بادشاہ سنتا ہے

بادشاہ سنتا ہے

اتالو کلوینو کی کہانی A King Listens کا ترجمہ عاصم بخشی نے کیا ہے۔ یہ ترجمہ اس سے قبل معروف ادبی جریدے "آج" کے شمارہ نمبر 101 میں بھی شائع ہو چکا ہے۔ "آج" اجمل کمال کی زیر ادارت شائع ہونے والا سہ ماہی کتابی سلسلہ/ادبی جریدہ ہے جو اپنے معیار اور افرادیت کے لئے معروف ہے۔ اس رسالے کو سبسکرائب کرنے کے لئے سٹی پریس بک شاپ کے فیس بک صفحے یا اس نمبر پر رابطہ کیجیے: 03003451649

عصائے شاہی تمہیں اپنے داہنے ہاتھ میں تھامنا ہے، بالکل سیدھا اور تنا ہوا۔ اسے کسی صورت نیچے نہیں رکھنا۔ خیر، تم اسے رکھو کے بھی کہاں؟ تخت کے ساتھ کوئی میز نہیں، نہ ہی کوئی طاق یا تپائی جہاں کوئی گلاس، ایش ٹرے یا ٹیلی فون رکھا جاسکے۔تختِ شاہی تنگ اور اونچی سیڑھیوں کی چوٹی پر تنِ تنہا موجود ہے۔ اگر کوئی شے اوپر سے نیچے پھینکی جائے تو وہ لڑھکتے لڑھکتے کہیں غائب ہو جائے گی اور کبھی نہ ملے گی۔ خدانخواستہ اگر عصا تمہاری گرفت سے پھسلا تو اسے اٹھانے کے لئے تمہیں ہی تخت سے اتر کر نیچے آنا پڑے گا، آخر بادشاہ کے علاوہ اسے کوئی چھو بھی تو نہیں سکتا۔ اور پھر نگاہیں اس نظارے کی تاب بھی کہاں لا سکیں گی کہ ایک بادشاہ زمین پر لمبا ہو کر سازو سامان کے نیچے سے اپنا عصا یا پھر تاج نکالنے کی کوشش کر رہا ہے ، جو نیچے جھکنے کے باعث باآسانی تمہارے سر سے گر سکتا ہے۔ چاہو تو کلائی کو تھکن سے بچانے کے لئے کرسی کے بازو پر ٹکا سکتے ہو۔ ہاں میں تمہارے دائیں ہاتھ ہی کی بات کر رہا ہوں، وہی جس میں عصا موجود ہے۔ جہاں تک بائیں ہاتھ کا تعلق ہے تو وہ آزاد رہ سکتا ہے، تم چاہو تو اسے کھجلانے کے لئے استعمال کر سکتے ہو۔ کبھی کبھار سنجابی چوغہ گردن میں خارش کرتا ہے اور پھر وہ بڑھتے بڑھتے کمر اور پورے بدن میں پھیل جاتی ہے۔ مخملیں مسند بھی گرم ہو کر کولہوں اور رانوں میں تکلیف دہ سوزش پیدا کرتی ہے۔ اپنے موٹے کمر بند کا سنہرا قبضہ کھولتے ہوئے، گلوبند، سینے پر سجے تمغے اور اطراف میں موجود اعزازت اِدھر اُدھر سرکاتے ہوئے، تم اپنی انگلیاں بلاتردد کسی بھی خارش زدہ جگہ پہنچاسکتے ہو۔آخرتم بادشاہ ہو، تم پر بھلا کون اعتراض کرسکتا ہے۔یہ تو طے ہے۔

سر ساکت رہنا چاہئے، ہمیشہ یاد رکھو کہ تاج تمہاری منڈیا پر ٹکا ہے، تم اسے کسی گرم ٹوپی کی طرح کانوں پر نہیں کھینچ سکتے۔تاج اوپر اٹھتے اٹھتے ایک مخروطی گنبد میں ڈھل جاتا ہےجو نچلے حصے سے زیادہ چوڑا ، یعنی غیرمتوازن ہے۔ اگر اونگھ آ جائے اور ٹھوڑی سینے سے جا لگے تو تاج نیچے لڑھک جائے گا اور نازک ہونے کے باعث ٹکڑے ٹکڑے ہو جائے گا، خاص طور پر ہیرےجڑی سنہری زردوزی ۔ اگر کبھی محسوس ہو کہ یہ پھسلنے والا ہے تو تمہیں بڑی ہوشیاری سے سر کے پٹھوں کو جنبش دیتے ہوئے اسے واپس اپنی جگہ بٹھانا ہے، لیکن خبردار! ایک دم سیدھے نہیں ہونا ورنہ تاج تختِ شاہی کی چھتر سے جا ٹکرائے گا جس کی جھالریں اسے چھو رہی ہیں۔ دوسرے لفظوں میں تمہیں شاہانہ ڈیل ڈول برقرار رکھنا ہے جو کہ تمہاری شخصیت کا اٹوٹ انگ ہے۔

اور پھر تمہیں اتنا کشٹ اٹھانے کی ضرورت ہی کیا ہے؟ تم بادشاہ ہو، جس شے کی خواہش کرو وہ پہلے ہی تمہاری ہے۔ انگشت کے ایک اشارے پر ماکولات و مشروبات، چیونگم، دانتوں کا خلال، ہر قسم کے سگریٹ، غرض جو چاہو ایک نقرئی تھال میں پیش کیا جا سکتا ہے۔ نیند کی حاجت ہو تو تخت آرام دہ اور دبیز ہے، تمہیں بظاہر اپنی حالت قائم رکھتے ہوئے بس کمر تختۂ پشت سے لگا کر آنکھیں بند کرنی ہیں۔ سونا یا جاگنا برابر ہی ہے، کوئی فرق نہیں کر سکے گا۔ جہاں تک حوائجِ ضروریہ کا سوال ہے تو یہ کوئی راز کی بات نہیں کہ تخت میں کسی بھی خوددار تخت کی طرح ایک بڑا سا سوراخ موجود ہے ، دن میں دو بار برتن تبدیل کیا جاتا ہے۔ بدبو کی صورت میں زیادہ بار۔

قصہ مختصر، تمہیں حرکت سے بچانے کے لئے پہلے ہی سب بندوبست کر دیا گیا ہے۔ حرکت سے کچھ حاصل ہونے والا نہیں، بلکہ سب کچھ چھن جائے گا۔اگر تم اپنی جگہ سے اٹھ کھڑے ہو، دو چار قدم ہی لو یا ایک لمحے کے لئےبھی تخت کو اپنی نگاہوں سے اوجھل ہونے دو تو کون ضمانت دے سکتا ہے کہ واپسی پر تمہیں کوئی اور اس پر براجمان نہ ملے؟ شاید کوئی تم سے ملتا جلتا، بالکل تمہارے ہی جیسا۔ پھر کون یہ ثابت کرتا پھرے گا کہ بادشاہ وہ نہیں، تم ہو! بادشاہ اس حقیقت سے پہچانا جاتا ہے کہ وہ تخت پر براجمان ہے، تاج سر پر رکھے ،عصا تھامے ہے۔اب چونکہ یہ صفات تمہاری ہیں تو تمہیں ایک لمحے کے لئے بھی ان سے جدا نہیں ہونا چاہئے۔

اب بھی اکڑتے ہوئے پٹھوں کو سُن ہونے سے بچانے کے لئےٹانگیں پھیلانے کا مسئلہ رہتا ہے، یقیناً یہ ایک اچھی خاصی تکلیف ہے۔ لیکن تم ہمیشہ لاتیں مار سکتے ہو، گھٹنے اوپر کر سکتے ہو، تخت پر چوکڑی مار سکتے ہو، ترکی طرز پر اکڑوں بیٹھ سکتے ہو، یقیناً مختصر وقفوں کے لئے جب ریاستی معاملات سے ذرا فرصت ہو۔ ہر شام پیر دھلانے والے خدمت گار آ جاتےہیں اور پندرہ منٹ کےلئے جوتے اتار دیتے ہیں، صبح عفونت ربائی کے لئے آئی خدمتگاروں کی ایک جماعت معطر روئی سے بغلوں کی عطر پاشی کر دیتی ہے۔ تمہارے وجود پر جسمانی خواہشات کے غلبے کے امکانات کو بھی پیشِ نظر رکھا گیا ہے۔تنومند بدن سے لے کر نہایت نازک اندام جسمانی خطوط والی قابل کنیزیں منتخب کی گئی ہیں تاکہ وہ باری باری اپنی جالی دار ، لہراتی قبائیں لئے سیڑھیوں کے راستے تمہارے تھڑدلے گھٹنوں تک حاضری دیں۔ ان کے لئے ممکن ہے کہ وہ تمہارے تخت پر بیٹھے بیٹھے خود کو سامنے، عقب یا اطرافی زاویوں سے پیش کریں، اور تم کچھ ہی لمحوں میں ان سے لطف اندوز ہو سکتے ہو، ہاں اگر اقلیمِ سلطانی کی مصروفیات اجازت دیں تو کچھ زیادہ وقت جیسے آدھا یا پون گھنٹہ بھی صرف کیا جا سکتا ہے ۔ اس صورت میں بہتر ہے کہ شاہی چھتر کے پردے گرا دیا جائیں تاکہ بادشاہ بیرونی نظروں سے اوجھل رہے اور موسیقار لطیف دُھنیں بجاتے رہیں۔

خلاصہ یہ ہے کہ ایک بار تاج پوشی کے بعدتخت بس وہی ہے جہاں تم دن رات حرکت کے بغیر جمے رہو۔ تمہاری ساری پچھلی زندگی بادشاہت کے انتظار ہی پر مشتمل ہے، اور اب جب کہ تم بادشاہ ہو تو تمہیں بس بادشاہت ہی کرنی ہے۔ اگر یہ طویل انتظار نہیں تو پھر بادشاہت اور کیا ہے؟ اس لمحۂ معزولی کا انتظار جب تمہیں تخت و تاج، عصائے شاہی اور اپنے سر سے جدا ہونا پڑے گا۔

ساعتیں سست رفتار ہیں۔ حجرۂ شاہی میں چراغوں کی روشنی ہمیشہ ایک جیسی ہی رہتی ہے۔وقت کے بہاؤ کی سنسناہٹ ہوا کے ایک جھونکے کی طرح ہے، محل کی گردشی راہداریوں یا تمہارے گوشِ سماعت کی گہرائیوں میں جھکڑ سے چلتے ہیں۔ بادشاہوں کے پاس گھڑیاں نہیں ہوتیں، مفروضہ یہی ہوتا ہے کہ وقت کا بہاؤ ان کے قبضۂ قدرت میں ہے، مشینوں کے میکانکی قوانین کے آگے سرنگوں ہونا بادشاہوں کے شایانِ شان نہیں۔ ساعتوں کا مسلسل پھیلاؤ کسی ریتلے تودے کی طرح تمہیں دفنانے کی کوشش کرتا ہے لیکن تم جانتے ہو کہ اسے کیسے جُل دیناہے۔محل کی ہر گھنٹہ بدلتی آوازیں پہچاننے کے لئے تمہیں صرف چوکنا رہنا ہے: دن کے وقت پرچم کشائی کا تُرم بجتا ہے، شاہی خاندان کی مال بردار گاڑیاں گوداموں میں بید کی ٹوکریاں اورتیل کے پیپے اتارتی ہیں، خادمائیں چھتّوں پر ٹنگے قالینوں پر ضرب لگاتی ہیں، شام کو آہنی دروازے بند ہوتے ہوئے چرچراتے ہیں، باورچی خانوں سے برتنوں کی کھنکھناہٹ سنائی دیتی ہے ، اصطبل سے کبھی کبھار آنے والی ہنہناہٹ یہ بتاتی ہے کہ کھانے کا وقت ہو گیا ہے۔

