Fiction

View all posts

پارہ دوز (تین پارچے ایک کہانی)

محمد حمید شاہد: میں اسے دیکھتے رہنا چاہتا تھا مگر اسے یوں دیکھنا میرے لیے ممکن نہ رہا تھا کہ میرا سر گھومنے لگا۔اور میں قبر جیسے اندھرے میں ڈوبتا چلا گیا۔ شان دار روشن قبر کے گہرے اندھیرے میں۔

Read More

Interviews

View all posts

فکشن رائٹر کا کمٹ منٹ زبان، اسلوب اور کہانی سے ہوتا ہے- اسد محمد خان

دراصل میں آزاد رہنا چاہتا تھا۔ کراچی آنے کے بعد مجھے وہ آزادی میسر آئی تو میں نے نظمیں کہنی شروع کیں۔ اور اس کے بعد کہانیاں لکھنی شروع کیں۔

امروز- محبت کا لوک گیت جسے نام کی ضروت نہیں (دوسرا حصہ)

امرتا پریتم نے ہندی میں لکھنا شروع کیا تب جا کر گھر کے حالات کچھ ٹھیک ہوئے۔ لگ بھگ ایک لاکھ روپے مہینے کی آمدن ہونے لگی لیکن امرتا ہمیشہ سے دل کی بہت امیر تھی۔ بُرے سے بُرے حالات میں بھی کبھی اصولوں پر سمجھوتہ نہیں کیا۔

امروز- محبت کا لوک گیت جسے نام کی ضروت نہیں (پہلا حصہ)

ہنری ملرنے کہا تھا "ایک دن آئے گا جب سارے آرٹ دم توڑ دیں گے بس زندگی باقی رہ جائے گی"۔ میرا نقطہ نظر ہنری ملرسے مِلتا جُلتا ہے ۔ میرے خیال میں تمام آرٹ راستے ہیں اور زندگی منزل ہے۔

Humor and Satire

View all posts

میں اور میرے ایم۔ فل والے (قسط اول)

تالیف حیدر: میری ایم فل کی کلاس میں کل ستائس بچے ہیں اور میں یہ بات پورے یقین سے کہہ سکتا ہوں کہ اس میں سے کم سے کم بیس لوگ ایسے ہیں جو اگر گزشتہ صدی میں اشرف صبوحی کے ہاتھ آ جاتے تو ان کے خاکوں کا ایک عدد مجموعہ اور تیار ہو جاتا۔
Read More

Art and Culture

View all posts

معصوم امنگوں کا ترجمان چہرہ؛ کیرا نائٹلی

خرم سہیل: اس کی توجہ اداکاری کے ساتھ ساتھ مصوری، تاریخ اور انگریزی ادب پر بھی تھی۔ کچھ عرصہ ان مضامین کی محبت میں گزارکر، کلی طورپر خود کواداکاری کے لیے وقف کردیا۔

نشیلی آنکھوں والی کورین اداکارہ؛ جی وون-ہا

خرم سہیل: اس کے چہرے کوغور سے دیکھا جائے، تو ایسا لگتا ہے، ابھی اس کی تلاش ختم نہیں ہوئی، اس نے جاگتی آنکھوں بہت سارے خواب دیکھ رکھے ہیں، جن کو پانے کی چاہ میں، رتجگوں نے اس کی آنکھوں کا راستہ دیکھ لیا ہے

شوبز کی ترک شہزادی؛ بیرین ساعت

خرم سہیل: عشق ممنوع کو جب ترکی میں نشر کیاگیاتو اس نے ترکی ٹیلی ویژن کی ڈرامے کی تاریخ کے سارے ریکارڈ توڑدیے تھے۔

ماہِ میر آخر کون سے میر تقی میر پر بنائی گئی؟

سید کاشف رضا: کہانی میں جھول نہ ہوتے اور سرمد صہبائی اس فلم کو اپنی مخصوص افتادِ طبع یا ایڈیوسنکریسیز سے محفوظ رکھتے تو یہ ایک یادگار فلم بن سکتی تھی۔