما کرمانی کے نام

شیما کرمانی کے نام

کبھی رقص گاہوں
میں آ کر تو دیکھو
یہ خوابیدہ اجسام
کی خانقاہیں
لہو رنگ معبد
کی نخچیریوں سے
کہیں معتبر ہیں
یہ رقاص جو
ریش پیروں سے باندھے
مسلسل ہیں رقصاں
سیہ رنگ ملاں
کی عیاریوں سے
کہیں معتبر ہیں
کہیں معتبر ہے
گلا پھاڑتے
واعظوں کی صدا سے
یہ گھنگھرو کی
چھم چھم
یہ پیروں کی
دھم دھم

Did you enjoy reading this article?
Subscribe to our free weekly E-Magazine which includes best articles of the week published on Laaltain and comes out every Monday.

Related Articles

گوتم کی انوکھی پرکھشا

ناصرہ زبیری: اے انسانی دکھوں کے آنت بھید کی پرتیں کھولنے والے!
تمہارے نروان کی روشنی خطرے میں ہے

آخری دلیل

افضال احمد سید: اس کھڑکی کو سبزے کی طرف کھولتے ہوئے
تمہیں محاصرے میں آئے ایک دل کی یاد نہیں آئی

گواچن سے پرے بھی کچھ ہے؟

کے۔ بی۔ فراق: ہم نارضامندی کی پیدائش میں
پیدا ہوئے ہی نہیں
اگر ہم پیدا ہوتے
تو ہماری حالت کچھ اور ہوتی