محل ایک گھڑیال ہے، اس کی خفیہ آوازیں سورج کا تعاقب کرتی ہیں، تیر کے نادیدہ نشان میخ لگے بوٹوں کی گھسٹتی آوازوں کے ساتھ دمدموں پر محافظوں کی تبدیلی کی خبر دیتے ہیں، رائفل کے بٹ پر لگی ہاتھوں کی ضرب کے جواب میں احاطے سے ٹینکوں کے نیچے روندی جانے والی بجری کی چرمراہٹ سنائی دیتی ہے۔ اگر یہ تمام آوازیں ایک باربط تسلسل سے، برابر وقفوں کے بعد سنائی دیتی رہیں تو تمہیں یقین رکھنا چاہئے کہ تمہارے اقتدار کو کوئی خطرہ نہیں، کم از کم اس لمحے، اس گھنٹے اور اس دن۔

تخت میں دھنسے ہوئے تم اپنا ہاتھ کان تک لےجاتے ہو، چھتر کے پردوں کو سرکاتے ہو تاکہ وہ کسی مدھم سی سرسراہٹ، کسی خفیف ترین گونج تک کا گلا نہ گھونٹ دیں۔ دن تمہارے لئے آوازوں کا تسلسل ہے۔ کچھ واضح ، کچھ تقریباً مبہم۔ تم نے ان میں امتیاز کرنا ، ان کےمنبع اور دُوری کو جانچنا سیکھا ہے، تمہیں ان کے تسلسل کی پہچان ہے، تم جانتے ہو کہ وقفوں کی معیاد کیا ہے، تم تو پہلے ہی سے ہر اس تھرتھراہٹ، چرمراہٹ یا کھنکھناہٹ کے منتظر ہو جو تمہارے پردۂ سماعت سے ٹکرائے، اپنے تصور میں اس کی توقع باندھے رکھتے ہو، اگر تاخیر ہو تو صبر کا دامن ہاتھ سے چھوٹنے لگتا ہے۔ گھبراہٹ اس وقت تک ختم نہیں ہوتی جب تک چاکِ سماعت سل نہ جائے ، جب تک مانوس آوازوں میں پیدا ہونے والا خلا پُر نہ کر دیا جائے۔ محل کے ڈیوڑھیوں، زینوں، بالکونیو ں اور غلام گردشوں میں بہت اونچی محرابی چھتیں ہیں،قدموں کی ایک ایک آواز، کسی تالے کی ایک بھی کھنک، ہر چھینک کی آواز گونجتی اور ٹکرا کر پلٹتی ہے، اور افقی سمت ایک دوسرے سے متصل کمروں، دالانوں، ستونوں کی قطاروں، داخلہ گاہوں ، اور اسی طرح عمودی سمت میں گردشی زینوں، کھلی جگہوں، روزنوں، پائپوں، چمنیوں اور سامانِ طعام کے خودکار ترسیلی راستوں میں پھیلتی چلی جاتی ہے۔ غرض تمام صوتی راستے حجرۂ شاہی میں ہی مرتکز ہوتے ہیں۔ ہواؤں کے دریا خود کو سکوت کی اس عظیم جھیل میں خالی کرتے ہیں، جس میں تم مسلسل تھپیڑوں کے ہاتھوں ہچکولے کھاتے ہوئے تیر رہے ہو۔ ہوشیاری سے، چوکنے ہو کر ان کا سامنا کرتے اور ان کی تہیں کھولتے ہو۔ محل کیا ، ایک مرغولہ،گردشیں ہی گردشیں، ایک گوشِ جسیم، جس کی ماہیت و ساخت نام اور کام بدلتی رہتی ہے: مخروطی خیمے، سرنگیں،محرابیں، بھول بھلیاں۔تم تہہ میں دبکے ہوئے ہو، گوشِ محل کے سب سے اندرونی حصے میں، یعنی اپنے ہی کان کے اندر۔ محل بادشاہ کا کان ہے۔

یہاں دیواروں کے بھی کان ہیں۔ ہر چلمن، ہر پردے، ہر منقش دیوار کے پیچھے جاسوس موجود ہیں۔ تمہارے جاسوس، تمہاری خفیہ تنظیم کے ایجنٹ، جن کا کام محلاتی سازشوں کی تفصیلی رپورٹ دینا ہے۔محل دشمنوں سے اس طرح بھرا ہے کہ دوستوں دشمنوں میں فرق مشکل سے مشکل تر ہوتا جا رہا ہے، یقین سے کہا جا سکتا ہے کہ فیصلہ کن سازش میں تمہارے وزراء اور عہدیدار شامل ہوں گے۔یہ تو تم جانتے ہو کہ ہر خفیہ تنظیم میں مخالف خفیہ تنظیم کے ایجنٹ اپنی جگہ بنا ہی چکے ہوتے ہیں۔ شاید تمہارے تمام وظیفہ خوار ایجنٹ سازشیوں کے لئے بھی کام کرتے ہوں جس صورت میں وہ خود بھی سازشی ہوئے، لہٰذا تم ان کا وظیفہ جاری رکھنے پر مجبور ہو تاکہ جب تک ہو سکے انہیں خاموش رکھا جا سکے۔

برقی مشینوں سے نکلے خفیہ رپورٹوں کے ضخیم بنڈل روزانہ تمہارے پایۂ تخت کے آگے ڈھیر کر دئیے جاتے ہیں۔انہیں پڑھنا کارِ عبث ہے: تمہارے جاسوس صرف سازشیں ہونے کی تصدیق ہی کر سکتے ہیں تاکہ جاسوسی جاری رکھنے کا جواز قائم رہے، اگلے ہی سانس میں وہ اپنی سرگرمیوں کو پُراثر ثابت کرنے کے لئے کسی فوری خطرے کا بھی انکار کر دیتے ہیں۔ خیر کوئی بھی یہ گمان تو نہیں رکھتا کہ تم ان رپورٹوں کو پڑھتےہو گے، حجرۂ شاہی میں اتنی روشنی نہیں کہ کچھ پڑھا جا سکے، مفروضہ یہی ہے ایک بادشاہ کو پڑھنے کی کیا ضرورت، جو اسے معلوم ہونا چاہئے وہ پہلے ہی جانتا ہے۔اپنی یقین دہانی کے لئے تمہیں بس معمول کے آٹھ گھنٹوں کے دوران خفیہ تنظیم کے دفاتر سے آتی برقی مشینوں کی آوازیں ہی سننی ہیں۔ کارندوں کا ایک لشکر میموری بینکوں میں نیا آنے والا ڈیٹا بھرتا رہتا ہے، اسکرینوں پر پیچیدہ جدول بھرے جاتے ہیں، پرنٹروں سے وہی پرانی رپورٹیں بس بارش یا صاف موسم کی خبروں کے ردوبدل کے ساتھ نکالی جاتی ہیں۔ یہی پرنٹر کم از کم ردوبدل کے ساتھ سازشیوں کے خفیہ اخبار برآمد کرتے ہیں، غداریوں کے روزمرہ حکم نامے، تمہاری معزولی اور قتل کے تفصیلی منصوبے۔

تم اگر چاہو تو انہیں پڑھ سکتے ہو۔ یا پھر یوں ظاہر کرو کہ پڑھ چکے ہو۔تم یا تمہارے دشمنوں کے نمک خوار جاسوسوں کی سُن گُن پر مشتمل روزنامچے خفیہ فارمولوں میں ڈھالے جاتے ہیں اور پھر اُن کمپیوٹر پروگراموں میں داخل کر دئیے جاتے ہیں جو سرکاری سانچوں کے مطابق خفیہ رپورٹیں تیار کرنے کے لئے وضع کئے گئے ہیں۔ چاہے خطرناک ہویا اطمینان بخش، یہ مستقبل جو ان صفحات میں منتقل ہو رہا ہےتمہارے کسی کام کا نہیں کیوں کہ یہ تمہاری بے یقینی کی کیفیت ختم نہیں کرتا۔ تم جس راز سے پردہ اٹھنے کے خواہش مند ہو وہ کافی مختلف ہے، وہ خوف اور امید جو تمہاری راتوں کی نیند اڑائے رکھتی ہے، تمہاری سانسیں روکے رکھتی ہے، تمہارے کان جو سننے کے خواہش مند ہیں، اپنے بارے میں، اپنی تقدیر کے بارے میں۔

اسی لمحے جب تم نے تخت سنبھالا، وہ گھڑی جب یہ محل تمہارا ہوا،یہ تمہارے لئےاجنبی ٹھہرا ۔ رسمِ تاج پوشی کے جلوس کے آگے چلتے ہوئے، تم مشعل اور مورچھل برداروں کے درمیان سے گزرتے ہوئے آخری باراس دالان میں پہنچ گئے جہاں سے نکلنا اب نہ تو معقول ہے اور نہ ہی شاہی رسم و رواج کے مطابق ہے۔ ایک بادشاہ کا کیا کام کہ وہ راہداریوں، دفاتر، رسوئیوں میں چہل قدمی کرتا پھرے! اس حجرۂ شاہی کے علاوہ اب محل میں تمہارے لئے کوئی جگہ نہیں۔

تمہارے تصور میں محفوظ ان کمروں کی آخری شبیہ تیزی سے محو ہو چکی ہے، لیکن خیر چونکہ وہ تو جشن و تقریبات کے لئے سجائے جانے کے باعث پہلے ہی ناقابلِ شناخت تھے، تم ویسے بھی ان میں کھو چکے ہوتے۔

ہاں اُس لڑائی کے کچھ بچے کھچے مناظر اب بھی تمہاری یاداشت میں تازہ ہیں جب تم اپنے اُس وقت کے وفادار (اور اب یقیناًتم سے غداری پر مائل) ساتھیوں کے ہمراہ محل پر حملے کے لئے بڑھے تھے: مارٹر گولوں سے خستہ ہوتی چھتیں، گولیوں کی بوچھاڑ سے دیواروں میں چھید اور دراڑیں۔ تم اب اُس کو یہ محل نہیں سمجھ سکتے جس میں تم ابھی اس تخت پر براجمان ہو، اگر تم ایک بار پھر خود کو اُسی محل میں پاؤ تو یہ اشارہ ہو گا کہ ایک پورا سلسلہ مکمل ہو گیا ہے اور اب تمہاری بربادی تمہیں منتخب کر چکی ہے۔

