یہ شام بکھر جائے گی (ابرار احمد)

یہ شام بکھر جائے گی (ابرار احمد)

ہمیں معلوم ہے
یہ شام بکھر جاے گی
اور یہ رنگ۔۔۔۔ کسی گوشہ بے نام میں کھو جائیں گے
یہ زمیں دیکھتی رہ جاے گی.. قدموں کے نشاں
اور یہ قافلہ۔۔۔۔۔
ہستی کی گزرگاہوں سے
کسی انجان جزیرے کو نکل جاے گا

جس جگہ آج
تماشائے طلب سے ہے جواں
محفل رنگ و مستی
کل یہاں، ماتم یک شہر نگاراں ہو گا

آج جن رستوں پہ
موہوم تمنا کے درختوں کے تلے
ہم رکا کرتے ہیں, ہنستے ہیں
گزر جاتے ہیں
ان پہ ٹوٹے ہوئے پتوں میں ہوا ٹھہرے گی

آج ۔۔۔ جس موڑ پہ، ہم تم سے ملا کرتے ہیں
اس پہ کیا جانیے
کل کون رکے گا آ کر ۔۔۔۔۔

آج اس شور میں شامل ہے
جن آوازوں کی دل دوز مہک
کل یہ مہکار اتر جاے گی, خوابوں میں کہیں ۔۔۔۔

گھومتے گھومتے تھک جائیں گے
ہم --- فراموش زمانے کے ستاروں کی طرح
ارض موجود کی سرحد پہ
بکھر جائیں گے ۔۔۔۔۔۔۔

اور کچھ دیر، ہماری آواز
تم سنو گے تو ٹھہر جاؤ گے
دو گھڑی
رک کے گزر جاؤ گے، چلتے چلتے

اور سہمے ہوئے چوباروں میں
انہی رستوں، انہی بازاروں میں
ہنسنے والوں کے
نئے قافلے آ جائیں گے !
Image: Hasan Abdali

Abrar Ahmed

Abrar Ahmed

Abrar Ahmad has been writing poetry since 1980. He has published two books of poetry till now, one of poems, 'Akhri Din Sey Pehlay' (1997), and other of ghazals, 'Ghaflat Kay Brabar' (2007). His poetry frequently takes up themes of existential angst, meaninglessness of life, disillusionment and displacement.


Related Articles

وقت تو میرا دوست ہے

وقت بہت گزر کر میرے پاس آیا ہے
اتنا گزر جانے کے باوجود

ناف کٹوانے کی سزا

صفیہ حیات: کائناتی برتن میں آنسو اتنے جمع ہو گئے ہیں
کہ بارش کی بھی ضرورت نہیں

عشرہ/ بنی کشمیر کے عذاب

ادریس بابر: کشمیر کے حالات بہتر بنانے کے لیے بہتر ہو گا کہ کشمیریوں کو چن چن کے مار دیا جائے
ویسے انہیں جیل میں تھانے میں گھر میں عمر قید تو کیا ہی جا سکتا ہے
کشمیریوں کو مستقل بےہوشی کے ٹیکے لگائے رکھنا بھی کوئی مسئلہ نہیں