نئے پاکستان سے خبردار رہئے

نئے پاکستان سے خبردار رہئے
جاوید ہاشمی سے تحریک انصاف کا سلوک دیکھ کر ایک ایسے نئے پاکستان کی شکل و صورت واضح ہو جاتی ہے جہاں اصولی، پارلیمانی اور جمہوری سیاست کرنے والوں، عمران خان پر تنقید کرنے والوں اور ضمیر کی آزادی رکھنے والوں کے لئے تحریک انصاف اورنئے پاکستان میں کوئی جگہ نہیں ہو گی۔ وزیراعظم پاکستان کا حکومت کرنے کاانداز اس قدر آمرانہ اور شاہانہ نہیں جس قدر تحریک انصاف میں عمران خان صاحب کا قائدانہ کردار شخصی اور آمرانہ ہے، جس جماعت میں سچ بات کہنا اور قائد پر تنقید جرم قرار پائے اس سے ملک سنبھالنے کی توقع رکھنا حماقت ہے۔نیا پاکستان ایک ایسا پاکستان دکھائی دے رہا ہے جہاں ایک فرد واحد پر "ایمان" لانے والے ہی صادق اور امین ہیں اور ہر ناقد "داغی۔" نادیدہ عسکری گھوڑوں پر سوار پارلیمان فتح کرنے کے لئے لشکر کشی اور احتجاج کے جمہوری حق کو متنازعہ مطالبات اور محض الزامات کی بنیاد پر ایک منتخب حکومت کو گرانے کی کوششوں سے بننے والے نئے پاکستان میں جمہوریت اور اظہار رائے کی کس قدر آزادی ہو گی اس کا اندازہ لگانا مشکل نہیں۔ عمران خان اور تحریک انصاف اسی ناپختہ سیاسی رویہ کا مظاہرہ کر رہے ہیں جو فوجی آمروں کومداخلت کی اجازت دیتے ہیں۔ پارلیمان اور آئینی راستوں کو اختیار کئے بغیر جھوٹ، غلط بیانی اور الزامات کی جن بنیادوں پر نئےپاکستان کی تشکیل کی جارہی ہے وہ "پرانے پاکستان" سےبھی کم زور ہیں۔ آئین،جمہوریت اور نظام حکومت کے خلاف عوام کو کھڑا کرنے ، بغاوت اور انقلاب پر اکسانے، سول نافرمانی کرنے اور حکومت کو غیر آئینی اور غیر جمہوری طریقوں سے گرانے کی کوششوں سے حالات واپس نوے کی دہائی تک پہنچ چکے ہیں اور اگر اس سلسلے کو جاری رکھا گیا تو ستر کی دہائی تک بھی جا سکتے ہیں۔
نوے کی دہائی لوٹ آئی ہے؟
دھرنوں کے ذریعہ حکومت گرانے میں ناکامی اور بعض سابق فوجی جنرلوں کے ساتھ شراکت کے الزامات کے بعد سامنےآنے والےعمران خان باقی سیاست دانوں سے کچھ زیادہ بہتراور مختلف نہیں، بلکہ عمران خان کو اگر ایک زیادہ گلیمرس اور نسبتاً بے داغ شہرت کا حامل نواز شریف قراردیا جائے تو کچھ زیادہ غلط نہیں ہو گا۔ نوے کی دہائی کے اوائل میں فوج کی پشت پناہی سے اقتدار میں آنے والے نواز شریف بھی وہی باتیں کیا کرتے تھے جو آج عمران خان کر رہے ہیں۔ اس زمانے کے نوازشریف کو بھی ایک نسل نے پیپلز پارٹی اور بائیں بازو کی سیاسی جماعتوں کے مقابلہ میں ایک متبادل رہنما کے طور پر چاہا اور منتخب کیا تھا، کرپشن ، بد عنوانی، بے روزگاری ،اور بنیادی ضروریات کے نعروں سے مسلم لیگ نواز نے پنجاب سمیت پاکستان بھر میں متوسط اور قدامت پرست طبقہ کو اپنا حامی بنایا تھا۔
