Fiction

View all posts

نعمت خانہ - پندرہویں قسط

خالد جاوید: میں ابھی بس اُن قبروں تک ہی پہنچا ہوں گا کہ میں نے اپنے پیچھے ایک زور کی دھمک سنی۔ ایک ایسی دھمک جس کے ساتھ ساتھ ایک پُراسرار سی سنسناہٹ بھی شامل تھی۔ میں واپس مڑا۔ ادھر شوربلند ہورہا تھا۔

Read More

Interviews

View all posts

فکشن رائٹر کا کمٹ منٹ زبان، اسلوب اور کہانی سے ہوتا ہے- اسد محمد خان

دراصل میں آزاد رہنا چاہتا تھا۔ کراچی آنے کے بعد مجھے وہ آزادی میسر آئی تو میں نے نظمیں کہنی شروع کیں۔ اور اس کے بعد کہانیاں لکھنی شروع کیں۔

امروز- محبت کا لوک گیت جسے نام کی ضروت نہیں (دوسرا حصہ)

امرتا پریتم نے ہندی میں لکھنا شروع کیا تب جا کر گھر کے حالات کچھ ٹھیک ہوئے۔ لگ بھگ ایک لاکھ روپے مہینے کی آمدن ہونے لگی لیکن امرتا ہمیشہ سے دل کی بہت امیر تھی۔ بُرے سے بُرے حالات میں بھی کبھی اصولوں پر سمجھوتہ نہیں کیا۔

امروز- محبت کا لوک گیت جسے نام کی ضروت نہیں (پہلا حصہ)

ہنری ملرنے کہا تھا "ایک دن آئے گا جب سارے آرٹ دم توڑ دیں گے بس زندگی باقی رہ جائے گی"۔ میرا نقطہ نظر ہنری ملرسے مِلتا جُلتا ہے ۔ میرے خیال میں تمام آرٹ راستے ہیں اور زندگی منزل ہے۔

Humor and Satire

View all posts

میں اور میرے ایم۔ فل والے (قسط اول)

تالیف حیدر: میری ایم فل کی کلاس میں کل ستائس بچے ہیں اور میں یہ بات پورے یقین سے کہہ سکتا ہوں کہ اس میں سے کم سے کم بیس لوگ ایسے ہیں جو اگر گزشتہ صدی میں اشرف صبوحی کے ہاتھ آ جاتے تو ان کے خاکوں کا ایک عدد مجموعہ اور تیار ہو جاتا۔
Read More

Art and Culture

View all posts

خوبصورتی کی اکائی اور دلکشی کا مجموعہ

خرم سہیل: “کویوکی کاتو”کی بولتی ہوئی آنکھوں کے وسط میں،الف ناک دیکھ کر،اس کے شاہانہ مزاج ہونے کاشائبہ ہوتاہے۔

جون ایلیا: مشہور مگر غیر مقبول شاعر

تصنیف حیدر: جون نے سب سے پہلے اس مذہبی نظام کی نفی کی تھی، جس نے آج ہندوستان اور پاکستان کو جہنم بننے کے دوراہے پر لاکھڑاکیا ہے۔

اطالوی حسن کی مکمل داستان:صوفیہ لورین

خرم سہیل: اطالوی فلم سے بہترین اداکارہ تسلیم کیے جانے والی صوفیہ لورین نے اٹلی میں بھی اسی فلم کے ذریعے وہاں کے مستند فلمی ایوارڈزبھی اپنے نام کرکے تہلکہ مچادیا۔

حکمرانوں کاحسین انتخاب:للی لینگٹری

خرم سہیل: بنفشی آنکھوں والی اس حسینہ نے موت کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کربات کی۔ فیشن کی دنیا میں بھی اپناحسن ثابت کیا،ایک وقت ایسا آیا،جب اس کے انداز اورادائیں ہی فیشن کے طورپر قبول کی جانے لگیں۔