اس سے بھی پہلےاُن سالوں میں جب تم اپنے پیش رو کے خلاف سازشوں میں مصروف تھے ، تم نے ایک اور محل دیکھا تھا کیوں کہ تمہارے مصاحبوں کو کچھ مخصوص کمروں کی بجائے دوسرے دئیے گئے، اور تم یہی منصوبہ بندی کرتے رہتے تھے کہ بادشاہ بننے کے بعد ان جگہوں کی حالت میں کیا تبدیلیاں لاؤ گے۔تخت پر براجمان ہوتے ہی ہر بادشاہ کا پہلا حکم تمام کمروں، سازو سامان، آویزاں تصاویر ، سجاوٹ وغیرہ میں تبدیلی ہوتی ہے۔تم نے بھی یہ سوچتے ہوئے ایسا ہی کیا کہ یہ تمہاری ملکیت کی اصل علامت ہے۔لیکن اس کے برعکس تم نے مزید یادوں کو فراموشی کی اس چکّی میں ڈال دیا جس سے کچھ واپس نہیں آتا ۔

یقیناً محل میں کچھ نام نہاد تاریخی حجرے بھی ہیں جنہیں تم ایک بار پھر دیکھنا چاہو گے، حالانکہ انہیں اوپر سے نیچے تک تبدیل کر دیا گیا ہے تاکہ ایامِ رفتہ کے ساتھ کھو جانے والی قدامت انہیں واپس لوٹائی جا سکے۔لیکن وہ کمرے ابھی حال ہی میں سیاحوں کے لئے کھولے گئے ہیں۔ تمہیں ان سے کافی فاصلے پر ہی رہنا چاہئے۔ اپنے تخت میں سمٹے ہوئے تم چوک میں رکنے والی بسوں کے شور ، گائیڈوں کی یاوہ گوئی اور بھانت بھانت کی بولیوں سے اپنے صوتی کیلنڈر میں گزرتے دنوں کی شناخت کرتے ہو۔ تمہیں اُن دنوں بھی وہاں نہ پھٹکنے کی باقاعدہ تجویز دی گئی ہے جب وہ کمرے مقفل ہوتے ہیں: خاکروبوں کے جھاڑوؤں ، بالٹیوں اور صابن کے کنستروں سے ٹکراؤ گے۔رات کو کھو جاؤ گے، اپنے راستے میں آنے والے خطرے کی انگارہ چشم علامتیں تمہارے لئے رکاوٹ ہوں گی، صبح تم خود کو ویڈیو کیمروں سے لیس جتھوں، اصل پر نیلے غلاف چڑھائے نقلی دانتوں والی بڑی بوڑھیوں کے لشکروں اور پتلونوں سے باہر لٹکتی پھول دار قمیصوں اور سروں پر تنکوں کے چوڑے ہیٹ پہنے فربہ مردوں کے نرغے میں پاؤ گے۔

تمہارے لئے اپنا محل اجنبی اور نامعلوم ہونے کے باوجود تم ہر سرسراہٹ کے تعین ، کھانسی کی ہر آواز کی کسی نقطۂ مکان میں تحدید ، ہر صوتی علامت کے ارد گرد دیواروں کا تصور باندھ کراس کی ذرہ ذرہ تعمیرِ نو کر سکتے ہو، چھتیں، بغلی راستے، ہر اس خلا اورہر اس رکاوٹ کو شکل بخش دو جہاں آوازیں پھیلتی یا ٹکراتی ہیں، خود آوازوں کو اجازت دو کہ وہ تصویروں کو جنم دیں۔ایک نقرئی کھنک محض کسی چمچ کے تھالی سے گرنے کی آواز نہیں جہاں اسے ٹکایا گیا تھا بلکہ ایک ایسی میز کا کونا بھی ہے جس پر گوٹا کناری والا سوتی کپڑا بچھا ہے، جس پر ایک ایسے اونچے روزن سے چھنتی روشنی پڑ رہی ہے جہاں تخم دان پھولوں کی بیلیں معلق ہیں۔ ایک مدھم دھمک صرف کسی چوہے پر جھپٹتی ایک بلی نہیں بلکہ میخ دار تختوں سے بند سیڑھیوں کے نیچے ایک مرطوب کیچڑ والی جگہ بھی ہے۔

محل ایک صوتی تشکیل ہے جو ایک لمحہ پھیلتی ہے تو دوسرے ہی لمحے سکڑتی ہے، زنجیروں کی لڑی کی طرح تن جاتی ہے۔ تم گونجتی صداؤں کی بیساکھی کے سہارے اس میں چل پھر سکتے ہو، دراڑوں ، جھنکاروں، بدکلامیوں، سانسوں کے اتار چڑھاؤ، سرسراہٹ، بڑبڑاہٹ، غرغراہٹ کا تعین کرتے ہوئے۔

محل بادشاہ کا بدن ہے۔ تمہارا بدن تمہیں پُراسرار پیغامات بھیجتا ہے جو تم خوف اور پریشانی سے وصول کرتے ہو۔ اسی بدن کے ایک نامعلوم حصے میں ایک عفریت گھات لگائے بیٹھا ہے، تمہاری موت وہاں پہلے ہی سے قیام پذیر ہے، تم تک پہنچنے والے اشارے شاید تمہیں تمہارے ہی اندر دفن ایک خطرے سے خبردار کرتے ہیں۔ تخت پر بیٹھا ترچھا جسم اب تمہارا نہیں ، جب سے تاج نے تمہارے سر کا گھیراؤ کیا ہے بدن تمہارے لئےقابلِ استعمال نہیں ، اب تمہاری ذات تم سے پہیلیوں میں باتیں کرنے والی ایک اندھیری، اجنبی رہائش گاہ کے طول و عرض میں پھیلی ہے ۔لیکن کیا واقعی کچھ بدلا ہے؟ پہلے بھی تو تم اپنے بارے میں کم کم بلکہ شاید کچھ بھی نہیں جانتے تھے۔اور اسی طرح خوف زدہ تھے جیسے اب ہو۔

محل آوازوں کا ایک باقاعدہ تانا بانا ہے، دل کی دھڑکن کی طرح ہمیشہ یکساں، جس سے باقی تمام غیرمتوقع، بے ربط آوازیں ابھرتی ہیں۔ ایک دروازہ بند ہوتا ہے۔ کہاں؟ کوئی دوڑتے ہوئے سیڑھیاں اترتا ہے، ایک گھٹی گھٹی چیخ سنائی دیتی ہے۔ طویل، تناؤ کی کیفیت سے لبریز ساعتیں گزرتی ہیں۔ سیٹی کی ایک لمبی کٹیلی آواز دوبارہ سنائی دیتی ہے، شاید کسی کھڑکی یا منارے سے۔ نیچے سے ایک اور سیٹی جواب دیتی ہے۔ پھر خاموشی۔
کیا کوئی کہانی ایک آواز کو دوسری سے جوڑتی ہے؟ تم معنی تلاش کئے بغیر نہیں رہ سکتے، جو شاید کسی ایک آواز میں نہیں، اکیلی اکیلی آوازوں میں بھی نہیں، بلکہ ان درمیانی وقفوں میں ہے جو انہیں الگ الگ کرتے ہیں۔ اور اگر کوئی کہانی ہے تو کیا وہ کہانی تم سے متعلق ہے؟ کیا نتائج کا کوئی سلسلہ آخرکار تم سے متعلق ٹھہرا؟ اور کیا یہ اُسی سلسلۂ حوادث سے جڑی بس ایک اور غیرمتعلق واردات ہے جو محل کے روزمرہ کا معمول ہیں؟ ہر وہ قصہ جو تمہاری جانب سے ظہور میں آتا معلوم ہوتا ہے خود تمہیں تمہارے ہی پاس واپس لے آتا ہے، محل میں کچھ ممکن نہیں جب تک اس واقعے میں بادشاہ کا کوئی امر شامل نہ ہو، چاہے فعال یا پھر غیر فعال۔ کسی مبہم ترین سراغ سے بھی تم اپنا زائچہ بناسکتے ہو۔

شاید خطرہ آوازوں کی بجائے سلسلۂ سکوت سے ہے۔ سنتریوں کی تبدیلی کی آواز سنے کتنے گھنٹے ہو گئے؟ اور اگر تمہارے وفادار محافظ سازشیوں نے گرفتار لئے ہوئے تو؟ باورچی خانوں سے برتنوں کے ٹکرانے کی مانوس آوازیں کیوں نہیں سنائی دے رہیں؟ کہیں ایسا تو نہیں کہ تمہارے بھروسے کے باورچیوں کی جگہ قاتلوں کے کسی ایسے گروہ نے لے لی ہو جو خاموشی سے واردات کرنے میں ماہر ہوں، پکوانوں میں چپکے چپکے زہر ملا رہے ہوں۔۔۔؟
شاید خطرہ خود باقاعدگی میں ہے۔ تُرمچی روز کی طرح ٹھیک معمول کے مطابق تُرم بجا دیتا ہے، لیکن کیا تمہیں محسوس نہیں ہوتا کہ وہ غیرمعمولی تعین سے یہ کام کر رہا ہے؟ کیا تمہیں ڈھول کی تھاپ میں ایک عجیب سا زور، جوش و خروش کی ذرا سی زیادتی محسوس نہیں ہوتی؟ آج پریڈ کرتے ہوئے دستوں کی گونج میں میں ایک مغموم سا زیرو بم ہے، جیسے کوئی فائرنگ اسکواڈ چلا جا رہا ہو۔۔۔ٹینکوں کے پہیے کسی چرچراہٹ کے بغیر بجری پر سے گزر جاتے ہیں جیسے انہیں معمول سے زیادہ تیل دیا گیا ہو، کیا کسی آنے والی لڑائی کے پیشِ نظر؟

شاید حفاظت پر مامور سپاہی اب وہ نہیں جو تمہارے وفادار ہیں۔۔۔یا شاید وہ کسی تبدیلی کےبغیر ہی سازشیوں سے جا ملے ہیں۔۔۔شاید ہر چیز پہلے کی طرح ہی چلتی رہے،لیکن محل تو پہلے ہی غاصبوں کے ہتھے چڑھ چکا ہے، انہوں نے تمہیں اب تک اس لئے گرفتار نہیں کیا کہ آخر اب تم کسی گنتی میں ہی نہیں آتے۔ وہ تمہیں ایک ایسے تخت کی سپردگی میں فراموش کر چکے ہیں جو اب مزید ایک تخت نہیں۔ محلاتی زندگی کا روزمرہ معمول اس حقیقت کی علامت ہے کہ تختہ الٹا جا چکا ہے، ایک نئے تخت پر ایک نیا بادشاہ براجمان ہے، تمہیں سزا سنائی جا چکی ہے اور وہ اتنی ناقابلِ تنسیخ ہے کہ اس پر جلد عمل درآمد کی کوئی ضرورت ہی نہیں۔۔۔

