تمہارا کہکشاں سے وصال ہوا

تمہارا کہکشاں سے وصال ہوا


تمہارا کہکشاں سے وصال ہوا
طنز اور تبرّا کرنے والے
تمھاری کائناتی مسکراہٹ کا فراق کیسے سمجھ سکتے ہیں ؟
گھٹن اور جبر کے چاپلوس
تمھارے لئے کہے جانے والے دعائیہ کلمات پر نہیں
اپنے فکری افلاس پر ہنس رہے ہیں !
یہ تاریخ کے وہ بد دعائے ہوئے بوزنے ہیں
جن کی واحد تحقیق
کفر اور ایمان کے سرٹیفیکیٹ بانٹنے تک ہے !
بد قسمتی کے سنگھاسن پر بیٹھے ہوئے بے دماغ افراد !
جنہوں نے آج تک کسی روشن دماغ کی روشنی سے کچھ حاصل نہیں کیا
ان کی کسی بات کا برا مت ماننا
یہ تنگ نظر نہیں، نابینا ہیں !
میں تمھارے وصال پر ایک نظم اور سفید گلابوں کا پرسہ پیش کرتا ہوں
آج تم نے برسوں بعد اپنے قدموں پر پہلی اڑان بھری ہو گی
میں تصور کر سکتا ہوں
کہ تمھاری مسکراہٹ آج کس قدر روشن ! کس قدر واضح ہو گئی ہو گی
پیارے ستارے !
مجھے تمھارے وصال کا دکھ نہیں
سرشاری ہے
تم نے اپنا علم تقسیم کرنے میں کوئی سستی نہیں دکھائی
تم نے ثابت کیا
کوئی بھی معذوری،
تخلیقیت اور علم کے راستے میں کوئی معنی نہیں رکھتی
اے بزرگ ستارے
تم ہمیشہ روشن رہو گے
کھوج کرنے والی پیشانیوں
کائنات کا کُھرا نکالنے والے بہادر دماغوں
اور بچوں کی ہنسی میں
Image: Grant Lund

Did you enjoy reading this article?
Subscribe to our free weekly E-Magazine which includes best articles of the week published on Laaltain and comes out every Monday.

Related Articles

پریشر ککر کی تقلید

سلمان حیدر: میں کچن میں لوٹا تو وہ میرے سنک کے سامنے ہاتھ جوڑے کھڑا تھا

درخت

سید کاشف رضا: میرے سینے پر جتنے لفظ اُگے
ان سے میں کچھ اور بنانا چاہتا تھا
مثلاً ایک درخت
جسے کاٹ دیا جائے
تو اس سے میرا خون ابلنے لگے

سائیں کے نام

سائیں بلاول،
اک دن تو نے
موہنجو دڑو کی مری ہوئی تہذیب کے اوپر
زندہ لوگوں کے جھرمٹ میں