اسما حسن کے افسانے "شہرں بتاں" کا تاثراتی جائزہ

اسما حسن کے افسانے

اس مجرد آرٹ پیس کو مذہب کے تناظر میں دیکھنا اس کی آفاقی معنویت کو محدود کر دینے کے مترادف ہے یہ انسانیت کا نوحہ ہے ظلم و بربریت کا نوحہ ہے اور ظلم کے خلاف اٹھنے والی آواز کے نقارہ ِ خدا بننے کا ماجر ہے اس کہانی کا پیٹرن اس خوبصورتی سے بُنا گیا ہے کہ بار بار کی قرات لطف دوبالا کیے دے رہی ہے اس کے لیے مصنفہ بے شک داد کی مستحق ہیں چودہ پندرہ سال کا لڑکا سلے ہونٹ ابی کے قتل کا ماجرا بائیس کا اس کے وطن میں آ کر خیمے لگانا اس کا ان کے کانوں میں سرگوشی کرنا سورج کا طلوع ہونا لوگوں کا اتنے سالوں بعد سورج کو دیکھ کر مزید سہم جانا سلائی کا ادھڑ جانا دانش مندوں کا اس کے ہونٹوں کی سلائی ادھڑی دیکھنا بائیس گواہیاں لڑکے کے چہرے پر خوشی کے آثار اس کا باقی سلائی کو یوں ادھیڑنا جیسے اس کے ابی کی کھال نوچ لی گئی تھی اس کا اس سمت بھاگنا جس سمت سے آواز آ رہی تھی اس کی تیئسویں گواہی اور پھر ہر سمت سے گواہی کی آواز آنے لگنا یہ سب سامراجیت کے خلاف متحد ہونے کے اشارے ہیں میرا خیال ہے اس پوری کہانی کا میکنزم سمجھنے کی ضرورت ہے ان بائیس کو اس کہانی سے جوڑ کر دیکھنے کی ضرورت ہے نا کہ کہانی کو ان بائیس سے جوڑ کر دیکھنے کی۔۔۔۔۔

"ﺟﺐ ﺭﻭﺷﻨﯽ ﭘﮭﯿﻠﺘﯽ ﮨﮯ ﺗﻮ ﻣﻌﻤﻮﻟﯽ ﺳﻮﺭﺍﺥ ﺑﮭﯽ ﭘﻮﺭﮮ ﮐﻤﺮﮮ ﮐﻮ ﺭﻭﺷﻦ ﮐﺮﺳﮑﺘﺎ ﮨﮯ"

ﺩﺭﺝ ﺑﺎﻻ ﺳﻄﺮ ﺍﺱ ﮐﮩﺎﻧﯽ ﮐﺎ ﺣﺎﺻﻞ ﮨﮯ ﻣﻌﻤﻮﻟﯽ ﺳﻮﺭﺍﺥ ﻭﮦ ﻟﮍﮐﺎ ﮨﮯ ﺟﻮ ﻇﻠﻢ ﮐﮯ ﺧﻼﻑ ﺍﭘﻨﮯ ﮨﻮﻧﭩﻮﮞ ﮐﯽ ﺳﻼﺋﯽ ﺍﺩﮬﯿﮍ ﺗﺎ ﮨﮯ ﻣﻌﻤﻮﻟﯽ ﺳﻮﺭﺍﺥ ﻭﮦ " ﺑﺎﺋﯿﺲ " ﮨﯿﮟ ﺟﻮ ﺳﺎﻣﺮﺍﺟﯿﺖ ﮐﮯ ﺧﻼﻑ ﮔﻮﺍﮦ ﺑﻦ ﮐﺮ ﺍﭨﮭﺘﮯ ﮨﯿﮟ ﮐﮩﺎﻧﯽ ﻣﯿﮟ ﺑﺎﺋﯿﺲ ﺍﺗﺤﺎﺩ ﮐﯽ ﻋﻼﻣﺖ ﮐﮯ ﻃﻮﺭ ﭘﺮ ﺍﺳﺘﻌﻤﺎﻝ ﮨﻮﺍﮨﮯ ﻋﻮﺍﻡ ﮐﮯ ﺗﺤﺎﺩ ﮐﯽ ﻋﻼﻣﺖ یہ بائیس ہر اس شخص کا نمائندہ ہیں جو باطل کے خلاف حق کی گواہی دینے پر آمادہ ہے