دھرنوں کے ذریعہ حکومت گرانے میں ناکامی اور بعض سابق فوجی جنرلوں کے ساتھ شراکت کے الزامات کے بعد سامنےآنے والےعمران خان باقی سیاست دانوں سے کچھ زیادہ بہتراور مختلف نہیں، بلکہ عمران خان کو اگر ایک زیادہ گلیمرس اور نسبتاً بے داغ شہرت کا حامل نواز شریف قراردیا جائے تو کچھ زیادہ غلط نہیں ہو گا۔
نوے کی دہائی میں ضیاء الحق کے بعد پس پردہ قوتوں کی آشیر باد سے سامنے آنے والی نئی مسلم لیگ نواز نے جس طرح ترقی اور خوشحالی کے نام پر پنجاب کی قدامت پرست مذہبی اکثریت، متوسط طبقہ، صنعتکار اور تاجر کو اپنا طرفدار کیا تھاآج تحریک انصاف پشتون اور پنجاب کی قدامت پرست متوسط اورشہری آبادی کو اپنی جانب مسلم لیگ نواز کے سابقہ نعروں کو دہرا کر ہی اپنی جانب راغب کررہی ہے۔ اسی کی دہائی میں ضیاء الحق کے زمانے میں بننے والا قدامت پرست مذہبی طبقہ مسلم لیگ نواز کا نوے کی دہائی میں ووٹ بینک بنا، جبکہ ندیم فاروق پراچہ کے مطابق اسی طرح مشرف دور میں سامنے آنے والا متوسط طبقہ اب تحریک انصاف کے ذریعہ طاقت اور اقتدار کے حصول کی کوشش کر رہا ہے،۔سول نافرمانی، لانگ مارچ، دھرنوں اورتحریک انصاف کی طرف سے سرگودھا جلسہ میں شٹر ڈاون اور پہیہ جام ہڑتال کے اعلان کے بعدحکومت گرانے کی کوشش اور قبل ازوقت انتخابات کا ماحول بنانے کی کوششوں سے اس امر میں کوئی شبہ نہیں رہا کہ نیا پاکستان نوے کی دہائی کا پرانا پاکستان ہی ہے۔ موجودہ سیاسی بحران اسی متوسط طبقہ کی حمایت سے پاکستان کی تشکیل نو کی کوشش ہے۔یہ وہ منظر ہے جو بارہا پاکستان کے گلی کوچوں میں دہرایا جا چکا ہے، ایک قدامت پرست مذہبی مگر معتدل عقائد کا حامل مرد حکمران تراشنا جو مذہب اور معیشت دونوں کو چلانے کا اہل ہو یقیناً نیا کردار نہیں۔ عمران خان، جماعت اسلامی اور پاکستان عوامی تحریک کا ممکنہ انتخابی اتحاد یقیناً ایک آئے جے آئی کے پرانے سکرپٹ کو نئے اداکاروں سے پیش کرنے کی کوشش ہے۔
مزید وعدے
عام انتخابات 2013 کے دوران تحریک انصاف اور مسلم لیگ نواز دنوں اورمہینوںمیں تبدیلی، ترقی اور خوشحالی کے جن غیر حقیقت پسندانہ وعدوں کے ساتھ بر سراقتدار آئیں، گزشتہ ایک برس کے دوران وفاقی حکومت، پنجاب میں شہباز شریف کی حکومت اور خیبرپختونخواہ کی پرویز خٹک کی حکومت ان میں سے بیشتر کو پورا کرنا تو درکنار ان دعووں پر عملدرآمد کے لئے قانون سازی تک نہیں کر پائیں۔ بد قسمتی سے تبدیلی کے نعرے سے مقبولیت پانے والی تحریک انصاف وہی غلطیاں دہرا رہی ہے جو اس سے قبل مسلم لیگ نواز اپنے قیام سے آج تک حکومت یا اپوزیشن میں دہرا چکی ہے۔ تحریک انصاف اپنی حالیہ احتجاجی تحریک میں بغیر کسی اقتصادی اور معاشی لائحہ عمل کے محض جذباتی نعروں، تبدیلی کے وعدوں، تقریروں اوراحتجاجی سیاست کے ذریعہ نواز حکومت کو گرا کر نئے انتخابات یا کسی عبوری سیٹ اپ کے قیام کا مطالبہ کر رہی ہے جو بہت حد تک ماضی کی بازگشت ہے۔ محاذ آرائی کی اس سیاست میں وہی وعدے کئے جا رہے ہیں جن کو پورا کرنے کی اہلیت نہ تحریک انصاف میں ہے اور نہ مسلم لیگ نواز میں۔
