Fiction

View all posts

مسکراہٹ

رفاقت حیات: اس نے میری گردن کو بازوؤں میں جکڑ لیا اور میرے گالوں کو چومنے لگا۔ پھر اس کے دانت گالوں میں پیوست ہوتے چلے گئے۔ اس کی غلیظ رال چہرے پر پھیل گئی۔ میں نے اس کے بال کھینچے، پرے دھکیلنے کی کوشش کی۔ لیکن اس کے نتھنوں سے گرم سانسیں میری جلد کے مساموں میں گھسنے لگیں۔

Read More

Interviews

View all posts

فکشن رائٹر کا کمٹ منٹ زبان، اسلوب اور کہانی سے ہوتا ہے- اسد محمد خان

دراصل میں آزاد رہنا چاہتا تھا۔ کراچی آنے کے بعد مجھے وہ آزادی میسر آئی تو میں نے نظمیں کہنی شروع کیں۔ اور اس کے بعد کہانیاں لکھنی شروع کیں۔

امروز- محبت کا لوک گیت جسے نام کی ضروت نہیں (دوسرا حصہ)

امرتا پریتم نے ہندی میں لکھنا شروع کیا تب جا کر گھر کے حالات کچھ ٹھیک ہوئے۔ لگ بھگ ایک لاکھ روپے مہینے کی آمدن ہونے لگی لیکن امرتا ہمیشہ سے دل کی بہت امیر تھی۔ بُرے سے بُرے حالات میں بھی کبھی اصولوں پر سمجھوتہ نہیں کیا۔

امروز- محبت کا لوک گیت جسے نام کی ضروت نہیں (پہلا حصہ)

ہنری ملرنے کہا تھا "ایک دن آئے گا جب سارے آرٹ دم توڑ دیں گے بس زندگی باقی رہ جائے گی"۔ میرا نقطہ نظر ہنری ملرسے مِلتا جُلتا ہے ۔ میرے خیال میں تمام آرٹ راستے ہیں اور زندگی منزل ہے۔

Humor and Satire

View all posts

میں اور میرے ایم۔ فل والے (قسط اول)

تالیف حیدر: میری ایم فل کی کلاس میں کل ستائس بچے ہیں اور میں یہ بات پورے یقین سے کہہ سکتا ہوں کہ اس میں سے کم سے کم بیس لوگ ایسے ہیں جو اگر گزشتہ صدی میں اشرف صبوحی کے ہاتھ آ جاتے تو ان کے خاکوں کا ایک عدد مجموعہ اور تیار ہو جاتا۔
Read More

Art and Culture

View all posts

نئی اردو شاعری کا استعاراتی نظام

صدف فاطمہ: اگر نئی شاعری کا دلجمعی سے مطالعہ کرو تو معلوم ہوتا ہے کے نئی شاعری میں معنیات کی سطح پر بکھرنے کا جذبہ آئے دن بڑھتا چلا جا رہا ہے۔

نئے ذہنوں کو خوش آمدید

تالیف حیدر: نئے ذہن کا استقبال نئی قوموں اور نئے دنیاوں کے عروج کی موجب ہے ۔ ان کی تعظیم نئی کائنات  کےروشن نظاروں کی ضامن ہے۔ ہمیں نئے ذہن کا استقبال کرنا چاہئے اور اس  کی آمد کے جشن کو اپنی ذات کا مسئلہ تصور کرنا چاہیے۔

ادب کسی کا مسئلہ نہیں

تالیف حیدر: ادب دنیا نہیں کائنات کے اس آخری چھور تک بسیط ہے جہاں تک انسان اپنے حواس کے ساتھ پہنچا ہے اور ادب اس خیال سے بھی کہیں زیادہ آگے کی چیز ہے جو ابھی ایک لاکھ برس بعد وجود میں آئے گا۔

میں کچھ لکھنا چاہتا ہوں

تالیف حیدر: ادھوری تحریر لکھنا میرا محبوب مشغلہ ہے میں جتنا لکھتا ہوں یا پھر یہ کہوں کہ جتنا لکھے کو ایک مکمل صورت عطا کرپاتا ہوں اس سے پچاس گنا زیادہ میں ایسی ادھوری تحریریں لکھتا ہوں جن میں نہ میرا کوئی واضح موقف ہوتا ہے اور نہ داخلی اظہار۔