اس ہذیانی کیفیت کو چھوڑو۔ محل میں سنائی دینے والی ہر حرکت ٹھیک ٹھیک انہیں قواعدو قوانین کے مطابق ہے جو تم نے وضع کئے ہیں: فوج کسی چالو مشین کی طرح تمہارا حکم بجا لاتی ہے، محل کے رسم و رواج دسترخوان لگانے اور سمیٹنے میں رتی برابر تبدیلی کی اجازت نہیں دیتے، پردوں کا گرانا اور تقریباتی قالینوں کا کھولنا ہدایات کے مطابق ہے، ریڈیو پروگرام وہی ہیں جن کا حکم تم نے پہلی اور آخری بار دیا تھا۔ حالات تمہارے قابو میں ہیں، کوئی بھی تمہارے ارادے یا اختیار کوجُل نہیں دے سکتا۔ نالی میں ٹراتا مینڈک، آنکھ مچولی کھیلتے بچوں کا شور، بوڑھے خزانچی کا پھوہڑ پن، غرض ہر شے تمہارے منصوبے کے مطابق رہتی ہے، اس سے پہلے کہ وہ تمہارے کان کو سنائی دے، تمہارا ذہن ہر شے سوچ چکا ہوتا ہے، غوروفکر کر چکا ہوتا ہے، فیصلہ کر لیتا ہے۔ ایک مکھی بھی تمہاری خواہش کے بغیر نہیں بھنبھنا سکتی۔

لیکن شاید تم پہلے کبھی سب کچھ گنوا دینے کے اتنے قریب نہ تھے جتنے اب جب تمہارے خیال میں سب کچھ تمہاری گرفت میں ہے۔ محل کو اس کی تمام تفصیلات کے ساتھ تصور کرنے کا فریضہ، اسے اپنے ذہن میں قید رکھنے کی ذمہ داری تمہیں ایک تھکا دینے والے دباؤ میں رکھتی ہے۔ وہ ڈھٹائی جو طاقت کی بنیاد ہے، کبھی اتنی نازک نہیں ہوتی جتنی لمحۂ فتح میں۔

تخت کے قریب دیوار کا ایک ایسا زاویہ ہے جہاں وقفے وقفےسے ایک بازگشت سنائی دیتی ہے: دور سے آتی ہوئی دھمک جیسے کوئی دروازہ کھٹکھٹا رہا ہو۔ کیا کوئی دیوار کے دوسری طرف ضربیں لگا رہا ہے؟ لیکن یہ شاید دیوار سے زیادہ ایک ستونچہ ہے، باہر کو نکلتا ہوا ایک سہارا، کوئی کھوکھلا ستون، شاید ایک عمودی نلی جو محل کی تمام منزلوں میں تہہ خانوں سے چھتوں تک جاتی ہے، مثال کے طور پر ایک ایسا بادکش جو آتش دانوں سےشروع ہوتا ہے۔یہ وہ گزرگاہ ہے جہاں عمارت کی مکمل اونچائی تک آوازیں سفر کرتی ہیں۔ نہ جانے کس منزل پر، لیکن حجرۂ شاہی سے متصل بالائی یا زیریں کمرے میں کوئی نہ کوئی شے اس نلی سے ٹکرا رہی ہے۔کوئی شے یا کوئی ذی روح۔ کوئی نہ کوئی وقفے وقفے سے ضرب لگا رہا ہے، گھٹی گھٹی تھرتھراہٹ یہی ظاہر کرتی ہے کہ فاصلہ کافی زیادہ ہے۔ ضربیں جو کسی اندھیری گہرائی سے ابھرتی ہیں، ہاں ہاں نیچے سے، زیرزمین ابھرتی ہوئی کھٹکھٹانے کی آواز۔ کیا یہ کوئی اشارے ہیں؟

ایک بازو پھیلا کر تم کونے میں مکا مار سکتے ہو۔ ضربوں کو بالکل ویسے ہی دہراتے ہو جیسے وہ سنائی دے رہی ہیں۔ خاموشی۔ اے لو! پھر آواز آئی۔ وقفوں اور تکرار کا سلسلہ تھوڑا تبدیل ہوا ہے۔ تم بھی اسی طرح پھردہراتے ہو۔ پھر انتظار۔ اب ایک بار پھر۔ لیکن اب جواب کے لئے بہت انتظار نہیں کرنا پڑا۔ کیا یہ کوئی بات چیت شروع ہو گئی ہے؟

مکالمے کے لئے زبان جاننا ضروری ہے۔ضربوں کا ایک سلسلہ، ایک کے بعد ایک، ایک وقفہ، پھر کچھ ایک ساتھ اور علیحدہ علیحدہ ضربیں: کیا یہ اشارے کسی کوڈ میں ڈھالے جا سکتے ہیں؟ کیا کوئی حرف بُن رہا ہے، یا لفظ؟ کیا کوئی تم سے رابطہ کرنا چاہتا ہے، کیا اس کے پاس کچھ اہم خبریں ہیں؟ سادہ ترین علامت کو آزماؤ: ایک ضرب ’’الف‘‘، دو ضربیں ’’با‘‘۔۔۔یا پھر مورس کوڈ آزما لو، مختصر اور طویل آوازوں میں امتیاز کی کوشش کرو۔۔۔کبھی کبھی یوں لگتا ہے کہ بھیجا جانے والا پیغام ایک نغمگی رکھتا ہے، جیسے موسیقی کی کوئی عبارت، یہ تمہاری توجہ حاصل کرنے کی خواہش بھی ہو سکتی ہے، تاکہ رابطہ قائم ہو، تم سے بات ہو سکے۔۔۔لیکن یہ تمہارے لئے کافی نہیں: اگر ضربوں کی آواز میں باقاعدگی ہے تو ان سے کوئی لفظ ضرور بننا چاہئے، اور ظاہر ہے کہ پھر جملہ۔ ۔۔اور اب تم محض ان ٹپ ٹپ گرتےصوتی قطروں پر اپنے من چاہے معانی کا غلاف چڑھانے کے لئے مچل رہے ہو گے: ’’جہاں پناہ۔۔۔ہم۔۔۔آپ کے وفادار نمک خوار۔۔۔تمام سازشوں کو بے نقاب کر دیں گے۔۔۔عمر دراز ہو۔۔۔‘‘ کیا وہ تم سے یہ کہہ رہے ہیں؟ کیا تم تمام قابلِ تصور علامتوں کے اطلاق کے بعد یہی سمجھ سکے ہو؟ نہیں، اس قسم کی تو کوئی بات تھی ہی نہیں۔ اگر کچھ تھا بھی تو بھیجا جانے والا پیغام بہت مختلف تھا، کچھ اِس سے ملتا جلتا:’’حرامی غاصب کتے۔۔۔انتقام۔۔۔تمہارے دن گنے جا چکے ہیں۔‘‘

شانت ہو جاؤ۔ شاید یہ سب تمہارا تخیل ہی ہے۔ صرف حادثہ ہی حروف اور الفاظ کو اس طرح ملا سکتا ہے۔ شاید یہ اشارے ہی نہ ہوں: ایک دم دروازہ بند ہونے کی آواز ہو سکتی ہے، یا کوئی بچہ گیند اچھا ل رہا ہو، یا کوئی کیل ٹھونک رہا ہو۔ کیل۔۔۔’’تابوت۔۔۔تمہارا تابوت۔۔۔‘‘ اب ضربیں یہ الفاظ تشکیل دے رہی ہیں: ’’میں اس تابوت سے نکلوں گا۔۔۔تم اس میں داخل ہو گے۔۔۔زندہ درگور۔۔۔’’ وہی بے معنی الفاظ۔ صرف تمہارا تخیل ہی اس بے شکل ارتعاش پر ہذیانی الفاظ کو مسلط کر سکتاہے۔

یہ تصور بھی کر سکتے ہو کہ اگر تم محل میں خدا جانے کہاں موجود کسی سننے والے کو بے ترتیبی سے اپنی مٹھی کے جوڑ مار کر مخاطب کرو تو وہ الفاظ اور جملے سمجھ سکتا ہے۔کوشش کرو۔ ذرابھی توقف کے بغیر۔ اب کیا کر رہے ہو؟ اس طرح کیا غور ، جیسے ہجے کر رہے ہو؟ تمہارے خیال میں تم اس دیوار کے دوسری جانب کیا پیغام بھیج رہے ہو؟’’غدار! تم بھی! میرے سامنے یہ مجال۔۔۔میں تمہیں شکست دے چکا ہوں۔۔۔میں تمہیں قتل کر سکتا تھا۔۔۔‘‘ یہ تم کیا کر رہے ہو؟ کسی نادیدہ آواز کے سامنے کیا جواز تراشیاں کر رہے ہو؟ کس کے سامنے گڑگڑا رہے ہو؟ ’’میں نے تمہاری جان بخشی تھی۔۔۔تمہاری باری آئی تو۔۔۔یادرکھنا۔۔۔‘‘ تمہارے خیال میں زیرِ زمین کیا چیز دیوار پر یہ ضربیں لگا رہی ہے؟ کیا تمہارا پیش رو ا ب تک زندہ ہے، وہی بادشاہ جسے تم نے اس تخت سے بے دخل کیا تھا، ہاں یہی تخت جس پر تم بیٹھے ہو؟ کیا یہ وہ قیدی ہے جسے تم نے محل کے گہرے ترین زندان میں قید کیا تھا؟
تم ہر رات اسی بے سود امید پر اِس زیرِ زمین ڈھول کی تھاپ پر کان لگائے رکھتے ہو کہ شاید کوئی پیغام پلے پڑ جائے۔ لیکن یہ شک بھی کہیں اندر ہی اندر کلبلا رہا ہے کہ یہ صرف تمہارے کان بج رہے ہیں، یا پھر دل بلّیوں اچھل رہا ہے، یا پھر یہ وہ کھوئی ہوئی نغمگی ہے جو کبھی کبھار یاداشت میں لوٹ کر خوف جگادیتی ہے۔ وائے پشیمانی!آنکھ لگتی ہے تو رات کو گزرنے والی ریل گاڑیوں کے پہیوں کی گڑگڑاہٹ ہمیشہ الفاظ کی ایک ہی تکرار میں کسی یک سُرےلحن کی طرح ڈھل جاتی ہے۔نہیں! بلکہ یہ بھی تو ممکن ہے کہ آوازوں کی ہر تال تمہارے کانوں میں کسی قیدی کی آہ و بکا بن کر ابھرے، تمہارے ۔۔۔شکاروں کی گالیاں، کسی وجہ سے کام تمام نہ ہو سکنے والے دشمنوں کے سانسوں کی منحوس دھونکنی۔

