درآمدات و برآمدات الباکستان

درآمدات و برآمدات الباکستان
الحمدللہ الباکستان اپنے معاشی و اقتصادی و جغرافیائی و موسمی و سیاسی و سماجی و تعلیمی و انتظامی حالات کے باعث جزیرہ نمائے عرب میں اہم حیثیت رکھتا ہے اور تاریخی اہمیت کے حامل ایک ایسے راستے پر واقع ہے جہاں سے افواج اور اسلحے کی ترسیل ہمہ وقت جاری و ساری رہتی ہے۔ عرب، افغان، مشرق وسطی، یورپ اور امریکہ کے بیشتر دستے اسی گزرگاہ سے حملہ آور ہوتے رہے ہیں اور کثیر زرمبادلہ کمانے کا باعث بنتے ہیں۔ صرف یہی نہیں بلکہ قدرت نے اس خطے کو داڑھیوں، مسواکوں، برقعوں، فرقوں ، فتووں اور جہادیوں کی قدرتی دولت سے مالا مال کیا ہے۔ ان قدرتی مسائل کی مدد سے وسائل کو قابو میں رکھنے میں مدد ملتی ہے اور مقامی مدرسوں کو فروغ ملتا ہے۔ الباکستان اپنی تیار کردہ ضرورت سے زائد مصنوعات برآمد بھی کرتا ہے۔ پاکستانی روحانی مصنوعات کی مانگ میں روز بروز اضافہ ہورہا ہے اور عنقریب الباکستان کشکول توڑ کر ترقی یافتہ عرب ریاستوں میں شامل ہوجائے گا۔
چند مقامی صنعتوں کا احوال
جہادی و تبلیغی
جہادیوں کی فصل عموماًداڑھی پھوٹنے سے پہلے کاشت کی جاتی ہے جسے مختلف مراحل سے گزار کر ملکی و غیر ملکی استعمال کے قابل بنایا جاتا ہے۔ اس صنعت کے لیے جگہ جگہ مدارس قائم کیے گئے ہیں جو اپنی اپنی فقہ کے جہادی تیار کرتے ہیں۔ الباکستان میں تیار کردہ جہادی افغانستان، شام، عراق اور کشمیر میں برآمد کیے جاتے ہیں اس کے علاوہ استعمال شدہ جہادیوں کی مرمت اور دیکھ بھال کاکام بھی ملکی صنعت میں اہم ہے۔ الباکستانی جہادی تباہی و تخریب کاری میں اپنی مثال آپ ہیں اور کبھی بھی کہیں بھی پھٹ سکتے ہیں۔ جہادیوں کی تیاری کا کام سرکاری سطح پرفوجی نگرانی میں بھی کیا جاتا ہے تاہم سرکاری طور پر تیار کیے گئے جہادی فوج میں بھرتی کرنے کے علاوہ صرف امریکہ اور سعودی عرب جیسے دوست ممالک کو کرائے پر فرہم کیے جاتے ہیں۔ جہادیوں کی تیاری کے اہم مراکز مریدکے، آزاد کشمیر، کراچی اور وزیرستان میں قائم کیے گئے ہیں۔