"ﻭﮦ ﻃﻠﻮﻉِ ﺷﺎﻡ ﮐﻮﺳﺠﺪﮦ ﮐﺮﻧﮯ ﮐﮯ ﻣﻨﺤﺮﻓﯽ ﺍﻭﺭﻏﺮﻭﺏِ ﺁﻓﺘﺎﺏ ﮐﯽ ﭘﺮﺳﺘﺶ ﮐﮯﻣﻨﮑﺮﭨﮭﮩﺮﮮ ﺗﮭﮯ۔۔۔ ﺍﻧﮩﻮﮞ ﻧﮯ ﮐﺴﯽ ﻧﺌﮯ ﻣﺴﮑﻦ ﮐﯽ ﺗﻼﺵ ﻣﯿﮟ ﺭﺧﺖِ ﺳﻔﺮ ﺑﺎﻧﺪﮪ ﻟﯿﺎ ﺗﮭﺎ۔۔ "

ﺍﻓﺴﺎﻧﮧ ﺩﺭﺝ ﺑﺎﻻ ﺳﻄﻮﺭ ﺳﮯ ﺷﺮﻭﻉ ﮨﻮﺗﺎ ﮨﮯ ﺟﺲ ﻣﯿﮟ ﻃﻠﻮﻉِ ﺷﺎﻡ ﮐﺎ ﺳﺠﺪﮦ ﮐﺮﻧﮯ ﮐﯽ ﻣﻨﺤﺮﻓﯽ ﺍﻭﺭ ﻏﺮﻭﺏ ِ ﺁﻓﺘﺎﺏ ﮐﯽ ﭘﺮﺳﺘﺶ ﺳﮯ ﻣﻨﮑﺮﯼ ۔ ﻇﻠﻢ ﻭ ﺑﺮﺑﺮﯾﺖ , ﺳﺮﻣﺎﯾﺎﺩﺍﺭﯼ ﺍﻭﺭ ﺳﺎﻣﺮﺍﺟﯿﺖ ﺳﮯ ﺍﻧﮑﺎﺭ ﮐﯽ ﻋﻼﻣﺎﺕ ﮨﯿﮟ ﺍﻭﺭ ﻧﺌﮯ ﻣﺴﮑﻦ ﮐﯽ ﺗﻼﺵ ﮐﮯ ﻟﯿﮯ ﺭﺧﺖ ِ ﺳﻔﺮ ﺑﺎﻧﺪﮬﻨﺎ ﺍﺱ ﺳﮯ ﻓﺮﺍﺭ ﮐﻮ ﻇﺎﮨﺮ ﮐﺮ ﺭﮨﺎ ﮨﮯ ﮐﮧ ﻭﮦ ﺍﻧﮑﺎﺭﯼ ﺗﻮ ﺗﮭﮯ ﻣﮕﺮ ﺍﻧﮩﻮﮞ ﻧﮯ ﻟﮍﻧﮯ ﺳﮯ ﺑﮩﺘﺮ ﮨﺠﺮﺕ ﮐﻮ ﺟﺎﻧﺎ۔