عقل مند ہو کہ ایک لمحہ ضائع کئے بغیر بھی سب کچھ سن رہے ہو، لیکن اتنا یقین رکھو: تم دراصل خود ہی اپنے سامع ہو، یہ بدروحیں تمہارے اندر اتر کر ہی قوتِ گویائی پاتی ہیں۔ کوئی ایسی بات خود کو قربِ سماعت کے لئے کرب سے مچل رہی ہے جو تم خود تک سے کہنے کے قابل نہیں۔۔۔نہیں مانتے؟ تمہیں حتمی ثبوت درکار ہے کہ جو تم سن رہے ہو وہ اندر سے اٹھ رہا ہے نہ کہ باہر سے؟ حتمی ثبوت تو خیر کبھی نہیں ملے گا۔ لیکن یہ سچ ہے کہ محل کے زندان قیدیوں، معطل بادشاہوں، غداری کے ملزم وزراء اور اُن اجنبیوں سے بھرے پڑے ہیں جو پولیس کی روزمرہ پکڑ دھکڑ کے دوران ہتھے چڑھے ہیں، پھر وہ شکار بھی ہیں جو انتہائی محفوظ کوٹھڑیوں میں پھینک کر بھلا دئیے جا چکے ہیں۔۔۔چونکہ یہ تمام لوگ احتجاجی نعروں اور باغی نغموں کے ساتھ رات دن اپنی بیڑیاں ہلاتے یا جیل کی سلاخوں سے اپنے چمچ ٹکراتے رہتے ہیں، لہٰذا یہ ایک فطری بات ہے کہ اس شور شرابے کی گونج اوپر تم تک پہنچ جائے، حالانکہ تمہاری دیواروں اور چھتوں کو اس طرح بنایا گیا ہے کہ آواز کا گزر ممکن نہیں اور اس حجرے کے گرد بھی دبیز پردے گرائے گئےہیں۔ یہ ناممکن نہیں کہ انہی زندانوں میں سے آتی ہوئی آوازوں کا تسلسل جو پہلے تمہیں کسی کھٹکھٹاہٹ کا زیروبم محسوس ہوتا تھا اب ایک گہری ، ہولناک گڑگڑاہٹ میں تبدیل ہو چکا ہو۔ ہرمحل کی بنیادوں میں کچھ ایسے تہہ خانے موجود ہوتے ہیں جہاں کوئی نہ کوئی زندہ درگور ہوتا ہے یا کوئی مردہ شخص ابدی سکون حاصل کر لیتا ہے۔تمہیں ہاتھوں سے اپنےکانوں کو ڈھکنے کی کوئی ضرورت نہیں، یہ آوازیں اسی طرح آتی رہیں گی۔

اگر تم کسی گھن چکر کی طرح ان میں پھنس نہیں جانا چاہتے تو محل کی آوازوں کو اپنے سر پر سوار کرنے کی ضرورت نہیں! باہر نکلو! دور نکل جاؤ! آوارہ گردی کرو! اندھیرے محل کے باہر شہر پھیلا ہوا ہے، راجدھانی کا دارالخلافہ، تمہاری اقلیمِ سلطانی۔ تم اس یاسیت کی سیاہی میں ڈوبے ہوئے محل نہیں بلکہ شہنائیوں جیسی سینکڑوں آوازوں سے مترنم، رنگا رنگ شہروں کے مالک ہونے کے لئے بادشاہ بنے ہو!

شہر رات گئے پیر پسارے لیٹا ہے، خمیدہ پڑا سوتا، خراٹے لیتا، خواب میں بڑبڑاتاہے: وہ اِدھر سے اُدھر کروٹ لیتا ہے توسایوں اور روشنیوں کے قطعے اپنی جگہوں سے سرکتے ہیں۔ ہر صبح شادمانی، انتباہ یا خطرے کی گھنٹیاں بجتی ہیں: وہ پیغامات بھیجتے ہیں لیکن تم کبھی یقین سے نہیں کہہ سکتے کہ وہ دراصل تمہیں کیا بتانا چاہتے ہیں۔مرنے والوں کے لئے جاری آوہ و بکا میں تمہاری سماعت سے پُرجوش رقص و موسیقی کی آوازیں بھی ٹکراتی ہیں، پھر مسرت و شادمانی کےاس گجر کے درمیان ہی غضبناک آوازوں کا ایک دھماکہ سنائی دیتاہے۔ تمہیں تنفسِ شہر کی سماعت پر کان لگانے چاہئیں ، سانسیں جوخستہ و شکستہ ہیں یا پھر مطمئن اور گہری ۔

شہر تہہِ گوش سے اٹھتی ایک مدھم گڑگڑاہٹ ہے، آوازوں کی ایک بھنبھناہٹ، پہیوں کا ایک شور۔ جب محل میں ہر طرف سکوت ہوتا ہے تو شہر حرکت کرتا ہے، گلیوں میں پہیے دوڑتے ہیں، گلیاں کیا ہیں گھومتی چرخیوں کے ارّے ہیں، گراموفون پر قرص گردش میں ہے ، کسی پرانے ریکارڈ پر سوئی رگڑ کھاتی ہے، وقفوں وقفوں سے موسیقی کے لہری جھونکے چلتے ہیں، گلیوں کی گرجتی دراڑوں میں ڈوبتے ہیں اور پھر چمنیوں پر نصب سمت نماؤں کو گھمانے والی ہواؤں کےساتھ ابھرتے ہیں۔ شہر ایک ایسا پہیہ ہے جس کے مدار پر ساکت بیٹھے تم محوِ سماعت ہو۔

گرمیوں میں شہر محل کی کھلی کھڑکیوں سے اندر داخل ہو جاتا ہے، اپنی صداؤں، قہقہوں اورآنسوؤں کے دوروں، ہوائی چرخیوں کے شور اور ٹرانسسٹروں کے ناگوار پٹاخوں کے ساتھ تمام کھلی کھڑکیوں سے اڑتا ہوا اندر آ پہنچتا ہے۔ تمہارے لئے بالکونی سے باہر جھانکنا بے معنی ہے، اوپر سے چھتوں پر نگاہ ڈالتے ہوئے تم ان گلیوں کو کیا خاک پہچان پاؤ گے جن میں تم نے تاج پوشی کے روز سے آج تک قدم بھی نہیں رکھا، جب جلوس اعلام و آرائش اور محافظوں کی قطاروں میں سے گزررہا تھا اور اسی وقت سے ہر شےدور، بہت دور جاتی ہوئی دھندلی محسوس ہو رہی تھی۔

شام کی سرد لہر حجرہ ٔ شاہی تک تو نہیں پہنچتی لیکن تم اسے شامِ گرما کے اس مدھم شور سے پہچان لیتے ہو جس کی پہنچ تختِ شاہی تک ہے۔تمہیں تو بالکونی سے باہر جھانکنے کا خیال تک ترک کر دینا چاہیے: مچھروں کے کاٹنے کے علاوہ تمہیں کچھ حاصل نہ ہو گا،کچھ ایسا نہیں جو پہلے ہی اس گرج میں شامل نہ ہوجو کان اوپر کسی خول کی طرح محسوس ہوتی ہے۔ شہر کسی گھیرے دار خول یا پھر کان کی طرح اپنی گہرائی میں کسی سمندر کی سی گھن گرج رکھے بیٹھا ہے: اگر تم لہروں کی آواز پر کان لگاؤ تو محل کیا ہے ، شہر کیا ہے، کان، خول ، غرض سب کچھ گڈمڈ ہو جائے گا۔
شہر کی آوازوں میں تمہیں ہر کچھ دیر کے بعد ایک تال، سُروں کا ایک سلسلہ، ایک دُھن سنائی دیتی ہے: نفیریوں کے باجے، جلوسوں کے نعرے،ا سکول کے بچوں کے اجتماعی نغمے، جنازے، احتجاجیوں کے بڑھتے قدموں کی تاپ میں رچے بسے انقلابی گیت، احتجاجی جلوس کو رفع دفع کرتے تمہارے مخالفین کی آوازوں کو دبانے کی کوشش کرتے ہوئے سپاہیوں کے تعظیمی ترانے ، ہر کسی کو یہ باور کرانے کے لئے کہ شہر اپنی مسرتوں میں ڈوبا ہے، کسی نائٹ کلب کے لاؤڈ اسپیکر سے اونچی آواز میں بجتی موسیقی، بلوے میں مارے جانے والی کسی غریب کی موت پر عورتوں کے نوحے۔یہی وہ موسیقی ہے جو تم سنتے ہو، لیکن کیا اسے موسیقی کہہ سکتے ہیں؟ تم آواز کی ہر ٹھیکری سے اس طرح اشارے اور معلومات جمع کرتےہو جیسے اس شہر میں تمام گانے بجانے اورموسیقی سننے والے تمہیں واضح اور غیر مبہم پیغامات بھیجنا چاہتے ہیں۔ تمہاری تاج پوشی کے دن سے تم موسیقی نہیں بلکہ موسیقی کے استعمال کی بابت خبریں سن رہے ہو: اشرافیہ کے رسوم و رواج میں، عوام کے میلوں ٹھیلوں میں، روایات، ثقافت، اور فیشن کے تحفظ میں۔ اب تم خود سے پوچھتے ہو کہ تمہارے لئے تب سماعت کے کیا معنی ہوا کرتے تھے جب تم سُروں کو صرف اور صرف اپنی روح میں اتارنے کے لئے موسیقی سنا کرتے تھے؟

وہ بھی ایک وقت تھا جب خوش ہونے کے لئے تمہیں صرف اپنے ذہن یا لبوں سے ایک ’’ٹرا لالالا‘‘ کرتے ہوئے اس سُر کی نقالی کرنا ہوتی تھی جو کسی عام سے گیت یا پھر کسی پیچیدہ سمفونی سے تمہارے ذہن میں اٹک گئی ہوتی تھی۔اب ’’ٹرالالالا‘‘ کی جتنی بھی کوشش کر لو، کوئی سُر تمہارے ذہن میں نہیں آتا ۔

یاد ہے وہ آواز، وہ نغمہ ، وہ نسوانی آواز جو کبھی کبھار ہوا کے دوش پر کسی کھلی کھڑکی سے تم تک پہنچ جاتی تھی، یاد ہے وہ محبت کا گیت جو گرمیوں کی راتوں میں ہوا کے جھونکے تم تک لاتے تھے، یاد ہے وہ لمحہ جب تمہارے اس گمان کے ساتھ ہی کہ تم نے اس کی کوئی سُر پکڑ لی ہے ، وہ کھو چکا ہوتا تھا، اور تمہیں کبھی یاد ہی نہیں ہوتا تھا کہ آیا وہ تم نے واقعی سنا تھا یا وہ محض تمہارے تخیل ، تمہاری تمنا کی پیداوار تھی ، تمہاری طویل شب بیداری کے ہیبت ناک خواب میں اسی عورت کے گانے کی آواز گونجتی ہے۔ تم خامشی و ہوشیاری سے اسی کے منتظر ہو: اب تمہارے کان خوف کے مارے تو ہرگز نہیں کھڑے۔اب ایک بار پھر تم وہی نغمہ سن رہے ہو جو اپنی ہر جداگانہ سُر، ہر رنگ و آہنگ کے ساتھ ایک ایسے شہر سے تم تک پہنچ رہا ہے جسے ہر قسم کی موسیقی اکیلا چھوڑ چکی ہے۔

