تُو نے بھی تو دیکھا ہو گا (سرمد صہبائی)

تُو نے بھی تو دیکھا ہو گا (سرمد صہبائی)

تُو نے بھی تو دیکھا ہو گا
تیری چھتوں پر بھی تو پھیکی زرد دوپہریں اُتری ہوں گی
تیرے اندر بھی تو خواہشیں اپنے تیز نوکیلے ناخن کھبوتی ہوں گی
تو نے بھی تو رُوئیں رُوئیں میں موت کو چلتے دیکھا ہو گا
آہستہ آہستہ جیتے خون کو مرتے دیکھا ہو گا
گُھٹی ہوئی گلیوں میں تو نے
تنہائی کو ہچکیاں لیتے سُنا تو ہو گا
تیری پتھرائی آنکھوں نے
اک وہ خواب بھی دیکھا ہو گا
جس کے خوف سے تیرا دل بھی زور زور سے دھڑکا ہو گا
ناآشنائی کے شہروں میں
اپنے بدن کی تنہائی سے لپٹ لپٹ کر رویا ہو گا
جھوٹے دلاسوں کی چادر کو تُو بھی اوڑھ کے سویا ہو گا
میں نے تجھے پہچان لیا ہے
تُو نے بھی تو مجھے کہیں پر
اس سے پہلے دیکھا ہو گا
Image: Cheenu Pillai


Related Articles

ایک کمزور دِل باپ اور سانحہ پشاور

آرمی پبلک سکول پشاور پر ہونے والے ہولناک حملے کی خبر جب نیوز چینلز پر دیکھی تو شروع میں یہ حملہ بھی کراچی ایئر پورٹ، جی ایچ کیو اور وانا پولیس اکیڈمی پر ہونے والے دہشتگردوں کے حملے جیسا لگا

ہم رند بھی ہیں حلقہ ماتم میں اے حسین

فہیم عباس سیاہی سے کھیلتے ہیں روشنی سے نہیں۔ سوگ کی شدت کو سیاہ رنگ کی شدت سے ظاہر کرنے کا یہ ہنر ان تصاویر میں واضح ہے۔

Join Laaltain as a correspondent

Laaltain is looking for young, passionate and talented correspondents to enhance its network in educational institutes for its online and