"ﻭﮦ ﮐُﻞ " ﺑﺎﺋﯿﺲ " ﺗﮭﮯ،ﺟﻮ ﭘﺎ ﭘﯿﺎﺩﮦ ﺳﻔﺮ ﮐﺮﺗﮯ ﮨﻮﺋﮯ ﺍﯾﮏ ﺍﯾﺴﮯ ﺟﮩﺎﻥِ ﺑُﺘﺎﮞ ﻣﯿﮟ ﺩﺍﺧﻞ ﮨﻮﺋﮯ،ﺟﺲ ﮐﮯ ﻣﺤﻼﺕ ﻭﺍﯾﻮﺍﻥ ﺳﻮﻧﺎ، ﭼﺎﻧﺪﯼ ﮐﮯ ﻭﺭﻕ ﺳﮯ ﺁﺭﺍﺳﺘﮧ ﺗﮭﮯ۔۔۔ " ﺩﺭﺝ ﺑﺎﻻ ﺳﻄﻮﺭ ﻧﺎﻡ ﻧﮩﺎﺩ ﺗﺮﻗﯽ ﯾﺎﻓﺘﮧ ﻣﺘﻤﺪﻥ ﮨﻮﻧﮯ ﮐﯽ ﻃﺮﻑ ﺍﺷﺎﺭﮦ ﮨﮯ ﺟﮩﺎﮞ ﺟﺎﮔﯿﺮﺩﺍﺭ ﺳﺮﻣﺎﯾﺎﺩﺍﺭ ﻃﺒﻘﮧ ﺗﻮ ﻋﯿﺶ ﻭ ﻋﺸﺮﺕ ﮐﯽ ﺯﻧﺪﮔﯽ ﮔﺰﺍﺭ ﺭﮨﺎ ﮨﮯ ﺟﻮ ﺍﭘﻨﯽ ﻋﯿﺎﺷﯿﻮﮞ ﻣﯿﮟ ﺍﻧﺪﮬﮯ ﺑﮩﺮﮮ ﺍﻭﺭ ﮔﻮﻧﮕﮯ ﮨﻮ ﭼﮑﮯ ﮨﯿﮟ ﯾﺎ ﮐﺮ ﺩﯾﮯ ﮔﺌﮯ ﮨﯿﮟ اس سے آگے زندہ لاشیں غریب اور مفلوک الحال تمام عوام / انسانوں کی علامت ہیں۔ اس کے بعد مصنفہ ظلم کا ایک واقعہ بیان کرتی ہیں اور اس لڑکے کے ہونٹ سینے کا ماجرا بیان کرتی ہیں جسے وہ "بائیس "چور آنکھوں سے دیکھ رہے ہیں"۔

