مجلس احرار سے مولوی عبدالعزیز تک

مجلس احرار سے مولوی عبدالعزیز تک
مولوی محمد علی جالندھری نے 15فروری 1953ءکو لاہور میں تقریر کرتے ہوئے اعتراف کیا کہ مجلس احرار پاکستان کے قیام کی مخالف تھی، اس جماعت کے رہنما تقسیم سے پہلے اور تقسیم کے بعد بھی پاکستان کے لیے پلیدستان کالفظ استعمال کرتے رہے۔
آخر کیا وجہ ہے کہ پاکستان میں سیاست دانوں کے عوامی بیانات و تقاریر پر بہت زیادہ حساسیت پائی جاتی ہے ؟ان کے ایک ایک لفظ کو حب الوطنی کی چھلنی میں سے انتہائی باریک بینی سے گزارا جاتا ہے جب کہ دوسری طر ف نام نہاد دین فروشوں کے بدترین اور متنازعہ ترین بیانات بھی عوامی احتجاج کو اکسانے میں ناکام رہتے ہیں۔ کانگریس کا روپیہ حلا ل کرنے کی خاطر مجلس احرار اسلام کے صدر مولانا مظہر علی اظہر نے بھرے مجمعے میں قائد اعظم کو "کافرا عظم "کہا تھا اس پر اُس وقت بھی کسی کو ایسے بدزبانوں کا احتساب کرنے کی جرات نہیں ہوئی حالانکہ یہ بات بہت کم لوگ جانتے ہیں کہ محمد علی جناح ؒ کے سیاسی ہم عصر اور حریف گاندھی جی بھی قائد اعظم ؒ کو اد ب اور احترام کی وجہ سے قائد اعظم ہی کہتے اور لکھتے تھے۔
جسٹس منیر انکوائری رپورٹ 1953ء کے مطابق ابواعلیٰ مودودی صاحب سے فاضل جج نے جب یہ سوال کیا کہ اگر ہندوستان سرکار مسلمانوں پر منوشاستر کی شریعت نافذ کرنے کی کوشش کرے تو ان کو اس کا حق ہو گا یانہیں ؟ تو مولوی صاحب نے تاریخی جواب دیا کہ" یقیناًمجھے اس پر کوئی اعتراض نہ ہوگاکہ حکومت کے اس نظام میں مسلمانوں سے ملیچھوں اور شودروں کا سا سلوک کیا جائے ۔ان پر منو شاستر کے قوانین کا اطلاق کیا جائے اور انہیں حکومت میں حصہ اور شہریت کے حقوق قطعاً نہ دیے جائیں ۔"(رپورٹ تحقیقاتی عدالت صفحہ 245)۔پھر فاضل جج احراری مولویوں کا وطیرہ بیان کرتے ہیں ۔" مولوی محمد علی جالندھری نے 15فروری 1953ءکو لاہور میں تقریر کرتے ہوئے اعتراف کیا کہ مجلس احرار پاکستان کے قیام کی مخالف تھی، اس جماعت کے رہنما تقسیم سے پہلے اور تقسیم کے بعد بھی پاکستان کے لیے پلیدستان کالفظ استعمال کرتے رہے۔ سّید عطاء اللہ شاہ بخاری نے اپنی تقریر میں کہا کہ پاکستان ایک بازاری عورت ہے جسے احرارنے مجبوراً قبول کیا ہے ۔"(رپورٹ تحقیقاتی عدالت صفحہ 274)۔کیا آج تک ان دین فروشوں، ملاؤں اور مولویوں نے اپنے ملک دشمن اور نفرت آمیز بیانات پر معافی مانگی ہے ؟
گئے وقتوں میں انہی مولوی فضل الرحمن کے والد محترم مولانا مفتی محمود کا ایک بیان اخبارات کی زینت بنا جس میں انہوں نے فرمایا "خدا کا شکر ہے کہ وہ پاکستان بنانے کے گناہ میں شریک نہیں تھے ۔
تاریخ کے اوراق اور آج کا عہد گواہ ہے کہ ان دین فروشوں کی بدزبانیوں کا سلسلہ آج بھی جاری ہے لیکن ان حضرات کی زبان درازیوں پرکسی کو ان کے خلاف قانونی چارہ جوئی یا سزا دینے کی جرأ ت کبھی نہیں ہو ئی۔ آج بھی شرپسند مذہبی جنونی سرعام اپنے مخالف فریق کے خلاف بد زبانی اور الزام تراشی کرتے ہیں ،مخالف فریق کی ہربات، کامیابی یا سبقت کویہودی و قادیانی سازش قرار دیتے ہیں ، بغیر کسی ثبوت اور دلیل کے جلسے جلوسوں میں جھوٹ بولتے ہیں لیکن حدیث کے مطابق الزام تراشی اور بہتان تراشی کرنے والوں پرلعنت بھیجنے کی بجائے عوام انہیں سر آنکھوں پر بٹھا تے ہیں اور ان کے دعووں کے ثبوت مانگنے کی بجائے ان کی پرستش کرتے ہیں ۔