کسی شے کی کشش محسوس کئے بھی تمہیں ایک عرصہ گزر چکا، شاید اس وقت سے جب تم نے اپنی تمام تر قوتیں تخت کے حصول میں لگا دیں۔ اب تمہیں بس یہی یاد ہے کہ اپنے دشمنوں کو زیر کرلینے کی تمنا کیسے تمہیں نگل رہی تھی کہ کسی دوسری چیز کی خواہش اور خیال تک نہ تھا۔ لیکن اس وقت بھی دن رات موت کا خیال اسی طرح تمہارے ساتھ تھا جیسے آج جب تم رات کے سناٹے اور اپنے خلاف جنم لیتی بغاوتوں سے بچاؤ کی خاطر نافذ کئے گئے کرفیو کی خامشی میں شہر کو گھورتے ہو، اور سنسان گلیوں میں محافظ گشتی دستوں کے دھپ دھپ کرتے قدموں کا تعاقب کرتے ہو۔ پھر جب سناٹے میں کسی بے نور روزن کی دہلیز پر موجود وہ نادیدہ نسوانی آواز اپنے سُر بکھیرتی ہے تو اچانک زندگی کی بھولی بسری یادیں واپس لوٹ آتی ہیں، تمہاری تمنا ئیں کسی شے کو پا لیتی ہیں۔ یہ کیا ہے؟ یہ وہ نغمہ نہیں جو تم نے نہ جانے کتنی بار سنا ہو گا، نہ ہی یہ عورت جو تم نے کبھی نہیں دیکھی: تم تو دراصل اس آواز کے قتیل ہو جس طور وہ خود کو گیت میں پیش کرتی ہے۔

یہ آواز یقیناً کسی انسان کی ہے، کسی بھی جیتےجاگتے، یکتا، بے مثل انسان کی طرح ایک انسان، لیکن پھر بھی آواز انسان تو نہیں ہوتی، یہ تو اشیاء کے انجماد سے جدا، ہوا میں معلق کوئی چیز ہے۔آواز بھی یکتا اور بے مثل ہوتی ہے لیکن شاید انسان کے مقابلے میں ایک مختلف طور پر: یہ ممکن ہے کہ آواز اور انسان میں مماثلت نہ ہو۔ یا پھر وہ کسی ایسی خفیہ طرز پر ایک دوسرے سے ملتے جلتے ہوں جس کا ادراک پہلی نظر میں ناممکن ہو: ممکن ہے کہ آواز کسی انسان کا پوشید ہ اور اصل ترین جزو ہو۔ کیا وہ تمہارا غیر مجسم جزو ہے جو اس غیر مجسم آواز کو سنتا ہے؟ اس صورت میں اس سے کچھ فرق نہیں پڑتا کہ تم نے وہ آواز اصل میں سنی یا محض تمہاری یاداشت یا تخیل کا کرشمہ تھا۔

لیکن پھر بھی تم یہی چاہتے ہو کہ تمہارا کان اس آواز کا ادراک کرے لہٰذا تمہیں اپنی جانب کھینچنے والی شے صرف کوئی یاد یا پُرفریب سراب نہیں بلکہ ایک گوشت پوست کے حلق میں اٹھتا ارتعاش ہے۔ ایک آواز کے معنی یہ ہیں:ایک زندہ شخص، حلق، سینہ، احساسات، یعنی وہ جو اس آواز کو ہوا کے سپرد کرتا ہے، تمام آوازوں سے مختلف ایک آواز۔ایک آواز میں حلق، لعاب، نوزائیدگی، تجرباتِ زندگی کا ملمع، ذہن کی مرادیں اور صوتی لہروں کو ایک ذاتی تشخص دینے کی مسرت شامل ہوتی ہے۔تمہارے لئے اصل کشش اس مسرت میں ہے جو یہ آواز ایک ہستی کو دیتی ہے، یعنی ہستی بطور آواز۔ لیکن یہ مسرت تمہیں اس تصور پر ابھارتی ہے کہ فلاں شخص فلاں سے اس لئے مختلف ہے کیوں کہ دونوں کی آواز مختلف ہے۔

کیا تم اِس مغنیہ کو تصور میں لانے کی کوشش کر رہے ہو؟ یاد رکھو تم اپنی چشم ِ تصور سے ا س کا جو بھی سراپا دیکھو ، صوتی سراپا اس پر بھاری ہو گا۔ یقیناً تم اس میں موجود امکانات کو ضائع تو نہیں کرنا چاہو گے، تو بہتر یہی ہے کہ آواز کو تھامے رکھو اور محل سے باہر بھاگ نکلنے اور اس ڈومنی کی تلاش میں شہر کی سڑکیں ناپنے کی خواہش پر قابو پانے کی کوشش کرو۔

لیکن تمہیں روکنا ناممکن ہے۔ تمہارا ایک حصہ اس نامعلوم آواز کی جانب بھاگتا چلا جا رہا ہے۔ اُس کی اپنی سماعتوں تک رسائی کی مسرت سے سرشار، تم اب اپنی سماعت اُس کے کانوں تک پہنچانا چاہتے ہو، تم بھی اب ایک آواز بننا چاہتے ہو تاکہ و ہ تمہیں اسی طرح سن سکے جیسے تم اسے سنتے ہو۔

کیا بدنصیبی ہے کہ تم گا نہیں سکتے۔ اگر تم گانا جانتے تو شاید تمہاری زندگی مختلف ہوتی،اس سے زیادہ خوش یا پھر ایک منفرد سی اداسی ، ایک نغمگی بھری یاسیت۔ شاید تم بادشا ہ بننے کی ضرورت ہی محسوس نہ کرتے۔ اس چرچراتے تخت پر بیٹھے یوں سایوں کو نہ گھور رہے ہوتے۔
شاید تمہاری اصل آواز کہیں تمہارے بہت اندر دفن ہے، ایک ایسا نغمہ جو تمہارے جکڑے ہوئے حلق ، تمہارے خشک اور بھنچے ہوئے ہونٹوں کی قید سے آزاد نہیں ہو سکتا۔ یا پھر تمہاری بکھری ہوئی آواز اپنی بھنبھناہٹ سے اِدھر اُدھر سر اور تال بکھیرتی ،قریہ بہ قریہ آوارہ پھرتی ہے۔وہ انسان جو تم ہو، تھے یا ہو سکتے تھے یعنی تم جیسے تمہیں کوئی نہیں جانتا اس آواز میں ظاہر ہوتے ہو ۔

کوشش کرو، زور لگاؤ، اپنی خفیہ قوت کو حاضر کرو۔ زور لگا کر ہیّا! نہیں ، یہ بھی نہیں چلا۔ ہمت نہ ہارو، دوبارہ کوشش کرو۔ اے لو! ہو گیا نہ معجزہ! تمہیں تو اپنے کانوں پر یقین نہیں آ رہا! کس کی ہے یہ آواز جو اونچی تیز تال کے ساتھ اٹھتی ہے، اپنے نقطۂ اوج کو جا لیتی ہے اور پھر اُس نسوانی آواز کی نقرئی جھلملاہٹ میں مل جاتی ہے؟ کون اُس کے ساتھ اس دوگانے میں اس طرح شریک ہے جیسے دونوں ایک ہی صوتی ارادے کے دو تکمیلی و تشاکلی چہرے ہوں؟ یہ تم ہی گا رہے ہو، اس میں کوئی شک نہیں: یہ تمہاری ہی آواز ہے جو آخر کار تم کسی اجنبیت یا اضطراب کے بغیر سن سکتے ہو۔

لیکن تم یہ سُر کیسے پیدا کر سکتے ہو جب تمہارا سینہ سکڑا اور دانت بھنچے ہوئے ہیں؟ تمہیں یقین ہے کہ شہر اس ذاتِ نسوانی کے طبعی پھیلاؤ سے زیادہ کچھ نہیں اور اگر اپنی راجدھانی کے دارلخلافہ سے بھی نہیں ،تو پھر ایک بادشاہ کی آواز آخر کہاں سے آئے؟ اپنی سماعت کی وہی تیزی جس نے تمہیں اب تک اس نامعلوم عورت کے گیت سے جوڑے رکھا، اب اس آواز کی سینکڑوں کرچیاں چن رہی ہے جو یکجا ہو ایک قطعی غیر مبہم آواز کی شکل اختیار کر لیتی ہیں، ایک ایسی آواز جو صرف اور صرف تمہاری ہے۔

بس اب اپنی سماعت میں ہر خلل اور رکاوٹ کو دور کر دو ۔غور کرو! تمہیں خود کو بلاتی اُس عورت کی پکار اور اسے بلاتی اپنی پکار کو اکھٹے ایک ہی ارادۂ سماعت میں پرونا ہے (یا تم اسے تصورِ سماعت کہنا چاہو گے؟)۔ اے لو! نہیں، اتنی جلدی نہیں۔ ہمت نہ ہارو۔ دوبارہ کوشش کرو۔ اگلے ہی کسی لمحے میں اس کی اور تمہاری پکاریں ایک دوسرے کو جواب دیں گی اور ایک دوسرے میں اس طرح مدغم ہو جائیں گی کہ انہیں علیحدہ کرنا ناممکن ہو گا۔۔۔
لیکن بہت سی آوازیں حملہ آو ر ہوتی ہیں، چیختی چنگھاڑتی، وحشی آوازیں: اُس کی آواز خارج سے لشکر کشی کرتی موت کی دھاڑ سے گھبرا کر ٹھٹکتی اور غائب ہو جاتی ہے، یا پھر تمہارے اندر مکرر گونجتی ہے۔ تم اسے کھو چکے ہو، تم کھو چکے ہو، تمہارا صوتی خلاؤں میں اڑتا جزو اب کرفیو لگی گلیوں میں شب گردی کرتے گشتی دستوں کے درمیان دوڑ رہا ہے۔ آوازوں کی زندگی بس ایک خواب تھا، شاید کچھ ہی لمحے زندہ رہا جیسے خواب رہتے ہیں ، جب کہ خارج میں وہ ہولناک خوابیدہ داستان اب بھی جاری ہے۔

لیکن اس کے باوجود تم بادشاہ ہو: اگر تم دارالخلافہ میں رہنے والی کسی ایسی عورت کی تلاش میں ہو جو اپنی آواز سے پہچانی جاتی ہے تو یقیناً تم اس قابل ہو گے۔ اپنے جاسوسوں کو کھلا چھوڑ دو، حکم دو کہ وہ شہر کا چپہ چپہ چھان ماریں۔ لیکن اس آواز کو کون پہچانتا ہے؟ صرف تم۔ صرف تم ہی اس تلاش کے قابل ہو۔ اور یوں جب کوئی تمنا آخرکار خود کو تمہارے سامنے پیش کرتی ہے تو تمہیں معلوم ہوتا ہے کہ بادشاہ ہونا کسی کام کا نہیں۔

