تُو نے بھی تو دیکھا ہو گا (سرمد صہبائی)

تُو نے بھی تو دیکھا ہو گا (سرمد صہبائی)

تُو نے بھی تو دیکھا ہو گا
تیری چھتوں پر بھی تو پھیکی زرد دوپہریں اُتری ہوں گی
تیرے اندر بھی تو خواہشیں اپنے تیز نوکیلے ناخن کھبوتی ہوں گی
تو نے بھی تو رُوئیں رُوئیں میں موت کو چلتے دیکھا ہو گا
آہستہ آہستہ جیتے خون کو مرتے دیکھا ہو گا
گُھٹی ہوئی گلیوں میں تو نے
تنہائی کو ہچکیاں لیتے سُنا تو ہو گا
تیری پتھرائی آنکھوں نے
اک وہ خواب بھی دیکھا ہو گا
جس کے خوف سے تیرا دل بھی زور زور سے دھڑکا ہو گا
ناآشنائی کے شہروں میں
اپنے بدن کی تنہائی سے لپٹ لپٹ کر رویا ہو گا
جھوٹے دلاسوں کی چادر کو تُو بھی اوڑھ کے سویا ہو گا
میں نے تجھے پہچان لیا ہے
تُو نے بھی تو مجھے کہیں پر
اس سے پہلے دیکھا ہو گا
Image: Cheenu Pillai


Related Articles

سبیل سے بندوق تک

ہم محلے کے سارے بچے ایک سفید چادر لے کر سارے محلے میں ننگے پاوں پھرتے اوردس محرم کو اہل تشیع کے جلوس کے لیے سبیل لگانے اور میٹھے چاولوں کی دیگ بنانے کے لیے چندہ جمع کرتے۔ قریب قریب ہر محلے میں اسی طرح کا اہتمام نظر آتا۔ مگر اسی زمانے میں ایک برس ہمیں یہ کہہ کر محرم میں باہر نکلنے سے منع کر دیا گیا کہ ان دنوں میں باہر نکلنا خطرناک ہے۔

خدا ان کے نقشے نہیں بناتا؟

سیڑھیاں ختم ہو نے سے پہلے پہلے
ضائع کی جا چکی ہوں گی
تمام کاربن کاپیاں

رونقِ دہر میں۔۔۔۔

شیراز اسلم کی فوٹو گرافی (Published in The Laaltain - Issue 8)