تحریک انصاف یہ ادراک نہیں کر پائی کہ عوام کے مسائل کی اصل وجہ پارلیمان کے باہر احتجاجی تحریکوں کے ذریعہ حکومتیں گرانا ہے۔ جمہوری نظام کے فوائد عوام تک نہ پہنچنے کا سب سے اہم سبب اقتصادی، سیاسی اور سکیورٹی پالیسیوں کا عدم تسلسل ہے، اور اگر ایک بار پھر ایک منتخب حکومت کوسڑکوں کی سیاست اور احتجاجی تحریکوں کے ذریعہ گرایا گیا تو آنے والی کوئی حکومت اپنی مدت پوری نہیں کر پائے گی۔ تحریک انصاف اور عوامی تحریک عوام کو حکومت کی اقتصادی اور معاشی پالیسیوں کے خلاف اکسا کر اگر حکومت گرا کر اقتدار میں آئیں گے تو ان کے پاس عوام کو دینے کے لئے ایسا کچھ نہیں ہے جس سے مسائل کو حل کیا جاسکے۔تحریک انصاف سمیت کسی جماعت کے پاس کوئی ایسا انقلابی لائحہ عمل نہیں جس کی بنیاد پر پاکستان کو درپیش مسائل کا کوئی فوری حل نکالا جا سکے، یہی وجہ ہے کہ عوام جو آج مہنگائی، کرپشن اور بدانتظامی جیسے مسائل کے باعث نواز حکومت کے خلاف سڑکوں پر ہیں تحریک انصاف یا عوامی تحریک کے خلاف بھی سرکوں پر آنے میں دیر نہیں لگائیں گے۔
عظیم امید عظیم تر مایوسی
نظام کو بدلنے کی حقیقی صلاحیت اور کسی بھی لائحہ عمل کی غیر موجودگی میں تحریک انصاف محض نعروں اور عودوں کی بناء پر عوام کو جس امید کےسہارے سڑکوں پر لائی ہے اس کے آخری سرے پر ایک عظیم تر مایوسی تحریک کے حامیوں اور تمام پاکستانیوں کی منتظر ہے۔ خیبر پختونخواہ میں حکومت اور مرکز اور پنجاب میں حزب اختلاف کے طور پر تحریک انصاف نہ صرف اپنے وعدوں پر عمل درآمد میں ناکام ہوئی ہے بلکہ عمران خان سمیت تحریک انصاف کی تمام قیادت کی ناپختگی کھل کر سامنے آئی ہے۔ تحریک انصاف کے پاس نہ تو ایسے افراد ہیں اور نہ ہی ایسا لائحہ عمل جس کے تحت وہ پاکستان کو درپیش غربت، بے روزگاری، صحت اور تعلیم کی سہولیات کے فقدان، شدت پسندی اور عالمی تنہائی جیسے مسائل کو حل کر سکے، یہی وجہ ہے کہ تحریک انصاف اگر حکومت بنانے میں کامیاب بھی ہو گئی تو اپنے وعدوں اور دعووں کی تکمیل نہیں کر پائے گی۔
کیا تبدیلی آ گئی ہے؟
خیبر پختونخواہ حکومت سے وابستہ توقعات کا پورا نہ ہونا تحریک انصاف کی حکومت چلانے کی اہلیت پر اہم ترین سوالیہ نشان ہے۔ تبدیلی لانے کے عزم کے ساتھ بننے والی تحریک انصاف کی حکومت نے اپنے ابتدائی چند ماہ میں قانون سازی ، عوام کے مسائل کے حل کے لئے بلدیات کو اختیارات اور وسائل کی منتقلی کی جانب پیش رفت اور صحت، تعلیم اور پولیس اصلاحات کے شروع کئے گئے منصوبہ قابل ستائش ہیں۔ جیو نیوز کی ایک رپورٹ کے مطابق کے پی حکومت 23 قوانین کی منظوری دے چکی ہے، پارٹی ذرائع اور آزاد مبصرین کے مطابق پولیس کو سیاسی مداخلت سے آزاد کیا جانا،صحت کا انصاف، تعمیر سکول، یکساں نظام تعلیم سمیت اہم منصوبوں سے گورننس سے متعلق مسائل کم ہوئے ہیں۔ تاہم تحریک انصاف کی مجموعی کار کردگی محض کاغذوں اور بیانات تک محدود ہو کر رہ گئی ہے، کے پی حکومت کے شروع کئے بیشتر منصوبہ تعطل کا شکار ہیں۔ گزشتہ برس کے بجٹ کے دوران ترقیاتی بجٹ کا ستر فی صد استعمال نہ کیا جانا، تعمیر سکول اور یکساں نصاب تعلیم جیسے منصوبوں پرعملدرآمد میں تعطل، بلدیاتی انتخابات میں تاخیر، امن و امان کی صورت حال کا مخدوش ہونا اور قدرتی آفات میں صوبہ کے عام لوگوں تک امداد کی عدم فراہمی سے تحریک انصاف کے تبدیلی کے دعووں اور عمل کے درمیان خلیج کا اندازہ لگایا جا سکتا ہے۔ تبدیلی لانے کے دعووں میں ناکامی پر پردہ ڈالنے کے لئے بھی وفاقی حکومت اور پنجاب حکومت کی کارکردگی پر سوال اٹھائے جا رہے ہیں۔
تحریک انصاف اپنی حالیہ احتجاجی تحریک میں بغیر کسی اقتصادی اور معاشی لائحہ عمل کے محض جذباتی نعروں، تبدیلی کے وعدوں، تقریروں اوراحتجاجی سیاست کے ذریعہ نواز حکومت کو گرا کر نئے انتخابات یا کسی عبوری سیٹ اپ کے قیام کا مطالبہ کر رہی ہے جو بہت حد تک ماضی کی بازگشت ہے۔
خیبر پختونخواہ حکومت کی اب تک کی کارکردگی نئے پاکستان کے قیام کے دعووں کی صداقت جانچنے کے لئے بہترین معیار ہے۔ گزشتہ ایک برس کے دوران شروع کئے گئے منصوبوں کے دوران تحریک انصاف کو وہی مشکلات دیکھنے کو ملی ہیں جو وفاقی حکومت کی کارکردگی کے متاثرکن نہ ہونے کی وجہ ہیں۔ کے پی حکومت وزیراعلی اور ان کی کابینہ کی بجائے عمران خان اور جماعت کی مرکزی قیادت کے تحت اسی طرح چلائی جا رہی ہے جیسے وفاقی حکومت پارلیمان کی بجائے نواز شریف اور ان کے منتخب افراد کی صوابدید پر کام کر رہی ہے۔ کے پی میں صحت کا انصاف، انرولمنٹ ، موبائل کورٹس سمیت تعلیم اور صحت کے بیشتر منصوبہ غیر ملکی امداد پر چلنے کے باعث وفاقی حکومت کے قرض لینے پر اعتراض نامناسب محسوس ہوتا ہے۔کانگو ، ڈینگی اور پولیو کے پھیلاو کو روکنے میں ناکامی، نئے ٹیکسوں کے نفاذ میں ناکامی، شدت پسندی کے خلاف خاموشی اور تعلیمی منصوبوں کا تعطل تحریک انصاف کی نااہلی کو ظاہر کرنے کو کافی ہے۔
نئے پاکستان سے خبردار رہئے