"ﻣﺤﮑﻮﻡ ﻓﻀﺎ ﺍﻥ ﮐﮯ ﻗﺪﻣﻮﮞ ﮐﻮ ﭼﮭﻮﺗﯽ ﮨﻮﺋﯽ ﻣُﻠﺘﻤﺲِ ﻧﻮ ﺑﮩﺎﺭﺗﮭﯽ۔ﺍﻧﮩﻮﮞ ﻧﮯ ﺍﯾﮏ ﺩﻭﺳﺮﮮ ﮐﯽ ﺟﺎﻧﺐ ﺩﯾﮑﮭﺎ ﺍﻭﺭ ﭼﮭﻮﭨﯽ ﭼﮭﻮﭨﯽ ﻟﮑﮍﯾﺎﮞ ﺟﻤﻊ ﮐﺮ ﮐﮯ ﺁﮒ ﺟﻼﺋﯽ۔ ﺩﯾﮑﺘﮯﺍﻻﺅ ﮐﮯ ﮔﺮﺩ ﺑﯿﭩﮭﮯ ﻭﮦ، ﻟﮑﮍﯼ ﮐﮯﭼﮭﻮﭨﮯ،ﭼﮭﻮﭨﮯ ﭨﮑﮍﻭﮞ ﮐﻮ ﺁﮒ ﮐﮯ ﺳﭙﺮﺩ ﮐﺮﺗﮯ ﺗﻮ ﺍﯾﮏ ﺷﻌﻠﮧ ﺳﺎ ﺑﮭﮍﮎ ﮐﺮ ﺍﻥ ﮐﮯ ﭼﮩﺮﻭﮞ ﭘﺮ ﺭﻭﺷﻨﺎﺋﯽ ﺑﮑﮭﯿﺮ ﺩﯾﺘﺎ۔ﺟﻮﮞ ﺟﻮﮞ ﺷﻌﻠﮧ ﺑﮭﮍﮐﺘﺎ ﮐﻮﺋﯽ ﺍﻥ ﺩﯾﮑﮭﺎ ﺧﻮﺍﺏ ﺍﻥ ﮐﯽ ﺭﻭﺡ ﺗﮏ ﮐﻮ ﺩﮨﮑﺎﻧﮯ ﻟﮕﺘﺎ۔ﻧﺌﯽ ﺍﻣﻨﮕﯿﮟ ﺟﻨﻢ ﻟﯿﺘﯿﮟ ﺍﻭﺭﺍﻥ ﮐﺎ ﺗﺨﯿﻞ ﮐﺴﯽ ﺑﮯ ﮐﺮﺍﮞ ﺳﻤﻨﺪﺭ ﮐﯽ ﻃﺮﺡ ﺍﻥ ﮐﮯ ﺍﻧﺪﺭ ﭨﮭﺎﭨﯿﮟ ﻣﺎﺭﻧﮯ ﻟﮕﺘﺎ۔ﺁﮒ ﮐﮯ ﺷﻌﻠﻮﮞ ﺳﮯ ﺍﭨﮭﻨﮯ ﻭﺍﻟﯽ ﭼﻨﮕﺎﺭﯾﺎﮞ ﺍﻥ ﮐﮯ ﭼﮩﺮﻭﮞ ﮐﻮ ﭼﮭﻮﺗﯿﮟ ﺍﻭﺭ ﺁﺳﻤﺎﻥ ﮐﯽ ﻃﺮﻑ ﭘﺮﻭﺍﺯ ﮐﺮ ﺟﺎﺗﯿﮟ۔ﺗﯿﺰ ﮨﻮﺍ،ﺩﺭﺧﺘﻮﮞ ﮐﮯ ﺧﺸﮏ ﭘﺘﻮﮞ ﺍﻭﺭﮈﺍﻟﯽ ﺳﮯ ﺑﭽﮭﮍﮮ ﭘﮭﻮﻟﻮﮞ ﮐﻮ ﺁﮒ ﮐﮯ ﺑﻄﻦ ﻣﯿﮟ ﺧﻮﺩﮐﺸﯽ ﮐﺮﻧﮯ ﭘﺮﺁﻣﺎﺩﮦ ﮐﺮ ﺭﮨﯽ ﺗﮭﯽ۔۔ ﻣﭩﯽ ﮐﮯﻧﻨﮭﮯﻧﻨﮭﮯ ﺫﺭﮮ ﺍﻥ ﮐﮯ ﭼﮩﺮﻭﮞ ﺳﮯﭨﮑﺮﺍﺗﮯ ﺍﻭﺭ ﺩﮬﺮﺗﯽ ﻣﺎﮞ ﮐﺎ ﻗﺮﺽ ﯾﺎﺩ ﮐﺮﻭﺍﺗﮯ۔۔"

