تمہاری وجہ سے (فیثا غورث)

تمہاری وجہ سے (فیثا غورث)

تمہاری وجہ سے میں ایک خلا نورد نہیں بن سکا
میرے مجسمے کسی چوک پر نصب نہیں ہوئے
میرے نام سے کوئی سڑک منسوب نہیں کی گئی
میرے کارناموں پر کہیں کوئی مقالہ نہیں لکھا جا سکا
اور کوئی قومی دن میرے لیے مختص نہیں کیا گیا

تمہاری وجہ سے
میں ان عمارتوں کا افتتاح نہیں کر سکا
جو میرے دیئے ہوئے چندے سے تعمیر ہو سکتی تھیں
میں ان بیمار بچوں کے ساتھ تصویریں نہیں بنوا سکا
جو مرنے سے پہلے ایک بار
میرے ساتھ تصویریں بنوانے والے تھے

میں وہ نامور کھلاڑی تمہاری وجہ سے نہیں بن سکا
جسے دیکھنے کے لیے لوگ قطاریں بناتے ہیں
یا جو واشنگ پاوڈر کے اشتہار میں آ سکتا ہے
نہ وہ فلمی ستارہ
جس کی عشق بازیوں سے
اخباروں کے صفحے رنگین ہوتے ہیں

میرے نام کے جلسے
میرے نام کے جلوس
میرے نام کے تہوار
میرے نام کے درخت کہیں بھی نہیں
شہر میں کہیں بھی میرے نام کی کوئی یادگار تمہاری وجہ سے نہیں بنی

ان فرشتوں سے
جو مجھ تک وحی پہنچانے کو بے چین رہتے ہیں
میں تمہاری وجہ سے ہم کلام نہیں ہوتا
حیات قبل از حیات کی کوئی حکایت
نجات بعد از حیات کی کوئی سبیل
مجھ سے روایت نہیں ہو سکی
(اور اگر ایسا ہو بھی جاتا
تو مجھ پر ایمان لانے والے
تمہاری وجہ سےمرتد ہو جاتے)

تمہاری کوکھوں، پستانوں اور رانوں کا بوجھ اٹھاتے
میری آنکھیں دھنس گئی ہیں
میرے ہاتھ مفلوج ہو گئے ہیں
میری زبان سبز ہو گئی ہے
اور تمہاری وجہ سے
میں یہ نظم مکمل نہیں کر سکا

Image: Giuseppe Guerreschi


Related Articles

Surrogation

خواہشیں جنگلوں میں اگے پیڑ ہیں
تیرے جسمی حقائق گھنی خواہشوں کی جڑیں کاٹتے ہیں
گلِ خشک کو کون تازہ کرے؟
بیضہ دانی کے خلیوں کی پہنائی میں
طاقتِ بیضہ سازی نہاں امر سے سَلب کر لی گئی
کیسے خواہش کو جسمِ حقیقت ملے؟

ہائے ماں

ثمینہ تبسم: اب میں جب بھی سپارا کھولتی ہوں
مُجھ کو پھر سے ڈراتا ہے وہ خواب

فراموشی کی مختصر تاریخ

انور سین رائے: ہمارے اجداد وہ حروف تہجی بھول گئے تھے
جن کی مدد سے وہ چیزوں،
لوگوں اور وقت کو یاد کرتے تھے

No comments

Write a comment
No Comments Yet! You can be first to comment this post!

Write a Comment

Your e-mail address will not be published.
Required fields are marked*