1

منظور شدہ فرقوں کو فقہ بند تبلیغی تیار کرنے اور ان کی تشہیر کے لیے ٹی وی چینل قائم کرنے کی اجازت ملنے سے الباکستانی تبلیغیوں کی پیداوار میں اضافہ ہوا ہے۔ یہ تبلیغی موسیقی، کھیل اور سیاست سمیت ہر شعبے میں پاکستان کا نام روشن کررہے ہیں۔ تبلیغیوں کی بڑے پیمانے پر تیاری کے باعث ملک کے اندر اور ملک کے باہر مسلمانوں کو مزید مسلمان کرنے اور عجمیوں کو عربی کرنے میں خاطرخواہ کامیابی نصیب ہوئی ہے جس سے سیاحت کی روحانی صنعت کو بھی فروغ ملا ہے۔ ان تبلیغیوں کی بدولت ملک و قوم کو سوچنے سمجھنے، گانے بجانے اورکھیلنے کودنے کی مشکل سے چھٹکارہ پانے میں بہت مدد ملی ہے۔
داڑھیوں اور برقعوں کی پیداوار اور افزائش میں اضافے کے لیے رائیونڈ اور باب المدینہ میں خصوصی مراکز قائم کیے گئے ہیں جہاں مولانا طارق جمیل اور مولانا الیاس قادری جیسے جید سائنس دان دن روز تحقیق میں مشغول ہیں۔
برقعے اور داڑھیاں
الباکستانی ہنرمندوں کی مہارت کا منہ بولتا ثبوت وہ برقعے اور داڑھیاں ہیں جو مقامی طور پر تیار کیے جاتے ہیں ۔ عالمی اور مقامی منڈیوں میں متعارف کرانے کے لیے رمضان کے بابرکت مہینے میں ہر سال الباکستانی ساختہ برقعوں اور داڑھیوں کی نمائش کے لیے خصوصی ٹی وی نشریات کا اہتمام کیا جاتا ہے۔ ان برقعوں اور داڑھیوں کی وجہ سےمرد نماعورتوں اور عورت نما مردوں کی بڑھتی ہوئی تعداد پر قابو پانے میں بھی مدد ملی ہے۔ برقعوں کی شناخت کے لیے ہر برقعے پر خصوصی شناختی نمبر تحریر کرنے کی تجویز بھی زیرغور ہے۔ صارفین کے فرقہ کے مطابق داڑھیوں کی لمبائی اور چوڑائی میں کمی بیشی کی ٹیکنالوجی کے باعث بھی اس صنعت نے ترقی کی ہے۔برقعوں کی تیاری میں اس بات کا خاص خیال رکھا جاتا ہے کہ ہر عورت کے فی مربع انچ پر ایک میٹر کپڑا ہو۔داڑھیوں اور برقعوں کی پیداوار اور افزائش میں اضافے کے لیے رائیونڈ اور باب المدینہ میں خصوصی مراکز قائم کیے گئے ہیں جہاں مولانا طارق جمیل اور مولانا الیاس قادری جیسے جید سائنس دان دن روز تحقیق میں مشغول ہیں۔ امید ہے کہ عنقریب الباکستان کے ہر مرد کے پاس اپنی داڑھی اور ہر عورت کے پاس اپنا برقع ہوگا۔