عمران خان کی سرپرستی میں چلنے والی کے پی حکومت اور نواز شریف کی وفاقی حکومت کی ناقص کارکردگی کی وجوہ ایک سی ہیں ؛امن و امان کی خراب صورت حال، قدرتی آفات ، جماعتی قیادت کا آمرانہ رویہ، معیشت کی ابتر صورت حال اور حکومت چلانے کا کوئی واضح لائحہ عمل نہ ہونا ، اوریہ مسائل نواز شریف کی جگہ عمران خان کو وزیر اعظم بنانے سے حل نہیں ہو سکتے۔ تبدیلی اور انقلاب کا کوئی راستہ پارلیمان کے باہر سے ہو کر نہیں گزرتا،نظام کی خرابیوں کی اصلاح کئے بغیر محض حکمران چہرہ بدلنے سے مسائل حل نہیں وہ سکتے۔ تحریک انصاف اور عمران خان کو یہ سمجھنے کی ضرورت ہے کہ حکومت میں آئے بغیر ایک بہتر حزب اختلاف کا کردار ادا کرنا زیادہ بڑی تبدیلی اور نئے پاکستان کے قیام کے لئے زیادہ ضروری ہے۔ ایک ایسی جماعت جو حزب اختلاف میں صحافیوں اور ٹیلی وژن چینلوں کا مقاطعہ کر رہی ہے،سرکاری اہلکاروں کو اپنے فرائض کی انجام دہی پر خطرناک نتائج کی دھمکیاں دے رہےہے، عدلیہ، ججز اور پارلیمان سمیت تمام سیاسی جماعتوں پر اعتماد کرنے کو تیار نہیں اسے حکومت چلانے کے لئے منتخب کرنا ایک تباہ کن فیصلہ ثابت ہو سکتا ہے۔ تحریک انصاف کی قیادت کو سمجھنا ہو گا نظام کے نقائص کا حل نظام میں رہنا ہے، نظام کے باہر رہ کر عوامی احتجاج کی بنا پر حکومت گرانے کا مطلب اپنی ذات، جماعت اور سیاست کو ریاست ،آئین اور دستور سے بالاتر سمجھنا ہے۔ ل
شخصیت پرستی اور عمران خان کی ذاتی شہرت کی بناء پر چلائی جانے والی جماعت جس میں گزشتہ تیس برس سے اقتدار میں رہنے والے ایسے افراد کلیدی عہدوں پر ہوں جو گزشتہ حکومتوں کی ناکام پالیسیوں کے ذمہ دار تھے محض حکم ران بدل سکتی ہے نظام نہیں، اگر ایسا ہوتا تو اس وقت تک خیبر پختونخواہ کے ترقیاتی اشاریہ دیگر صوبوں سے بہتر ہوتے لیکن کانگو وائرس، ڈینگی، بارشوں اور بدامنی کے دوران صوبائی حکومت کی نااہلی اس بات کا ثبوت ہے کہ تحریک انصاف ملک چلانے یا کوئی بڑی تبدیلی لانے کی اہل نہیں۔آئین اور قانون سے ماورا حکومت کی تبدیلی آئین ہی نہیں ریاست کی سالمیت اور جمہوریت کو بھی اسی طرح خطرے میں ڈال سکتی ہے جس طرح عرب ملکوں میں تبدیلی کے نام پر چلنے والی تحریکوں کا انجام انتشار اور فوجی آمریتوں کی صورت میں ہوا ہے۔
Muhammad Shoaib

Muhammad Shoaib

Muhammad Shoaib is the editor of news section and is responsible to communicate with the correspondents' network of Laaltain.


Related Articles

عقل کے نام ایک خط

ریحان نقوی: تو نے قدیم دور سے مجھے جدیدیت، اور مابعد جدیدیت کے دور میں لا کھڑا کیا ـ تیری وجہ سے نت نئی سائنسی ایجادات نے دنیا کا نقشہ بدل دیا

پنڈی سازش سے رن کچھ تک

مارچ 1951ء میں راولپنڈی سازش کیس منظر عام پر آیا۔ فوجی بغاوت کے ذریعہ قتدار پر قبضہ کا منصوبہ تو اصل میں جہاد اور کشمیر کے سنہرے خواب آنکھوں میں سجانے والے میجر جنرل اکبر خان کا تھا لیکن مقدمہ کی کاروائی کے دوران ملبہ کمیونسٹ پارٹی پر ڈال دیا گیا

آپ نے برا تو نہیں مانا

زرداری صاحب نے فرمایا کہ قوم کو تو ہمارا احسان مند ہونا چاہیئے کہ ہم سیاست کرتے ہیں۔