ذرا ٹھہرو، اتنی جلدی ہمت ہارنے کی کوئی وجہ نہیں، ایک بادشاہ کےپاس وسائل کی کیا کمی۔ کیا یہ ممکن ہے کہ تم ایک ایسا نظام نہ بنا سکو جو من چاہی چیز حاصل کر لے؟ تم ایک مقابلۂ موسیقی کا اعلان کر سکتے ہو: بادشاہ کے حکم سے سلطنت کی تمام خوش نوا ڈومنیاں محل میں حاضر کی جائیں۔ بلکہ یہ تو ایک بہت ہی اہم سیاسی چال ہو گی کہ اِس افراتفری کے زمانے میں رعایا کے حوصلے بلند کئے جائیں اور شہریوں اور تاج ِ شہنشاہی کے درمیان رشتوں کو مضبوط کیا جائے۔تم باآسانی یہ منظر تصور میں لا سکتے ہو:یہی آراستہ و پیراستہ دالان، سجا سجایا چبوترا، سازندوں کا طائفہ، اہم ترین درباریوں پر مشتمل سامعین، اور تم تخت پراپنے سپاٹ چہرے کے ساتھ براجمان، ایک ایک اونچے سُر، ایک ایک گٹکری پر کسی غیرجانبدار جج کی طرح بغور کان لگائے، یہاں تک کہ اچانک تم اپنا عصا اٹھاتے ہوئے اعلان کرتے ہو:’’یہی وہ عورت ہے!‘‘

تم اسے پہچاننے میں کیسے غلطی کر سکتے ہو؟ جگمگاتے بلوری فانوسوں ، گملوں میں لگے چوڑے چکلے پام جیسے پودوں کے پتوں بیچ گانے والی کوئی بھی آواز اس سے کم ملتی جلتی نہیں ہو سکتی جو عام طور پر بادشاہ کے سامنے اپنے فن کا مظاہرہ کرتی ہیں۔ تم اپنے اعزاز میں منعقد کی جانے والی شاندار سالانہ تقریبات کے دوران سنگت کی کئی محفلوں میں موجود رہے ہو۔ سماعت ِ شہنشاہی کا ادراک رکھنے والی ہر آواز خود پر ایک سرد ملمع، ایک کانچ کا سا تصنع طاری کئے رہتی ہے۔ اس کے برعکس یہ آواز کسی دھندلکے سے آتی محسوس ہوتی تھی، جیسے خود کو اندھیروں کی اوٹ سے نکالے بغیر ظاہر کرنے پر خوش ہو، انہی اندھیروں میں لپٹی ہر موجودگی کی جانب ایک پل سا بنا رہی ہو۔

لیکن کیا تمہیں یقین ہے کہ پایۂ تخت کے سامنے موجود آواز بھی وہی تھی؟ کیا یہ ممکن نہیں کہ وہ درباری مغنیاؤں کی نقالی کی کوشش کرے؟ کیا یہ ممکن نہیں کہ تم اسے ان بہت سی آوازوں سے خلط ملط کر بیٹھو جنہیں تم آئے دن ایک شاہانہ التفات سے کسی اڑتی مکھی کی پرواز کو تکتےہوئےسنتے ہو؟

اُسے خود کو ظاہر کرنے پر مجبور کرنے کا واحد طریقہ اپنی اصل آواز سے اُس کا ٹکراؤ ہے، وہی مبہم سا صوتی پیکر جسے تم نے شہر میں اٹھنے والے آوازوں کے طوفان سے طلب کیا ہے۔ یہی کافی ہو گا اگر تم گاؤ، اس آواز کو آزادکرو جسے تم نے ہمیشہ ہر ایک سے چھپائے رکھا، اور وہ تمہیں فوراً اس انسان کے طور پر پہچان لے گی جو تم حقیقتاً ہو، اپنی آواز، اپنی حقیقی آواز تمہاری آواز سے ملا دے گی۔

لیکن آہ! پھر پورے محل میں ایک حیرت زدہ واویلا سا مچ جائے گا: ’’جہاں پناہ گا رہے ہیں۔۔۔سنو تو ظلِ الہی کیسے گاتے ہیں۔۔۔‘‘ لیکن پھر جلد ہی وہ سکوت ایک بارپھر چھا جائے گا جو ،اُس کے قول و فعل سے قطع نظر، کسی بھی بادشاہ کے دربار میں سماعت کا خاصہ ہے۔ تمام چہرے اور انداز ایک لگا بندھا سا اطمینان ظاہر کریں گے جیسے کہہ رہے ہوں: ’’جہاں پناہ ہمیں ایک گیت سے نواز رہے ہیں۔۔۔‘‘ اور سب اس پر متفق ہوں گے کہ صوتی مظاہرہ کسی بھی مطلق العنان ہستی کا استحقاق ہے (اس شرط کے ساتھ کے اس کے بعد وہ طنز و دشنام سے بھری سرگوشیاں کر سکتے ہیں)۔

قصہ مختصر، تمہارے لئے گانا بہت ہی خوب ہے: تمہیں کوئی نہیں سنے گا، ہاں وہ تمہیں نہیں سنیں گے، تمہارا گیت، تمہاری آواز۔ وہ بادشاہ کو اسی طرح سنیں گے جیسے کسی بادشاہ کو سننے کا حق ہے، یعنی ہر اس چیز کو قبول کیا جائے جو اوپر سے نازل ہو اور جس کے اس سے زیادہ کوئی معنی نہ ہوں کہ وجود ِ بالا اور وجود ہائے زیریں کے بیچ غیرمتغیر رشتے کو برقرار رکھا جائے۔ یہاں تک کہ وہ بھی تمہیں نہیں سن سکتی جو تمہاری واحد مخاطب ہے: تمہاری آواز نہیں بلکہ وہ تو بادشاہ کو سُنے گی، اس کا جسم کورنش کی حالت میں منجمد اورہونٹوں پر درباری آداب کے مطابق متوقع نامنظوری کو چھپاتی ایک مسکراہٹ ہو گی۔

پنجرے سے نکلنے کی ہر کوشش کی تقدیر میں ناکامی ہے: خود کو ایک ایسی دنیا میں تلاش کرنے کا کیا فائدہ جو تمہاری ہے ہی نہیں، جو شایدسرے سے وجود ہی نہیں رکھتی۔ تمہارے لئے تو صرف محل ہے،گونج در گونج باز گشت پیدا کرتی محرابیں، سنتریوں کی گھڑیاں، بجری کو روندتے ٹینک، سیڑھیوں پر جلدی میں اٹھتا ہر قدم جو شاید تمہارے خاتمےکا اعلان کر رہا ہے۔ یہی وہ واحد علامتیں ہیں جن کے ذریعے دنیا تم سے ہم کلام ہوتی ہے، ایک لمحے کے لئے بھی ان سے اپنی توجہ نہ ہٹاؤ، اِدھر تمہاری توجہ ہٹی اُدھر تمہارے ارد گرد اپنے تفکرات کی حفاظت کے لئے تخلیق کی گئی فصیل دھڑام سے زمین بوس ہو کر ریزہ ریزہ ہو جائے گی۔

کیا یہ تمہارے لئے ناممکن ہے؟ کیا تمہارے کان ان نئی اجنبی آوازوں سے بہرے ہو رہے ہیں؟ کیا تم مزید اس قابل نہیں رہے کہ اندر اور باہر اٹھتے شوروغوغامیں فرق کر سکو؟ شاید اب مزید کوئی اندر یا باہر رہا ہی نہیں: جس دوران تم آوازوں پر کان لگائے بیٹھے تھے، غداروں نے پہرے میں کمزوری کا فائدہ اٹھایا تاکہ بغاوت کر دیں۔

اب تمہارے ارد گرد محل نہیں بلکہ چیخوں اور گولیوں کی آوازوں سے بھری رات ہے۔ تم کہاں ہو؟ کیا اب تک زندہ ہو؟ کیا تم حجرۂ شاہی میں داخل ہوئے قاتلوں کو چکمہ دینے میں کامیاب ہوئے؟ کیا خفیہ سیڑھیوں نے تمہیں بچ نکلنے کاموقع دیا؟

شہر اب شعلوں اور چیخ و پکار سے پھٹا جا رہا ہے۔ شب کی اندرونی تہہ ادھڑ کر باہر آ گئی ہے۔ سیاہی اور سناٹا باہم غوطہ زن ہیں اور ایک دوسرے کی تہہ میں سے آتش و غوغا نکال کر باہر پھینکتے ہیں۔ شہر کسی جلتے ہوئے کاغذ کی طرح شکن زدہ ہے۔ بھاگو! تاج کے بغیر، عصا کےبغیر، کسی کو خبر نہیں ہو گی کہ تم بادشاہ ہو۔ شبِ آتشیں سے اندھیری کوئی رات نہیں۔ اس آدمی سے تنہا کوئی نہیں جو ایک نوحہ کناں ہجوم کے بیچ سے گزر رہا ہو۔
مضافاتی علاقے کی رات شہر کی حالتِ نزاع پر نظر رکھے ہے۔ طیورِ شبانہ کی دلدوز چیخوں کے ساتھ ایک خطرے کا گجر بجتا ہے، لیکن جوں جوں وہ دیواروں سے باہر نکلتا ہے ، توں توں تاریکی کی عمومی سرسراہٹ میں گم ہو جاتا ہے: پتوں سے گزرتی ہوا، ندیوں کا بہاؤ، مینڈکوں کی ٹراہٹ ۔ رات کے پُرشور سکوت میں ایک خلا سا پھیلتا ہے، تمام واقعات ایک آناً فاناً شعلے کے سے ہیں جو جلتے ہی بجھ جائے، کسی ٹوٹی شاخ کے چٹخنے کی آواز، کسی خرموش کی کٹیلی چیخ جب سانپ اس کی کھوہ میں آ گھسے، دو محبت میں لڑتی بلیاں، تمہارے مفرور قدموں تلے گھسٹتی کچھ کنکریاں۔
تم ہانپتے ہو، کچھ اس طرح کہ سیاہ آسمان تلے صرف تمہاری سانس اور تمہارے لڑکھڑاتے قدموں تلے چرچراتے پتوں کی آواز ہی سنی جا سکتی ہے۔ مینڈک اب چپ کیوں ہیں؟ ارے نہیں، یہ لو، وہ دوبارہ شروع ہو گئے۔ کوئی کتا بھونکتا ہے۔۔۔ذرا ٹھہرو۔کتے ایک دوسرے کو دور سے جواب دیتے ہیں۔ کچھ دیر سے تم دبیز اندھیرے میں چل رہے ہو، تمہیں کچھ معلوم نہیں کہ تم کہاں ہو۔ اپنے کان کھڑے کرتے ہو۔ تمہاری ہی طرح کوئی اور بھی ہانپ رہا ہے۔ کہاں؟
رات سانس کی دھونکنی ہے۔ ہلکی ہوا یوں چلتی ہے جیسے گھاس سے جنم لے رہی ہو۔ چار سو جھینگر وں کا شورتھمنے کا نام نہیں لیتا۔اگر تم ایک آواز کو دوسری سے علیحدہ کرو تو وہ یک دم نکلتی محسوس ہوتی ہے، بہت واضح ، لیکن وہ تو اس سے قبل بھی یہاں تھی، دوسری آوازوں میں چھپی ہوئی۔
تم بھی وہاں پہلے موجود تھے۔ اور اب؟ جواب نہیں بن پڑتا۔ نہیں جانتے ان سانسوں میں سے کون تمہارا ہے۔ نہیں جانتے کہ کیسے سننا ہے۔ اب مزید کوئی کسی کو نہیں سن رہا۔ صرف رات خود اپنی ہی سامع ہے۔