2

فتاوی
الحمدللہ الباکستان اب فتووں کی پیداوار میں خود کفیل ہوچکا ہے اور عربی و ایرانی ساختہ فتاوی کی درآمد رک چکی ہے۔ حکومت کی جانب سے دی جانے والی سہولیات کے باعث فتوی سازی کی گھریلو صنعت ترقی پا کر بھاری صنعتوں کی درجہ بندی میں شامل ہو چکی ہے۔ الباکستان میں فتوی سازی کے جدید کارخانے سعودی اور ایرانی تعاون سے لگائے گئے ہیں جہاں آج کمپیوٹر ائزڈ اور ٹیلی وائزڈ فتووں کے ساتھ ساتھ ایس ایم ایس فتووں کی تیاری کا کام بھی بخوبی کیا جارہا ہے تاہم ہاتھ سے لکھے فتووں کی مانگ میں بھی اضافہ ہورہا ہے۔ ان فتووں کی مدد سے جہاں کفار کی پہچان میں آسانی ہوئی ہے وہیں پوشیدہ و ظاہر منافقان کی شناخت بھی ممکن ہوئی ہے۔ الباکستانی فتاوی ہر موسم، رنگ اور نسل کے لیے مہلک ہونے کے باعث دنیا بھر میں مقبول ہوچکے ہیں۔
دفاعی سازوسامان
الباکستانی دفاعی صنعت نے خلاسے بیت الخلاتک مار کرنے والے آتشیں لوٹے، بارودی لاوڈسپیکراور لیزر گائیڈڈعمامے تیار کرنے میں بھی کامیابی حاصل کر لی ہے جن کی پیداوار اورفروخت سے کثیر زرمبادلہ کمایا جا سکتا ہے۔
امت مسلمہ کی کوششوں اور خطیر چندے سے ایسی دفاعی تنظیموں کی تیاری میں کامیابی حاصل کرلی گئی ہے جو پابندیوں کے باوجود کام کرنے اور کالعدم قرار دیے جانے کے باوجود نام بدلنے کی صلاحیت رکھتی ہیں۔ حکومت کی کوشش ہے زیادہ سے زیادہ تنظیموں کو کالعدم کیا جائے تاکہ ان کی کارکردگی میں اضافہ ہو اور یہ عالم اسلام کی سربلندی اور ملکی دفاع میں اپنا کردار ادا کرسیکں۔ الباکستان اس وقت نہ صرف ملکی ضروریات کو پورا کرنے کے لیے کالعدم تنظیمیں تیار کررہا ہے بلکہ ہلکے اور بھاری خود کش بمبار اور ایٹمی فتاوی لے جانے والے بین البراعظمی مولوی بھی تیار کررہا ہے۔ الباکستانی دفاعی صنعت نے خلاسے بیت الخلاتک مار کرنے والے آتشیں لوٹے، بارودی لاوڈسپیکراور لیزر گائیڈڈعمامے تیار کرنے میں بھی کامیابی حاصل کر لی ہے جن کی پیداوار اورفروخت سے کثیر زرمبادلہ کمایا جا سکتا ہے۔ الباکستان میں کیمیائی و جراثیمی خطبوں کی تیاری کی صنعت بھی ترقی کررہی ہے۔

3

افواہ سازی
اس وقت ملک میں پندرہ سو لفظ فی سیکنڈ بولنے والے اینکرواینکرات، ڈیڑھ لٹر فی قسط آنسو بہانے والے ایکٹروایکٹرات اور بیک وقت سولہ ہزار ماہانہ اقساط لکھنے والے رائٹرورائٹرات تیار کیے جارہے ہیں۔
افواہ سازی کے لے درکار سازشی مفروضوں کے سب سے بڑے قدرتی ذخیرے کا مالک ہونے کے باعث یہ صنعت پاکستان میں خوب پھل پھول رہی ہے۔ افواہی سائنسدانوں اوریا مقبول جان اور زید حامد نے ملک میں افواہ سازی کی جدید صنعت کے قیام کے لیے ان تھک محنت سے افواہوں کو افزودہ کرنے کے کارخانے نصب کیے ہیں۔ افواہوں کی افزودگی کے لیے ملک بھر میں جگہ جگہ لاوڈ سپیکر، ٹی وی سیٹ اور فیس بک صفحات قائم کیے گئے ہیں جہاں سے افواہوں کی نشرواشاعت کا کام کیا جارہا ہے۔افواہ سازی کے علاوہ خام سازشی مفروضوں سے علاج کرنے کی سہولت بھی موجود ہے۔ یہ سازشی مفروضے نصابی کتب، ٹی وی ٹاک شوز اور اخباری کالم لکھنے میں بھی استعمال کیے جارہے ہیں۔
وظیفوں اور چلوں کی صنعت
علاج معالجے کی قدیم سہولیات فراہم کرنے کے لیے موکلین، جنات، وظائف اورچلوں کی تیاری میں بھی خاصی پیش رفت ہوئی ہے۔ ملکی و بین الاقوامی منڈیوں کے لیے ہر رنگ، حجم اور ساخت کے مضبوط اور پائیدار وظائف دیدہ زیب عربی لہجے میں تیار کیے جاتے ہیں جنہیں بعدازاں فروخت کے لیے بازار میں روانہ کردیا جاتا ہے۔ الباکستانی سائنسدانوں نے تعویزوں سے بجلی تیار کرنے ، ڈینگی مچھر بھگانےاور کرکٹ میچ جیتنے کے کامیاب تجربات بھی کیے ہیں۔ اگر بتیوں کا دھواں چھوڑنے والے دم درود کے ماہرین بھی مقامی طور پر تیار کیے جاتے ہیں جو عربی لحن کے علاوہ فارسی اور اردو وظائف اور چلوں کی صلاحی بھی رکھتے ہیں۔ شادی، بیاہ، طلاق، اولاد ، امتحان میں کامیابی، ملازمت کے حصول اور کاروبار میں ترقی کے لیے ڈیجیٹل وظائف کی تیاری بھی شروع کی جاچی ہے جو ایک فون پر گھر بیٹھے بھی منگوائے جاسکتے ہیں۔

