زندگی کی کشمکش (رضوان علی)

زندگی کی کشمکش (رضوان علی)

مجھے ہر سمت سے کھینچا جا رہا ہے
رسیاں میرے نتھنوں میں بھی
نکیل بنا کر
ڈال دی گئی ہیں
میرے جوڑ اب مجھ سے الگ ہونے والے ہیں
کیا میں یہ سب کچھ سہہ پاؤں گا؟

میں تھکنے سے پہلے مرنا نہیں چاہتا
لیکن مجھے مرنے سے پہلے تھکایا جا رہا ہے
کبھی اس طرف کھینچ کر، کبھی اُس طرف کھینچ کر
یہ اتنے سارے بونے آخر مجھ سے کیا چاہتے ہیں؟
Image: Garth Knight

Rizwan Ali

Rizwan Ali

ڈاکٹر رضوان علی کراچی کی ادبی سرگرمیوں میں کئی برس تک مصروف رہے۔ اب گزشتہ ۲۲ سالوں سے امریکہ کی ریاست ورجینیا میں مقیم ہیں اور وہاں کی تین یونیورسٹیوں میں نفسیات کے پروفیسر ہیں۔ ادب کے ساتھ ساتھ تھیٹر اور موسیقی سے بھی خاص لگاؤ ہے۔ تقریباً ڈیڑھ سال سے ایک معتبر ادبی فورم "لٹرری فورم آف نارتھ امریکہ" کے نام سے چلا رہے ہیں۔ نظم اور غزل دونوں اصنافِ سخن کو اظہار کا ذریعہ گردانتے ہیں۔


Related Articles

احساس

خدایا،
میں نہیں کافر،
نہ مجھ کو کفر بکنے کا ھے کوئی شوق

مجھے نہ کر وداع

ستیہ پال آنند: مجھے اٹھا
مجھے گلے لگا
نہ کر وداع، میری ذات آج
 الٹے رُخ کی یہ صلیب
میں نے اپنے کندھوں سے اتاردی !!

الاؤ

نصیر احمد ناصر:
ایک جھماکا ایسا ہو گا
سڑکیں اور فٹ پاتھ جلیں گے
مرنے والے، مارنے والے
سب اک ساتھ جلیں گے