زنہار (رضی حیدر)

زنہار (رضی حیدر)

چھپکلی چیختی ہے رفت کی بے خوابی سے
ٹڈیاں کاٹتی ہیں رات کے گونگے پن کو
سرد صرصر کی زباں رونگٹوں کو چاٹتی ہے
لاکھوں زندوں کی تمناؤں کے ڈھانچوں کا ثمر
لاکھوں مردوں کی نفس بستہ بقا تکنے کے بعد
میں کہ ہوں، ہوں بھی نہیں پھر بھی جیے جاتا ہوں
وہ کہ ہے، ہے تو سہی، پھر بھی کہاں ہے آخر
غم کے رخنوں کو بھرے جاتا ہے تھکتا ہی نہیں
مرگ کا سنکھ بجے جاتا ہے رکتا ہی نہیں

سر پہ یہ نیل کا دریا ہے یا کانا دجال
چاند کی آنکھ سے، تکتا ہے مےٌ ازرق کو
رنگ تاروں کے غٹکتا ہے یہ کانا دجال
برہنہ کر بھی چکا جبہ رہِ ابرق کو
تارکول اُس ہی جہاں تاب پہ گرتا ہے جسے
زعم ہو زرق غلافوں کی ضیا باری کا
سرخ الفت کی سحر تاب سحر کاری کا
چاٹتے چاٹتے قرنوں کے مقید بونے
پھر سے سو جائیں گے، پلکوں کی گراں باری سے
سرد لمحوں کی زمہریری زہرکاری سے
دل کی بے جان زمینوں سے نکالے جائیں
احمریں ہاتھ،
مرمریں جسم، ابابیلوں کا خون
مردہ چڑیوں کے زنخداں،
تانبے کی چیخیں،
گرتے ہاتھی کی فغاں،
(کتنےآزردہ ہیں قریوں کی تباہی کے نشاں)
اشک دریاؤں کو فرمان سنا دو اب کے
سب کے سب بار دفینوں سے بہا لے جایئں
جن کو غاروں کے حزیں کشف نے تصویر کیا
وقت کی سوئی کی تکرار نے تعمیر کیا
Iamge: Corinna Wagner

Razi Haider

Razi Haider

Razi Haider is an engineer by profession , Kashmiri by heart , a poet and photographer. His Interests include politics, ontology, ethical philosophy, theology film and photography history.


Related Articles

میں اندھیرے کی بات سے متفق ہوں

سدرہ سحر عمران: جب ہماری نفرت کا قومی دن منایا جاتا ہے
ہماری زبانیں اگالدان بن جاتی ہیں
تم اپنے آپ کو کتنا تھو ک سکتے ہو؟

تیری بیلیں تیرے پھول

علی اکبر ناطق: دُھول گگن کا رہنے والا، گلے میں غم کا ہار
دھوپ کے سائے میں بُنتا ہے دن کے روشن تار
شام تھکے تو آ جاتا ہے پورب دیس کے پار

(غزل - (ظفر خان

ہمیں دیوار و در کا خوف ورثے میں ملا ہے

ہے کوئی زخم شاید اسکی پیشانی کا تعویذ

مرا مرکب ندی میں چلتے چلتے جھانکتا ہے