تمام شِٹ ہے (ایک تاریخی وعظ سے پہلے مائیکروفون ٹیسٹنگ)

تمام شِٹ ہے (ایک تاریخی وعظ سے پہلے مائیکروفون ٹیسٹنگ)

مرے عزیزو،
یہ میرے شعروں پہ میرے آگے اچھل رہے سارے نامرادو
ادھر حسینوں کی صف میں جا کر مرے لطیفے سنانے والے حرامزادو
میں دھیرے دھیرے تمہاری سوشل پلیسیاں سب سمجھ رہا ہوں
سنو کہ میں نے بھی سالناموں کے کچھ اڈیٹر پٹا لیے ہیں
کلاسکی شعر کے گھرانوں کے چند بابوں میں چار نمبر بنا لیے ہیں
سخن کی اور فلسفے کی بحثوں میں روزمرّہ کمنٹ بازی بھی چل رہی ہے
مگر مصیبت یہ بن پڑی ہے کہ طبع موزوں
کئی مہینوں سے ایک رعنا خیال کے انتظار میں ہے
گزشتہ دو سال میں جو لکھا، سنا چکا ہوں
جو داد میں دوستوں سے تھوڑی سی چرس پائی، اڑا چکا ہوں
بغرض بیداد حزب مکتب کے ناقدوں نے یہی بتایا،
تمام شِٹ ہے
کہیں سے کترا کہیں سے چھاپا
لکھا لکھایا، سنا سنایا
جو شعر کیسے میں رہ گئے ہیں
جو مال کمرے میں چھوڑ آیا، تمام شِٹ ہے
کبھی پرانے ورق کھنگالوں تو دیکھتا ہوں
جنوں میں لیلی کی اور پھینکے سبھی اشارے،
اٹھنّیوں کے حساب سے جو گلی کے بچوں میں بیچتا تھا، سبھی غبارے
گھٹن میں حاکم کے منہ پہ داغے بلند نعرے، تمام شِٹ ہے
لڑکپنے میں کرانتی کا چڑھا تھا سر پہ جو بھوت شِٹ ہے
قفس میں قیدی کی پائے کوبی، یہ مدعی کا سکوت شِٹ ہے
یہ منبر منصفی ہے بُل شِٹ
بیان شٹ ہے، ثبوت شٹ ہے

یہ مجھ سے اگلے جو ہیں سپیکر، جنابِ گوتم یہی کہیں گے؛
کلام شِٹ ہے
سو میں بھی اس شٹ کدے میں تھوڑا سا بھنبھنا لوں تو کون سا پُل اکھاڑ لوں گا
نشہ ملے تو گریز پا عمر پاس آ آ کے ٹوکتی ہے
کہ چوتھے لانچر پہ ہاتھ روکو اور اٹھ کے چہرے پہ ٹھنڈے پانی کے ہاتھ مارو
اطاقِ فرصت میں اب کبھی وہ کبیر و میرا کی پاک روحیں نہیں بھٹکتیں
یہ میری بے سمت کوچہ گردی بھی قیس و رانجھا کے پائے آوارگی کی وارث نہیں رہی ہے
چلا ہوا ہوں کہ ہر طرف یونہی چل سو چل ہے
خبر نہیں ہے شمال کیا ہے جنوب کیا ہے
جو پوچھتے ہو
کہ راہ چلتے میں ایک کھمبے سے کیوں گلے مل کے رو پڑا ہوں
تو سین یہ ہے
کہ ملنے والے تو یونہی بھگدڑ میں ایک فٹ پاتھ پر ملے تھے
اس ایک بھگدڑ کے بیچ دو مضطرب سے دل تھے
اور ان کے پیچھے تکلف و مصلحت کے کتے لگے ہوئے تھے
وہ وقت اور وہ مقام شِٹ ہے
ملن کی ساعت کیا گیا سب حفاظتی انتظام شِٹ ہے
پچھڑتے پیروں جو کر سکے تھے کلام و عرض سلام شِٹ ہے
بچھڑ کے وہ پہلی بڑبڑاہٹ کے بعد کا فیس پام شِٹ ہے
مرے عزیزو، تمام شِٹ ہے
Image: pawel kuczynski

Asad Fatemi

Asad Fatemi

Asad Fatemi is a freelance writer and a poet. He is a former editor of Urdu section of Laaltain. He lives in his hometown in district Jhang.


Related Articles

اسٹریٹ تھیٹر

وجیہہ وارثی: کتیا کے سر پر پتھر مارنے والی کو
دادوتحسین کی نگاہ سے دیکھا جاتا ہے
اور پلے اپنی دمیں چھپائے پھرتے ہیں

دنیا آب و گِل کے ذخیروں میں بٹی ہوئی ہے

نصیر احمد ناصر: سرحد کے اُس پار سے آنے والے
بادلوں کی کلانچیں
اور بارش کے چھینٹے بتا رہے ہیں
کہ دشمن نے پانیوں کی جنگ جیت لی ہے

مفرور

نصیر احمد ناصر: اس سے پہلے کہ سمندر بھی اُن کی دسترس میں آ جائیں
مجھے نکل جانے دو
اُن جزیروں کی طرف
جہاں کبھی وحشی قبائل آباد تھے