درج بالا پیراگراف میں بہت خوبصورتی سے مصنفہ نے ظلم کے خلاف لڑنے کے لیے بیدار ہوتی سوچ کو ظاہر کیا ہے کہ اس پر جتنی بھی داد دوں کم ہے کمال فنکارانہ مہارت اس پیرے میں دیکھی جا سکتی ہے ان کا ایک دوسرے کو دیکھنا محکوم فضا کا ان کے قدم چھو کر ملتمس ِ نوبہار ہونا لکڑیاں جمع کر کے آگ جلانا لکڑیاں آگ میں ڈالنے سے شعلہ بھڑکنا اور روشنی کا چہروں پر پھیلنا امنگوں کا جنم لینا اور چنگاریوں کا چہروں سے ٹکرا کر دھرتی ماں کا قرض یاد دلانا کمال ہی کمال بہت داد مصنفہ کے لیے یہ افسانہ سکھاتا ہے کے ظلم سے بھاگنے کا کوئی راستا نہیں ظلم کے خلاف متحد ہو کر حق کا علم بلند کرنا ضروری ہے ظلم کی جگہ اگر میں سامراجی قوتوں کا لفظ استعمال کروں جنہوں نے ایک طبقے کو اپنے فائدے کے لیے دولت اور عیش و عشرت کے بدلے خرید کر اندھا بہرا گونگا بنا دیا ہے اور یہ چند لوگ سات ارب انسانوں پر حکمران بن کر ظلم کے پہاڑ توڑ رہے ہیں اور یہ افسانہ منتج ہے کہ ظلم کے خلاف اٹھنے والی چھوٹی آواز کو چھوٹا نہ سمجھا جائے ایک چھوٹی کرن بھی ایسا سورج بن کر نمودار ہو سکتی ہے جو ایک ہنستا مسکراتا سماج تشکیل دے دے "مگر اس کے لیے جس طرح کے اتحاد کی ضرورت ہے وہ ممکن نہیں میرے نزدیک اس خواب کا شرمندہ ِ تعبیر ہونا بعید از قیاس ہے"" خیر مصنفہ کا یہ افسانہ ظلم کے خلاف چوبیسویں گواہی تو بہر حال ہے اتنا اچھا فن پارہ پیش کرنے پر مصنفہ کے لیے مبارک باد اور داد و تحسین۔