4a

ٹی وی اینکر اور مارننگ شوز
خاص خاص مواقع کے لیے عام اور عام دنوں کے لیے خاص مارننگ شو کرنے والے اینکر تیار کرنے کی درمیانے درجے کی صنعت بھی الباکستان میں ایک دہائی سے کام کررہی ہے۔ اس وقت ملک میں پندرہ سو لفظ فی سیکنڈ بولنے والے اینکرواینکرات، ڈیڑھ لٹر فی قسط آنسو بہانے والے ایکٹروایکٹرات اور بیک وقت سولہ ہزار ماہانہ اقساط لکھنے والے رائٹرورائٹرات تیار کیے جارہے ہیں۔

5

ٹی وی چینلز کی تعداد میں اضافے کے بعد درکار غیر ضروری ہنسی اور اضافی آنسو تیار کرنے کے بعض کارخانے بھی لگائے جارہے ہیں۔ اس کے علاوہ غیر اہم موضوعات اور مبالغہ آمیز خبروں کی نئی اقسام کی شجرکاری بھی کی جارہی ہے ۔ تجزیہ نگاروں اور مبصرین کی تیاری کے لیے حکومت اور نجی شعبے کے تعاون سے ایک کارخانے میں ہر شعبے اور میدان کے نیم سابقین نیم ماہرین کی تیاری بھی شروع کر دی گئی ہے۔
Muhammad Shoaib

Muhammad Shoaib

Muhammad Shoaib is the editor of news section and is responsible to communicate with the correspondents' network of Laaltain.


Related Articles

درخواست بنام سالار اعظم برائے حصول سند وفاداری و حب الوطنی

مودبانہ گزّارش ہے یہ حقرے ،فیرن، پُر تصیر آپ کی خدمت میں ایک درخواست لےکر حاضر ہوا ہےمگر اپنا مدّعا بیان کرنے سے قبل ہوش و حواسِ خمسّہ سےزیادہ اپنی چھٹی حِس کو بروئے عمل لاتے ہوئے اگر جان کی امان ہو تویہ عرض کرنا چاہتا ہے:

اردو گرائمر برائے نیا پاکستان

چونکہ نیا پاکستان بن گیا ہے۔ اس لیے اس امر کی شدت سے ضرورت محسوس کی گئی ہے کہ نصاب بھی نیا ہو۔
اردو قواعدوانشاء کی انقلابی تدریس کے لئے نیا نصاب پیش خدمت ہے۔

آواز کی دنیاؤں میں جنس کی تلاش

تصنیف حیدر: مجھے بلیو فلم دیکھتے ہوئے جس ہیجان کا سامنا کرنا پڑتا ہے، اس سے کہیں زیادہ بہتر ہے کہ میں اپنی کسی دوست کے ساتھ فون پر ایسی آوازیں اور ایسے مکالمے سنوں جو میرے بدن میں کسی گاڑھی کریم کی طرح گھل جائیں۔