آج کا گیت: تنہائی کے سب دن ہیں (قاری وحید ظفر قاسمی)

آج کا گیت: تنہائی کے سب دن ہیں (قاری وحید ظفر قاسمی)

کلام: محمد علی جوہر
نعت خواں: قاری وحید ظفر قاسمی

تنہائی کے سب دن ہیں، تنہائی کی سب راتیں
اب ہونے لگیں ان سے خلوت میں ملاقاتیں

ہر لحظہ تشفی ہے ہر آن تسلی ہے
ہر وقت ہے دل جوئی ہر دم ہیں مداراتیں

کوثر کے تقاضے ہیں، تسلیم کے وعدے ہیں
ہر روز یہی چرچے، ہر روز یہی باتیں

معراج کی سی حاصل سجدوں میں ہے کیفیت
اک فاسق و فاجر میں اور ایسی کراماتیں

بے مایہ سہی لیکن شاید وہ بُلا بھیجیں
بھیجی ہیں درودوں کی ہم نے بھی سوغاتیں


Related Articles

آج کا گیت: خوفِ خدا رہے کہ خیالِ بتاں رہے (مہدی حسن)

خوفِ خدا رہے کہ خیالِ بُتاں رہے کس طرح ایک دل میں غم دو جہاں رہے غُربت میں تیری یاد

آج کا گیت: زینہ زینہ وقت کی تہہ میں اتر جائیں گے ہم (اقبال بانو)

زینہ زینہ وقت کی تہہ میں اتر جائیں گے ہم ایک دن یہ قلزمِ خوں پار کر جائیں گے ہم

آج کا گیت: بنا گلاب تو (کلام: عبیداللہ علیم، آواز: رونا لیلیٰ)

کلام: عبیداللہ علیم آواز: رونا لیلیٰ بنا گلاب تو کانٹے چبھا گیا اک شخص ہوا چراغ تو گھر ہی جلا