شہرِبُتاں اسماءحسن

وہ طلوعِ شام کوسجدہ کرنے کے منحرف اورغروبِ آفتاب کی پرستش کےمنکرٹھہرے تھے۔۔۔ انہوں نے کسی نئے مسکن کی تلاش میں رختِ سفر باندھ لیا تھا۔۔۔وہ کُل بائیس تھے،جو پا پیادہ سفر کرتے ہوئے ایک ایسے جہانِ بُتاں میں داخل ہوئے،جس کے محلات وایوان سونا، چاندی کے ورق سے آراستہ تھے۔۔۔جہاں "صُم بُکم,عُمی" کے پہرے تھے۔خوابیدہ محل کے وہ لوگ جن کے ہونٹوں کو موٹی سوئی اوردھاگہ لےکرسی دیا گیا تھا۔۔جہاں زرخرید روحیں قیدِ با مشقت کاٹ رہی تھیں اور فرمانرواؤں کے پاؤں تلے دھرتی ماں بھی کانپ رہی تھی۔۔جب وہ وہاں پہنچے تھےتو زندہ لاشیں ادھر اُدھر گھوم رہی تھیں۔۔ڈرے،سہمے اور مٹی میں اٹے چہروں نےجب انہیں دیکھا تو بھاگتے ہوئے،کسی نہ کسی اوٹ میں پناہ لینے لگے۔۔۔نہ توکسی نے ان پر پتھر اچھالے اور نہ ہی ان کے متحرک چُست قدموں کوزنجیرپہنائی گئ۔۔ وہ آگے بڑھتے رہے تو زندہ لاشیں پیچھےہٹتی رہیں۔۔ ان کے سرخ وسفید چہروں پر کسی مہیب پرچھائی کا بسیرا صاف دکھائی دے رہا تھا۔۔ ان بائیس نے کچھ دور پہنچ کر ایک خاص مقام پرخیمے گاڑنے شروع کر دیئے تھے۔کسی میں اتنی ہمت نہ تھی کہ ان کی دھرتی ماں پر قدم رکھنےکی لغزش میں کوئی ان سےجراتِ استفسار کرتا۔وہ کیلوں پرضرب لگاتے ہوئے خیمے گاڑتے چلے جا رہے تھے۔ زوردار آوازیں لوگوں کے کانوں تک پہنچتیں تو وہ اپنی قوتِ سماعت سے محروم ہونے کی دعا کرنے لگتے۔ان کے لئے اس سے زیادہ مناسب جگہ اور کوئی نہ تھی،جہاں سب کے ہونٹوں کے پیچھے قُفلِ ابجد کا سا راز پوشیدہ تھا۔جن کےھاتھ کٹے ہوئے تھے اور سیسہ پگھلا کر ان کی آنکھوں میں ڈال دیا گیا تھا۔۔ایسی زندہ لاشیں دیکھ کر وہ مطمئن ہو چلے تھے کہ وہ بالکل صحیح مقام پر ڈیرے ڈالنے والے ہیں۔شام گہری ہوتی چلی گئی اورآسمان پرسیاہ رات،کسی کالی ناگن کی طرح کنڈلی مارکر بیٹھ گئی۔ تاروں پر آزُردگی نے بُکل مارلی۔۔ہوکا ساعالم چاروں اور دکھائی دینے لگا۔سب اپنے اپنے گھروں میں دُبک کر بیٹھ گئے۔ لیکن ایک چودہ،پندرہ سال کا نوجوان خیموں کے سامنے والی کٹیا سے،غیض وغضب کےعالم میں انہیں دیکھ رہا تھا۔ ایسی ہی کالی رات کا ایک کرب ناک منظر،اس کی آنکھوں میں نقشِ جاوداں کی مانند ثبت تھا۔جس میں خون کی ہولی کھیلی گئی تھی۔جب اس کے"ابی"کو بڑی بےدردی سے گھسیٹا جا رہا تھا۔وہ اپنےابا کو پیارسے"ابی"بلایا کرتا تھا۔۔ باپ کا ھاتھ ابھی بیٹے کی انگلی تک ہی پہنچا تھا کہ اچانک "ابی" کو کچھ جانور نما ھاتھوں نے یوں گھسیٹا کہ رات کے آوارہ جانور بھی انسانی درندگی سے خوف زدہ ہو کر جھاڑیوں میں منہ چھپانے لگے۔ وہ "ابی ابی" پکارتا ہوا ان کے پیچھے بھاگتا رہا۔ مگر ! ظلم کی رفتار نے مظلومیت کو مات دے ڈالی تھی۔۔ جب وہ گھر پہنچا تو اس کا چولا خون میں لت پت تھا۔اس کے ابی کو سزا ملی تھی،کالے پانی کی سی سزا۔وہ اماں کو کہا کرتا تھا کہ وہ کبھی اپنے لب نہیں سیئے گا۔ " نہیں اماں میں اپنے ہونٹ کبھی نہیں سیئوں گا۔میں بولوں گا،کبھی چُپ نہیں رہوں گا۔۔ تب وہ آخری باربولاتھا۔جب کانپتےہونٹوں سے اس نے"ابی"کا قصہ ماں کو بتایا تھا۔اس دن اس کی ماں نے اس کے ہونٹوں کو بھی موٹے دھاگے سے سی دیا۔ وہ مسافر چور آنکھ سے اس "لڑکے" کو دیکھتے رہے۔جاڑے کی یخ بستہ ٹھنڈ ان کی رگ وپے میں سرایت کررہی تھی۔ محکوم فضا ان کے قدموں کو چھوتی ہوئی مُلتمسِ نو بہارتھی۔انہوں نے ایک دوسرے کی جانب دیکھا اور چھوٹی چھوٹی لکڑیاں جمع کر کے آگ جلائی۔ دیکتےالاؤ کے گرد بیٹھے وہ، لکڑی کےچھوٹے،چھوٹے ٹکڑوں کو آگ کے سپرد کرتے تو ایک شعلہ سا بھڑک کر ان کے چہروں پر روشنائی بکھیر دیتا۔جوں جوں شعلہ بھڑکتا کوئی ان دیکھا خواب ان کی روح تک کو دہکانے لگتا۔