تنہائی (رضوان علی)

تنہائی (رضوان علی)

شاید اس سیارے پر
مَیں اکیلا ہی ہوں
اور مجھے کوئی نوے برس کا سفر
اکیلے ہی طے کرنا ہے
باقی سب ہمسفر
شاید ابھی سو رہے ہیں
جب وہ جاگیں گے
تب تک تو یہ سفر ختم ہو چکا ہو گا

اس تنہائی کا کوئی سدِ باب ہے؟
کوئی ہمسفر، ہم نفس، ہم راز
ہے کہ نہیں ہے؟
کیا میں کسی اور سیارے پہ
کوئی پیغام بھیج سکتا ہوں؟
شاید وہاں کوئی ہو ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
میرا ہمسفر، ہم نفس، ہم راز
میرا غمگداز، ہم دم، ہم زاد

مجھے لگتا ہے میَں
کسی غلط جگہ پیدا ہو گیا ہوں
اب ایسے میں میَں
کیا شیو کروں
کیا کپڑے بدلوں
نہاؤں بھی کیوں؟
زندہ ہی کیوں رہوں
کاش میں خلائی مخلوق ہوتا
تیرتا رہتا
اور کہیں نہ پہنچ پاتا
واپس لوٹ آتا
تنہائی کی گہرائی میں ۔۔۔۔۔۔

اے خدائے عزوجل!!
اس سیارے پر یا تو کسی کو بھیج
یا مجھے اپنے پاس بلا لے
یا مجھے وہ گُر بتا
کہ میں کسی کو جگا سکوں
کسی کو اپنا بنا سکوں
رُلا سکوں، ہنسا سکوں

Rizwan Ali

Rizwan Ali

ڈاکٹر رضوان علی کراچی کی ادبی سرگرمیوں میں کئی برس تک مصروف رہے۔ اب گزشتہ ۲۲ سالوں سے امریکہ کی ریاست ورجینیا میں مقیم ہیں اور وہاں کی تین یونیورسٹیوں میں نفسیات کے پروفیسر ہیں۔ ادب کے ساتھ ساتھ تھیٹر اور موسیقی سے بھی خاص لگاؤ ہے۔ تقریباً ڈیڑھ سال سے ایک معتبر ادبی فورم "لٹرری فورم آف نارتھ امریکہ" کے نام سے چلا رہے ہیں۔ نظم اور غزل دونوں اصنافِ سخن کو اظہار کا ذریعہ گردانتے ہیں۔


Related Articles

کام دیو (کیوپڈ) کے تیر

ستیہ پال آنند: تن تن تن ۔۔۔ تن تن تن
کیوپڈ اک اندھا لڑکا ہے
دیکھ نہیں سکتا، تن تن
سُن سکتا ہے، تن تن تن

دنیا آب و گِل کے ذخیروں میں بٹی ہوئی ہے

نصیر احمد ناصر: سرحد کے اُس پار سے آنے والے
بادلوں کی کلانچیں
اور بارش کے چھینٹے بتا رہے ہیں
کہ دشمن نے پانیوں کی جنگ جیت لی ہے

تلاش

ثروت زہرا: مجھے یقین ہے
کہ میری نال خود مجھے
میری قبر تک
تلاش کرتی ہوئی پہنچ جائے گی