تمہارے قدموں کی بازگشت سنائی دیتی ہے۔ تمہار ے سر پر اب آسماں نہیں۔ دیوار چھوتے ہو تو کائی کالیپ اور بھربھرا پن ہے ، اب تمہارے ارد گرد چٹانیں ہیں، ننگے پتھر۔ اگر پکارو تو تمہاری ہی آواز ٹکرا کر واپس آتی ہے۔ کہاں؟ ‘‘اوہووووو۔۔۔اوہوووو۔۔۔’’ شاید تم کسی پہاڑ کی کھوہ میں پہنچ چکے ہو: ایک ناختم ہونے والی غار، ایک زیر زمین راستہ۔۔۔

کئی سال تم نے محل میں ایسی سرنگیں کھدوائیں جن کی شاخیں شہر تلے گزرتی ہوئی کھلے میدانوں تک پہنچ جاتی ہیں۔۔۔ خود کو امکانی طور پر یقین دلانا چاہتے تھے کہ نظر آئے بغیر کہیں بھی پہنچ سکو، خیال تھا کہ صرف زمین کی آنتوں ہی میں رہتے ہوئے اپنی راجدھانی پر غلبہ قائم رکھ سکو گے۔ پھر تم نے کھدائی کو کھنڈر ات تلے دبا رہنے دیا۔ اور اب تم یہاں اپنی کچھار میں پناہ گزیں ہو۔ یاا پنے ہی جال میں پھنس چکے ہو۔ خود سے پوچھو کہ کیا کبھی یہاں سے باہر نکلنے کا رستہ ڈھونڈ سکو گے۔ باہر نکلو گے: کہاں؟

کھٹکھٹانے کی آواز۔ پتھر میں سے۔ مدھم۔ زیر وبم۔ کسی اشارے کی طرح! تھپ تھپ کی آواز کہاں سے آ رہی ہے؟ تم تو یہ تال پہچانتے ہو۔ یہ تو قیدی کی پکار ہے! جواب دو۔ خود بھی دیوار کو تھپتھپاؤ۔ چیخو۔ اگر تمہیں یاد ہو تو یہ سرنگ سیاسی قیدیوں کی کوٹھڑیوں سے منسلک ہے۔۔۔

وہ نہیں جانتا تم کون ہو: رہاکرانے والے یا داروغہ؟ یا شایدوہ جو زیر زمین گم چکا ہے ، خود اسی کی طرح، ،شہر کی خبروں اور اس لڑائی سے کٹا ہوا جس پر اس کی تقدیر کا انحصار ہے؟

اگر وہ اپنی کوٹھڑی کے باہر پھر رہا ہے تو یہ اس بات کی علامت ہے کہ وہ اس کی بیڑیاں کھولنے، سلاخیں ہٹانے آئے ہیں۔ وہ اس سے کہتے ہیں: ‘‘غاصب ہٹ چکا ہے! تم تخت پر واپس لوٹو گے! محل کو واپس حاصل کر لو گے!’’ایک اور گجر، شاہی سپاہیوں کی جانب سے جوابی حملہ اور رہا کرانے والے اسے تنہا چھوڑ کر سرنگوں میں کہیں نکل جاتے ہیں۔ ظاہر ہے اب وہ گم چکا ہے۔ان پتھر کی محرابوں تلے کوئی روشنی ، اوپر ہونے والے شور کی کوئی گونج نہیں پہنچتی۔

اب تم ایک دوسرے سے بات چیت کےقابل ہو تاکہ ایک دوسرے کی آوازیں پہچان سکو۔ کیا تم اسے بتاؤ گے کہ تم کون ہو؟ کیا یہ کہ تم اسے اس آدمی کے طور پر پہچان چکے ہو جسے تم نے اتنے سال جیل میں رکھا؟ وہ آدمی جسے تم نے لعنت ملامت کرتے، انتقام کی قسمیں کھاتے سنا؟ اب تم دونوں ہی زیرِ زمین کھو چکے ہو اور نہیں جانتے کہ کون بادشاہ ہے او رکون قیدی۔ تمہیں کچھ کچھ گمان ہے کہ اصل چاہے جو بھی ہو، کچھ نہیں بدلے گا: تم اس کوٹھڑی میں ہمیشہ کے لئے مقفل معلوم ہوتے ہو، پیغامات بھیج رہے ہو۔۔۔تمہارا گمان ہے کہ تمہاری تقدیر اسی طرح ہمیشہ امید و بیم کی کیفیت میں معلق رہی ہے۔ تم میں سے ایک یہیں نیچے رہےگا۔۔۔دوسرا۔۔۔

لیکن شاید اس نے، یہاں نیچے ، ہمیشہ یہی محسوس کیا کہ وہاں اوپر تخت پر ہے، سر پر تاج ، ہاتھ میں عصا ہے۔ اور تم؟ کیا تم نے ہمیشہ خود کو قیدی محسوس نہیں کیا؟ تمہارے درمیان مکالمہ کیسے ممکن ہے جب تم دونوں میں سے ہر ایک یہی سوچ رہا ہو کہ جو وہ سن رہا ہے وہ دوسرے کے الفاظ نہیں بلکہ اس کی اپنی آواز کی گونج ہیں؟

تم میں سے ایک کے لئے چھٹکارے کی ساعت قریب آ رہی ہے، دوسرے کے لئے تباہی کی۔ اور پھر بھی وہ پریشانی جس نے کبھی تمہارا پیچھا نہیں چھوڑا اب غائب محسوس ہوتی ہے۔ تم اب گونجوں اور سرسراہٹ کی آواز سنتے ہوئے انہیں علیحدہ کرنے اور ان کے معانی سمجھنے کی مزید کوئی ضرورت محسوس نہیں کرتے جیسے وہ کوئی موسیقی ترتیب دے رہی ہوں۔ ایک ایسی موسیقی جو اس نامعلوم نسوانی آواز کی یاد یں واپس لے آتی ہے۔ لیکن کیا تم اسے یاد کر رہے ہو یا واقعی سن رہے ہو؟ ہاں یہ وہی ہے، یہ اسی کی آواز ہے جو چٹانی محرابوں تلے ابھرنےوالی کسی پکار کی طرح ایک سُر میں ڈھل جاتی ہے۔ شاید وہ بھی کائنات کے ابدی کنارے کی طرح اسی رات میں کھو چکی ہو۔اسے جواب دو، اپنی آواز سناؤ، اسے پکارو تاکہ وہ سیاہی میں راستہ تلاش کرتی ہوئی تم تک پہنچ جائے۔ خاموش کیوں ہو؟ کیا تمہیں سارے زمانے میں اسی لمحے گنگ ہونا تھا؟

لو وہاں اندھیرے سے ایک اور پکار اٹھتی ہے، عین اسی جگہ جہاں سے قیدی کے الفاظ سنائی دئیے تھے۔ یہ ایک آسانی سے پہچان لی جانے والی پکار ہے جو عورت کو جواب دیتی ہے، یہ تمہاری آواز ہے، وہی آواز جو تم نے اسے جواب دینے کے لئے تخلیق کی، شہر کی آوازوں کی خاک میں سے اسے چنا، وہی آواز جو تم نے حجرۂ شاہی کے سکوت سے اس کی جانب روانہ کی! قیدی تمہاراگیت گا رہا ہے جیسے اس نے کبھی یہ گیت گانے کے علاوہ کوئی کام ہی نہ کیا ہو، جیسے یہ گیت کبھی کسی اور نے نہ گایا ہو۔۔۔

وہ اپنی باری پر جواب دیتی ہے۔ دونوں آوازیں اک دوجے کی جانب بڑھتی ہیں،اک دوجے پر منڈھ دی جاتی ہیں، مدغم ہو جاتی ہیں، جیسے تم نے انہیں شہر کی رات میں ایک ساتھ سنا، اسی یقین کے ساتھ کہ اس کے ساتھ یہ گیت گانے والے تم ہو۔ اب وہ یقیناً اس تک پہنچ چکی ہے، تم ان دونوں کی آوازیں سنتے ہو، تمہاری آوازیں، ایک ساتھ۔ ان کا تعاقب تمہارے لئے بیکار ہے: وہ ایک بڑبڑاہٹ، ایک سرگوشی بن رہے ہیں، باالآخر غائب ہو جاتے ہیں۔
نظریں اٹھاؤ تو تمہیں ایک چمک نظر آئے گی۔افق پر نمودار ہوتی صبح آسمان کو روشن کر رہی ہے: تمہارے رخساروں کو چھوتی یہ سانس دراصل پتوں کو جنبش دینے والی ہوا ہے۔

اب تم پھر باہر ہو، کتے بھونک رہے ہیں، پرندے جاگتے ہیں، دنیا کے چہرے پر رنگ واپس لوٹ رہا ہے، چیزیں دوبارہ جگہ پر واپس آ رہی ہیں، جاندار ایک بار پھر زندگی کی علامت پیش کرتے ہیں۔ اور یقیناً تم بھی یہیں ہو، اس سب کے بیچ، تمام اطراف میں امڈتی ہوئی آوازوں کے بیچ، برقی رو کی بھن بھن میں، پسٹنوں کے ارتعاش میں، چرخیوں کے چھناکوں میں۔ زمین کی تہوں میں کہیں نہ کہیں شہر ایک بار پھر جاگ رہا ہے، دھماکے، ہتھوڑے ، رگڑ کی آواز جو بڑھتی ہی جاتی ہے۔ اب ایک شورو غوغا ، ایک گرج کڑک تمام جگہ پر پھیل رہی ہے، تمام آہیں، پکاریں اور ہچکیاں اپنےاندر جذب کر لیتی ہے۔۔۔

Did you enjoy reading this article?
Subscribe to our free weekly E-Magazine which includes best articles of the week published on Laaltain and comes out every Monday.

Related Articles

جہنم

مسجد کو دلہن کی طرح سجایا گیا تھا، برقی قمقمے اور چھوٹی چھوٹی سرخ، سبز اور سفید روشنیاں مسجد کی خوبصورتی میں اور بھی اضافہ کر رہی تھیں۔

اِس دنیا میں خدا کا ہاتھ ہے

یاہودا امیخائی: میرا دُکھ میرا جدِ امجد ہے
اِس نے میرے دُکھوں کی دو نسلوں کو جنم دیا
جو اُس کی ہم شکل ہیں

گھوڑا اور آدمی

گھوڑے اور آدمی کے ساتھ کو آج مدتیں بیت گئی تھیں اور اب وہ ایک دوسرے کی شکل دیکھنے کے بھی روادار نہیں تھے۔ چلتے چلتے گھوڑے نے سوچا ،"بس بہت ہو ا آج یہ سارا تماشہ ختم ! مجھے بات کرنا ہی ہو گی کہ میں اب اس کے اور ساتھنہیں رہ سکتا۔"