کافر اعظم کہنے والوں کی باقیات میں سے ایک ادنی ٰ خطیب منور حسن ببانگِ دہل فرماتے ہیں کہ"طالبان سے لڑ کر مرنے والے پاکستانی فوجی شہید نہیں ہیں"۔اسی پر بس نہیں سابق امیر جماعت اسلامی مینار پاکستان کے سائے میں کھڑے ہوکر ہرزہ سرائی فرماتے ہیں کہ "ڈنکے کی چوٹ پر ، بلا خوف و تردید یہ بات کہنا چاہتا ہوں کہ پاکستان میں جہاد فی سبیل اللہ اور قتال فی سبیل اللہ کے کلچر کواگر عام نہ کیا گیا تو محض انتخابی سیاست اور جمہوری سیاست کے ذریعے موجودہ حالات پر قابوپایا نہیں جاسکتا۔" شہادت کے رتبے کو پامال کرنے والے مولوی فضل الرحمن نے کہا کہ" اگر ڈرون حملے میں کتا بھی مرجائے تو وہ بھی شہید ہے" ۔افسوس یہ یاوہ گوئی بھی کسی غیرت مند دینی و سیاسی اور انتظامی جماعت کو جگا نہیں سکی ۔ گئے وقتوں میں انہی مولوی فضل الرحمن کے والد محترم مولانا مفتی محمود کا ایک بیان اخبارات کی زینت بنا جس میں انہوں نے فرمایا "خدا کا شکر ہے کہ وہ پاکستان بنانے کے گناہ میں شریک نہیں تھے ۔" یہ تو ابھی کل ہی کی بات ہے کہ جب پشاور واقعہ پر مولوی عبدالعزیز (لال مسجد کی سیاہ برقعہ پوش خواتین کو جہاد کی ترغیب دینے والے) نے علی الاعلان بغیر کسی تردید کے متعد بار ہرزہ سرائی کی کہ "میں پشاور میں معصوم بچوں کے قتل عام کی مذمت نہیں کرتا"۔
طالبان علاالعلان پاکستانی چینلوں پر یہ کہتے رہے کہ وہ پاکستانی ریاست اور آئین کو قبول نہیں کرتے لیکن دہشت گردوں کے ترجمانوں کی تقاریر پر ٹویٹ کرنے اور پابندیاں لگانے کی بجائے ان کی ناز برداریاں کی گئیں ۔
تبدیلی کی داعی جماعت پاکستان تحریک انصاف کے پر جوش قائد جناب عمران خان کے تہلکہ خیز بیانات کے آج بھی پاکستانی اخبارات گواہ ہیں جن میں وہ پچاس ہزار پاکستانیوں کی لاشوں کامنہ چڑاتے ہوئے تسلی دیتے رہےکہ" طالبان کے نظریات سے پاکستان کو کوئی خطرہ نہیں "۔حیرت ہے کہ ان ملک دشمن بیانات و تقاریرپر کسی کی حرمت پر حرف نہیں آیا۔ موجودہ حکم ران مسلم لیگ نواز کے شریف برادران بھی ایک زمانے میں طالبان سے پیار کی پینگیں بڑھاتے رہے ہیں۔ وہ جنہوں نے پاکستانی عوام کو گاجر مولی کی طرح کاٹا اس کے جواب میں ان دشمنانِ پاکستان کو نیست و نابود کرنے کی بجائے اچھے اور برے طالبان کی رٹ لگائی گئی ۔
8سال تک خون کی ہولی کھیلنے والوں نے اپنے قول اور عمل سے ثابت کیا کہ وہ نہ صرف ملک دشمن ہیں بلکہ اپنی خود ساختہ شریعت کے نفاذ میں کوئی بھی رکاوٹ قبول نہیں کریں گے۔ طالبان علاالعلان پاکستانی چینلوں پر یہ کہتے رہے کہ وہ پاکستانی ریاست اور آئین کو قبول نہیں کرتے لیکن دہشت گردوں کے ترجمانوں کی تقاریر پر ٹویٹ کرنے اور پابندیاں لگانے کی بجائے ان کی ناز برداریاں کی گئیں ۔بے گناہ عوام کو ان بد بختوں کے حوالے کر دیا گیا جو تقریباً 10سال تک ان کا قتل و عام کرتے رہے بلکہ نہایت افسوس سے کہناپڑتا ہے کہ آج بھی ان ظالمان کے حامیوں کو سر آنکھوں پر بٹھایا جاتاہے اوران کے حمایتیوں اور ہمدردوں کو جلسے جلوس اور اجتماعات کرنے کے اجازت نامے جاری کئے جاتے ہیں۔
