وہ جو اپنی اپنی گلیوں کے نکڑ پر مارے گئے

وہ جو اپنی اپنی گلیوں کے نکڑ پر مارے گئے

وہ جو اپنی اپنی گلیوں کے نکڑ پر مارے گئے
وہ جو اپنے گھروں کی چوکھٹوں پر مارے گئے
مارنے والوں کے ہاتھ گوشت پوست کے کب تھے
کیا تھے؟
ہاں، لوگ کہتے ہیں
وہ خون پینے والے جنگلی جانوروں کے پنجوں سے ملتے جلتے تھے
یہ آتے کہاں سے
جنگل سے؟
یہ بھوکے ہیں کیا؟
انسانی جانوں کے
ہاں
کسی نہ کسی شکل میں
لیکن کب تک
پتہ نہیں یہ چھوڑ دئیے جاتے ہیں
ہر موسم میں
کون چھوڑتا ہے ان کو
وہ جو زندہ رہنا چاہتے ہیں
انسانی جانوں کے بل بوتے پر
ان کی قبریں ترس رہی ہیں ان کے لئے
کب ان کےپیٹ پھٹیں گے
کب یہ ان کو بھریں گے
اب تو ان کی قبروں پر
کتے بلیوں نے پیشاب کرنا بھی چھوڑ دیا ہے
وہ جاننے لگے ہیں
یہ قبریں ان کی منتظر ہیں
جو انسانوں کا گوشت کھاتے ہیں
ان کے بچوں کا خون پیتے ہیں
موت بھی ان کا پیچھا نہیں کرتی
وہ جانتی ہے
اللہ نے ان کی رسی دراز کی ہوئی ہے
لیکن کب تک
یہ جشن منائیں گے
آخر کب تک
Image: Miream Salameh

Did you enjoy reading this article?
Subscribe to our free weekly E-Magazine which includes best articles of the week published on Laaltain and comes out every Monday.

Related Articles

جبر کی دنیا

سلمان حیدر: زندگی کا ہیولہ سرچ ٹاور پر گھومتے سورج کی طرح
سیاہ پٹی سے ڈھکی آنکھوں کے سامنے
رات جیسے دن میں کئی بار گزرتا ہے

عمر قید

رضوان علی: مجھے اپنے ہی جسم میں
قید کر دیا گیا ہے
پچھلے کئی سالوں میں
اس جسم کے اندر
مَیں بہت سی عمر قیدیں
گزار چکا ہوں

پیچھے مُڑ کے مت دیکھنا!

ثمینہ تبسم: صحیفے طاق پہ دھرے ہیں
قانُون مر چُکا ہے
اور تُم صرف ایک ناہنجار عورت ہو