کجلا چکے جذبوں سے آخری مصافحہ

کجلا چکے جذبوں سے آخری مصافحہ

درد کی لذت میں گندھا میرا بدن
مغائرت کے سکوت زدہ گنبد میں
زوال آشنا امیدوں کے ہمراہ
بے روح لفظوں کا بوجھ اٹھائے
چاروں اور گھوم رہا ہے
اُس در کی تلاش میں
جو شاید کبھی تھا۔۔۔ اب نہیں ہے
تمہاری انا زدگی نے
مجھے گھسیٹ کر
ڈوبتی امید کے اس چوبی زینے پر لاکھڑا کیا ہے
جو بے حسی کی ٹھنڈی آگ میں جل کر
راکھ ہو رہا ہے ۔

Image: Kevin Corrado

Did you enjoy reading this article?
Subscribe to our free weekly E-Magazine which includes best articles of the week published on Laaltain and comes out every Monday.

Related Articles

یاد ایک جھولنا ہے

عمران ازفر: تمام رات آسماں تھپکتا ہے
ہر ایک تارے کی کمر
دمِ سحر غلافِ شب لپیٹ لے
جو دن جا چکا ہے اور دوپہر کا وقت ہے

عمر قید

رضوان علی: مجھے اپنے ہی جسم میں
قید کر دیا گیا ہے
پچھلے کئی سالوں میں
اس جسم کے اندر
مَیں بہت سی عمر قیدیں
گزار چکا ہوں

میں نے حیرت کو قتل کیا

میں نے میں نے حیرت کو قتل کیا
اورتحیر کی لاش دریافت ہونے تک میں خود کو محفوظ خیال کر سکتا ہوں
کو قتل کیا
اورتحیر کی لاش دریافت ہونے تک میں خود کو محفوظ خیال کر سکتا ہوں