انہی انتہا پسند ملاؤں اور مذہبی جنونیوں کے بیانات و تقاریر و خطبات نے کئی واقعات میں پاکستان کی مذہبی اقلیتوں کی پوری کی پوری بستیاں جلاڈالیں ،حتی ٰ کہ مخالف فرقے کی مساجد ، امام بارگاہیں ، خانقاہیں اور دربار تک ان شدت پسندوں نے جلا کر بھسم کر ڈالے لیکن مجال ہے کسی کی عزت اور شان میں فرق آیا ہو ۔فرقہ وارانہ بیانات کے زہر آلود اثرات آج ہر سماجی شعبے میں دکھائی دیتے ہیں۔سکولوں، مسجدوں ، مدرسوں ، بازاروں ، ہسپتالوں ، تعلیمی اداروں اور عدالتوں میں مسلکی و مذہبی تفریق اور طالبان کے لیے نرم دلی کسی سے ڈھکی چھپی نہیں ہے۔ طالبان اور مذہبی دہشت گردوں کے خلاف فیصلے دینے والے ججوںکو بھی جان بچانے کے لیے بیرون ملک فرار ہونا پڑتا ہے ۔قانون نافذ کرنے والے ریاستی اہلکاروں اور اداروں کی نفسیات تک مسجدوں ، مدرسوں کے منبر و محراب سے بلند ہونے والے بیانات و خطبات سے متعصب اور آلود ہ ہو چکی ہے ۔ایسےاشتعال انگیزبیانات اور وعظ جنہیں سُن کر سیکورٹی گارڈ ممتاز قادری نے سابق گورنر پنجاب سلمان تاثیر کو سر عام قتل کر دیا، کیا یہ بیانات دین فروشی اور قانون شکنی کے زمرے میں نہیں آتے؟کیا ایسے بیانات ملک دشمنی نہیں جن کی وجہ سے ریاست کے ایک اعلیٰ عہدیدار کو اس کا اپنا محافظ کسی خبیث مولوی کی تقریر سن کر محض الزام کی بنیادپر موت کے گھاٹ اتار دیتاہے لیکن کسی ریاستی ادارے کی حرمت پر فرق نہیں آتا۔
ایسےاشتعال انگیزبیانات اور وعظ جنہیں سُن کر سیکورٹی گارڈ ممتاز قادری نے سابق گورنر پنجاب سلمان تاثیر کو سر عام قتل کر دیا، کیا یہ بیانات دین فروشی اور قانون شکنی کے زمرے میں نہیں آتے؟
اگرچہ یہ جبہ و ستار پوش ہمارے معاشرے میں بہت معزز ہیں ہر کوئی ان کی تشریف آوری پربصد احترام کھڑا ہو جاتاہےلیکن محرم الحرام کے مقدس مہینے میں انہی زبان درازوں کی زبان بندی ہوجاتی ہے جس سے یہ ثابت ہوتا کہ یہ علماء جن کی زبان سے نکلنے والے اشتعال انگیز بیانات سے دوسرے مسلمان محفوظ نہیں وہ قابل تعزیر ہیں مگر پھت بھی ان زہریلی زبانوں سے نکلنے والے بیانات پر ریاست کی عزت پر آنچ نہیں آتی۔
کیا مذہبی انتہاپسندی ناسورنہیں بن چکی ؟ انتہا پسندوں کے نظریات اور خیالات ہر بڑے اخبارمیں شہ سرخیوں کی صورت میں چھپتے ہیں۔ یہی وہ نظریات ہیں جو اسی کی دہائی میں بوئے گئے اور آج ہم انہی کی فصل کاٹ رہے ہیں ۔آج ملک کے طول وعرض میں قائم مسجدوں کے منبر،محراب اور داخلی دروازوں پر مختلف فرقوں کے نام جلی حروف میں لکھے دکھائی دیتے ہیں۔خطرہ توآستین کے ان باریش سانپوں سے ہے جو بربریت کو سیاسی و اخلاقی جواز فراہم کرتے ہیں، جن کے فرقہ وارانہ بیانات اور تقریریں سن کر ایک فرقہ دوسرے فرقے کے خون کا پیاسہ ہوکردوسرے کو "جہنم واصل" کر رہاہے لیکن تین دہائیوں سے زائد عرصے سے جاری اس خون ریزی پر نہ کسی ملکی ادارے کا وقار مجروح ہوا ہے اورنہ ہی غیرت جاگی ہے۔ شاید اس ملک کو مذہب کے نام پر پلیدستان کہنے اور قائد اعظم کو کافراعظم کہنے کی کوئی سزا موجود نہیں۔

Cartoon by: Sabir Nazar


Related Articles

تعلیم پر حملے کا جواب تعلیم سے

پشاور میں سکول پر حملہ صرف ایک حملہ یا بچوں کی ہلاکت نہیں بلکہ ہمارے مستقبل پر حملہ ہے۔

دہشت گرد کسی رعایت کے مستحق نہیں

پشاور سے 6 کلو میٹر دور بڈھ بیر میں واقع ائر بیس کیمپ صرف ملازمین کی رہائش کےلیے استعمال ہوتاہے اور غیر فعال ہے۔

The Voice Unheard

Anita Saleem In Pakistan the voices of numerous people go unheard on issues such as power outage, inflation, CNG shortage,