واشنگٹن کی کالی دیوار (نسیم سید)

واشنگٹن کی کالی دیوار (نسیم سید)

اپنی فیروز بختی پہ نازاں
سیہ پوش دیوار پر
آب زرسے لکھے نام
پڑھتےہوئے
میری آنکھیں پھسلتی ہوئی
نیہہ پر جا گریں
الغِیاث! الاَماں!
ایک بستی کے جسموں کا گارا
سیہ ماتمی مرمروں کے تلے
اس کی بنیاد کا رزق تھے
زائرین۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
جوُق در جوُق
اس غم زدہ دل گرفتہ کو
اشکوں کے نذرانے دیتے
فقط آب زرسے لکھے نام گنتے ہوئے
اور وہ جن کی تعداد گننے کو
گنتی کا کوئی عدد ہی نہ تھا
جن کے جسموں کے گارے سے تھاپی ہوئی خشت
تھامے تھی دیوار کو
کوئی اک اچٹتی ہوئی سی نظر بھی ادھرنہ گئی
میری آنکھیں دھنسی جا رہی تھیں
پگھلے جسموں کی دلدل میں
آنکھیں دھنسی جا رہی تھیں
کہ دیوار کی ایک ٹھوکر۔۔۔
حقارت بھری ایک ٹھوکر نے
واں سے کہاں لا کے پھینکا ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
میری سو سالہ غربت۔۔۔ خجالت کی تاریخ ہے
میرا ماحول ہے
اور میں ہوں
شراب طہورہ کی
خواہش، طلب اورلذت میں دھت
اپنی گرتی حویلی کی چوکھٹ سے لپٹی
مری نیم مردہ سی آنکھیں ہیں
سوچیں ہیں، نظمیں ہیں
اورآب زر سے لکھے نام
مجھ پر ہنسے جا رہے ہیں
اونچا اونچا ہنسے جا رہے ہیں
Image: Kamran Taherimoghaddam


Related Articles

خودفریبی کے سرد خانے میں

یہ راز نہیں حقیقت ہے
کہ تنکا اپنے باطن میں
آگ کے علاوہ نمی بھی رکھتا ہے

نوحے کی دهن کوئی کمپوز نہیں کرتا

موت روز آنے کے باوجود اپنا ٹائم ٹیبل نہیں بناتی
لیکن تعزیت رسم ہے
سو افسردہ ہونے کی ایکٹنگ سکهانے کا سکول کھولنا ہو گا

سوختہ جسم کا لباس

فیصل عظیم: لباس جل کر مرے بدن پر چپک گیا ہے
جلی ہتھیلی کی پشت سے ٗ بھولے بھٹکے شعلے
کہیں سے جو سر اُٹھا کے باہر
کو جھول جاتے ہیں ٗ اُن کو خود ہی دبا رہا ہوں