نئی امنگیں جنم لیتیں اوران کا تخیل کسی بے کراں سمندر کی طرح ان کے اندر ٹھاٹیں مارنے لگتا۔آگ کے شعلوں سے اٹھنے والی چنگاریاں ان کے چہروں کو چھوتیں اور آسمان کی طرف پرواز کر جاتیں۔تیز ہوا،درختوں کے خشک پتوں اورڈالی سے بچھڑے پھولوں کو آگ کے بطن میں خودکشی کرنے پر آمادہ کر رہی تھی۔۔ مٹی کےننھےننھے ذرے ان کے چہروں سےٹکراتے اور دھرتی ماں کا قرض یاد کرواتے۔۔ دور بیٹھا وہ "لڑکا" بھی یہ سب تماشا دیکھتا رہا۔ اس کےہونٹوں پر لگی سلائیاں ادھڑنے لگیں۔۔ چاند کی آنکھ میں دُبکی بیٹھی زردی باہر نکلنے لگی۔ آسمان پر ستارہ صبح نمودار ہونے لگا،جس نے کالی بدلی کو اٹھا کر افق کے اُس پار پھینک دیا۔۔اُس نے علم اٹھایا اور لےجا کر،دیکتے الاؤ کے ساتھ گاڑ دیا۔ ان بائیس کےکان میں کوئی سرگوشی کی اور بھاگ کر کٹیا میں واپس چلا گیا۔ مدت کے بعد، صبح نے کھل کرانگڑائی لی تھی۔ موجِ شفق نےگھروں کےکونوں،کھدروں میں جھانکنےکی جسارت کی تولوگ خوفزدہ ہوکراٹھ بیٹھےاور ڈرے،سہمے ہوئے باہر نکلے، تو دیکھا کہ میدان پوری طرح صاف تھا اور خیمے اتار لئے گئے تھے۔۔ وہاں صرف دہکتےکوئلوں کی آخری چنگاری باقی تھی۔۔ آفتاب کی کرنیں چہارسُو پھیل رہی تھیں اور زندہ لاشوں پرمسکراہٹ پھیلا رہی تھیں۔ مگر وہ لوگ زندان خانے کے ایسے مقید تھے،جنہیں،صدیوں بعد سورج کی رفاقت کا موقع ملے تو وہ اس کی تمازت اور حدت کو برداشت نہ کرپائیں۔کوئےبتاں کے وہ مکین پہلے سے بھی زہادہ سہم گئے اوراپنےبچوں کی آنکھوں پرھاتھ رکھ کرکسی نہ کسی اوٹ میں پناہ لینے لگے۔ شائد وہ پھر سے جذبات فروشی کا سودا ہوتا دیکھنا نہیں چاہتے تھے۔ وہ انسانیت سوز درندگی کے پھر سے متحمل نہیں ہو سکتے تھے۔ جہاں زندہ انسانوں کی کھالیں کھینچوا دی جاتی ہیں۔جہاں حق بات کہنے کا خراجِ متخرفہ نہ جانے، کتنی دہائیوں تک ادا کرنا پڑتا ہے۔ سورج کی روشنی بڑھتی چلی جا رہی تھی مگر وہ لوگ، ہراساں و پریشان، ابھی بھی لات و منات جیسے بتوں کو پوچنے کے پابند تھے۔ جو سالہا سال اندھیروں کے پس منظر میں جیتے ہیں انہیں کیا معلوم کہ جب روشنی پھیلتی ہے تو معمولی سوراخ بھی پورے کمرے کوروشن کرسکتا ہے۔خوف اور دہشت کے مارے وہ لوگ،اپنے بچوں کے ہونٹوں کو پہلے سے بھی زیادہ مضبوط دھاگوں میں پرونے لگے۔۔۔گھروں میں موت کا ماتم روح قبض پونے سے پہلے ہی منایا جانے لگا۔۔ ان کے سامنے ٹنکے آئینوں میں مُردے نوحہ کناں تھے۔۔ جن کے کفن بھی جگہ جگہ سے تار تار تھے۔۔ وہ سب لوگ اس"لڑکے"کی طرف مشکوک نظروں سےدیکھ رہے تھے،مگر وہ دُبک کر بیٹھا رہا۔۔ کچھ بینا و دانا نے اس کےہونٹوں کی اُدھڑی سلائی دیکھ لی تھی۔۔۔ اسی اثنا میں دُور کہیں سے ایک آواز سنائی دی"میں گواہی دیتا ہوں"اور ساتھ ہی آواز دم توڑ گئی۔یہ سنتے ہی اس"لڑکے"کے چہرے پر خوشی کی لہر دوڑ گئی۔اس نے ہونٹوں کی سلائی کو پکڑ کر کچھ یوں اُدھیڑا، جیسے اس کے سامنے اس کے"ابی" کی کھال کو کھینچ کر اتار دیا گیا تھا۔۔۔ ڈرے سہمے ہوئے شہر بُتاں والے محو حیرت تھے۔۔ سکتہ کسی بھوت پریت کی طرح سایہ فِگن تھا۔۔ اس "لڑکے" نے گھر کی دہلیز سے باہر ننگے پاؤں قدم رکھ دیا تھا۔ وہ اس سمت بھاگنے لگا جہاں سے"میں گواہی دیتا ہوں"کی آوازیں مسلسل آرہی تھیں اور دم توڑتی چلی جا رہی تھیں۔۔بائیسویں گواہی کے دم توڑتے توڑتے وہ "لڑکا" وہاں پہنچ چکا تھا۔۔ظالم سامراج قہقہے لگاتے ہوئے اپنی فتح کا جشن منا رہے تھے۔۔ وہ سمجھ رہے تھے کہ شاید اب کوئی گواہی باقی نہ رہی ہو۔مگر انہیں کیا معلوم کہ تئیسویں گواہی ابھی باقی تھی۔ فضا میں پھر سے ایک زوردار آواز گونجی تھی"میں گواہی دیتا ہوں "نشانہ باندھنےوالوں نےدیوانہ وار نشانےلگانےشروع کئے مگر کوئی نشانہ اپنی سمت متعین نہ کر سکا۔۔ کیوںکہ آواز اب چاروں طرف سنائی دے رہی تھی۔۔۔۔۔۔۔

