میں لاپتا ہوگیا ہوں

مبشر علی زیدی: کچھ لوگ کہتے ہیں
کسی کے مرنے پر
موم بتی نہیں جلانی چاہیے
لیکن وہ یہ نہیں بتاتے
کہ آنکھ کا تارہ لاپتا ہو جائے
تو روشنی کہاں سے لائیں؟
Read More

Fiction

View all posts

پستان ۔ دسویں قسط

تصنیف حیدر: کمرے کی لائٹ آن تھی، بارش کے شور کی گرج ہولے ہولے مدھم پڑرہی تھی، وہ کمفرٹر میں گھس گئی اور ابھرتے ہوئے سورج کی گرد میں نہ جانے کب اس کے بھاری اور گہرے سرخ پپوٹوں کا آفتاب غروب ہوگیا۔
Read More

Interviews

View all posts

فکشن رائٹر کا کمٹ منٹ زبان، اسلوب اور کہانی سے ہوتا ہے- اسد محمد خان

دراصل میں آزاد رہنا چاہتا تھا۔ کراچی آنے کے بعد مجھے وہ آزادی میسر آئی تو میں نے نظمیں کہنی شروع کیں۔ اور اس کے بعد کہانیاں لکھنی شروع کیں۔

امروز- محبت کا لوک گیت جسے نام کی ضروت نہیں (دوسرا حصہ)

امرتا پریتم نے ہندی میں لکھنا شروع کیا تب جا کر گھر کے حالات کچھ ٹھیک ہوئے۔ لگ بھگ ایک لاکھ روپے مہینے کی آمدن ہونے لگی لیکن امرتا ہمیشہ سے دل کی بہت امیر تھی۔ بُرے سے بُرے حالات میں بھی کبھی اصولوں پر سمجھوتہ نہیں کیا۔

امروز- محبت کا لوک گیت جسے نام کی ضروت نہیں (پہلا حصہ)

ہنری ملرنے کہا تھا "ایک دن آئے گا جب سارے آرٹ دم توڑ دیں گے بس زندگی باقی رہ جائے گی"۔ میرا نقطہ نظر ہنری ملرسے مِلتا جُلتا ہے ۔ میرے خیال میں تمام آرٹ راستے ہیں اور زندگی منزل ہے۔

Humor and Satire

View all posts

اے میری سہیلی

حمیرا اشرف: میری عزیز از جان میں تو تمھارے مستقبل کے لیے ابھی سے پریشان ہوگئی ہوںمیری مانو تو اپنے فیصلے پر نظرثانی کر لو۔ کیونکہ شادی نہ کرنے پر جو کچھ بھی معاشرے سے سننے کو ملتا ہے وہ اس سب کے آگے کچھ نہیں ہے جو شادی کے بعد سننے کو ملتا ہے۔
Read More

Art and Culture

View all posts

ضیاء الحق سے رفاقت مرزا تک - اوم پوری کے دس یادگار فلمی کردار

ابنِ اظہر: تقریباً نصف صدی پر محیط فلمی کرئیر میں اوم پوری نے بشمول ہندوستانی، امریکی، انگریزی اور پاکستانی فلموں میں بہت سے یادگار کردار کیے

بلراج مین را: موت/ تخلیقی موت کا طلسم

اکرم پرویز: ہم نے مین را کی چپ میں معاشرتی اور سیاسی استبداد کی کہانی اگر نہیں سنی تو پھر ہمیں اس کی موت پر چھاتی پیٹنے کا کوئی حق نہیں۔

ہجوم سے بچھڑا ہواشخص۔۔۔اوم پوری

خرم سہیل: اوم پوری نہیں جانتے تھے، خواب دیکھے نہیں جاتے، خوبصورت شعور اور حساس مزاج رکھنے والوں کے ہاں خواب اُتراکرتے ہیں، تصور کے راستے سے، آنکھوں کے اندراورروح میں سرایت کرتے ہیں۔وہاں کوئی ضبط کام نہیں آتا

نیلے آسمان پر رُکی ہوئی رُت کی کتھا۔ ۔ ۔ سانوریا

خرم سہیل:
فلم کامنظر نامہ بے حد خوبصورت ہے۔ نیلے رنگ میں رنگے ہوئے درودیوار اور رات کے ماحول کے تناظر میں ایک شاندار سیٹ بنایا گیا، جس کے تخلیق کار "امنگ کمار"ہیں