سورج کا بانجھ پن (سدرہ سحر عمران)

سورج کا بانجھ پن (سدرہ سحر عمران)

ہم نہیں جانتے دھوپ کا ذائقہ کیا ہے
روشنی کی شکل کس سے ملتی جلتی ہے
یہ پرندے کون ہیں
ہم درختوں کو چراغ لکھتے ہیں
ہوا کو موت
یہ پتے ہمارے آنسو ہیں
ہمیں کیا خبر کہ آسمان کا رنگ
تمہارے لہجے کی طرح
نیلا کیوں ہے؟
ہم نے سیڑھیوں کے ہجے نہیں سیکھے
ہم دیواروں میں آنکھیں لپیٹ کے سوتے ہیں

ہم نے پھولوں کو جنازہ گاہوں سے پہچانا
بارشوں کو اپنی آنکھوں سے
جس رات ہماری باتوں میں کم نمک ہوتا ہے
ہم سوکھی لکڑیوں پر
اپنے دن پینٹ کرتے ہیں
دیکھو ہمارے خواب سوکھ گئے
اب ہمارے لئے
بغیر کھڑکیوں والے مکان پیدا کرو
Image: Yves Tanguy

Sidra Sahar Imran

Sidra Sahar Imran

Sidra Sehar Imran holds a Masters degree in Urdu. She is one of the prominent names of Contemporary Urdu prose poetry circle.


Related Articles

Eid in the Paradise of Blood

Zeeba T. Hashmi     [On 27th Ramzan (7th August, 2013), one Colonel belonging from Peshawar, one from Lahore and another

الفاظ سے آگے

جلیل عالی: میں ان پہاڑوں، چٹانوں، ہواؤں،
ندی نالوں،چشموں، گھٹائوں،
پرندوں، چرندوں،
گھنے جنگلوں ہی کا حصہ ہوں
قرنوں کا قصہ ہوں

آنسوؤں کی سیڑھی

مصطفیٰ ارباب: میں نے
آنسوؤں سے
ایک سیڑھی بنائی ہے