Did you enjoy reading this article?
Subscribe to our free weekly E-Magazine which includes best articles of the week published on Laaltain and comes out every Monday.

Related Articles

"غزال اور بھیڑیے" کا تاثراتی جائزہ: ایک تخلیق تین جہتیں

شین زاد: ﺗﺨﻠﯿﻘﯽ ﭘﯿﺮﺍﺋﮯ ﮐﮯ ﭘﺮﮐﮭﻨﮯ ﮐﮯ ﻟﯿﮯ ﻣﻌﺎﻧﯽ ﮐﻮ ﻟﻐﺖ ﺳﮯ ﺑﺎﻻ ﺗﺮ ﮨﻮ ﮐﺮ ﺳﻤﺠﮭﻨﮯ ﺍﻭﺭ ﺍﺧﺬ ﮐﺮﻧﮯ ﮐﯽ ﺿﺮﻭﺭﺕ ﮨﻮﺗﯽ ﮨﮯ۔

گل ارباب کے افسانے "داستانِ ہجرت" کا تاثراتی جائزہ

شین زاد: کہانی کے بین المتن جو معانوی نظام تخلیق ہوا ہے اس نے اس کلی متن کو ایک علامت بنا کر ابھارا ہے

خالدہ حسین کے افسانے"ابنِ آدم" کاتاثراتی جائزہ

شین زاد: "ابنِ آدم " امریکہ عراق جنگ کے تناظر میں لکھی گئی کہانی لگتی ہے لیکن مصنفہ نے اپنے کمالِ فن سے اسے ایسی آفاقیت عطا کر دی ہے کہ یہ کسی ایک فرد، کسی ایک خطے،کسی ایک ملک،یا کسی ایک براعظم کی کہانی نہیں رہی بلکہ یہ کل انسانیت اورکلی دنیا کی کہانی بن گئی ہے۔