Fiction

View all posts

Interviews

View all posts

فکشن رائٹر کا کمٹ منٹ زبان، اسلوب اور کہانی سے ہوتا ہے- اسد محمد خان

دراصل میں آزاد رہنا چاہتا تھا۔ کراچی آنے کے بعد مجھے وہ آزادی میسر آئی تو میں نے نظمیں کہنی شروع کیں۔ اور اس کے بعد کہانیاں لکھنی شروع کیں۔

امروز- محبت کا لوک گیت جسے نام کی ضروت نہیں (دوسرا حصہ)

امرتا پریتم نے ہندی میں لکھنا شروع کیا تب جا کر گھر کے حالات کچھ ٹھیک ہوئے۔ لگ بھگ ایک لاکھ روپے مہینے کی آمدن ہونے لگی لیکن امرتا ہمیشہ سے دل کی بہت امیر تھی۔ بُرے سے بُرے حالات میں بھی کبھی اصولوں پر سمجھوتہ نہیں کیا۔

امروز- محبت کا لوک گیت جسے نام کی ضروت نہیں (پہلا حصہ)

ہنری ملرنے کہا تھا "ایک دن آئے گا جب سارے آرٹ دم توڑ دیں گے بس زندگی باقی رہ جائے گی"۔ میرا نقطہ نظر ہنری ملرسے مِلتا جُلتا ہے ۔ میرے خیال میں تمام آرٹ راستے ہیں اور زندگی منزل ہے۔

Humor and Satire

View all posts

میں اور میرے ایم۔ فل والے (قسط اول)

تالیف حیدر: میری ایم فل کی کلاس میں کل ستائس بچے ہیں اور میں یہ بات پورے یقین سے کہہ سکتا ہوں کہ اس میں سے کم سے کم بیس لوگ ایسے ہیں جو اگر گزشتہ صدی میں اشرف صبوحی کے ہاتھ آ جاتے تو ان کے خاکوں کا ایک عدد مجموعہ اور تیار ہو جاتا۔
Read More

Art and Culture

View all posts

حکمرانوں کاحسین انتخاب:للی لینگٹری

خرم سہیل: بنفشی آنکھوں والی اس حسینہ نے موت کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کربات کی۔ فیشن کی دنیا میں بھی اپناحسن ثابت کیا،ایک وقت ایسا آیا،جب اس کے انداز اورادائیں ہی فیشن کے طورپر قبول کی جانے لگیں۔

کیا اردو واقعی کوئی زبان ہے؟

تصنیف حیدر:
اردو کے تعلق سے جس قدر بھی نظریات موجود ہیں، چاہے وہ نصیرالدین ہاشمی کا نظریہ ہو کہ اردو ، دکن کی پیداوار ہے یا پھر محمود شیرانی کا کہ اردو پنجاب کے بطن سے پیدا ہوئی ہے یا پھر برج بھاشا، کھڑی بولی یا مختلف بولیوں یا اپ بھرنشوں یاپھر بھاشائوں/بھاکائوں سے نکلنے والی ایک میٹھی زبان کے مختلف نظریات۔ بھارت میں اب سے سو، سوا سو سال پہلے تک اس زبان کو ہندی کے طور پر مقبولیت حاصل رہی ہے

ملا نصرالدین ــ ایک سیاسی و معاشرتی تحریک

ذکی نقوی: ملا نصرالدین نے جس عیاری سے بخارا کے عوام کو محصولات کے خلاف ابھارا، وہ دراصل ان کے اقتصادی شعور کی جدت پسندی اور بلوغت کا اظہار تھا۔

احمد ظ۔: لاہور میں پرانے ہڑپے کا آخری باشندہ

اسد فاطمی: عورت، اپنے تمام تر ثقافتی اور جنسیاتی ظہور کے ساتھ ظ کی مصوری کا مرکزی موضوع رہی ہے۔ اس کی عورت دراوڑی وضع کی سانولی عورت ہے، جوکہ ‎ظ کے لیے محض صنفی ہمدردی جتانے کا موضوع نہیں ہے۔ اس کے دوستوں کے بقول وہ پھولوں کو اپنے تولیدی کردار کے سبب نباتات کے جنسی اعضاء قرار دیتا تھا۔