کجلا چکے جذبوں سے آخری مصافحہ

کجلا چکے جذبوں سے آخری مصافحہ

درد کی لذت میں گندھا میرا بدن
مغائرت کے سکوت زدہ گنبد میں
زوال آشنا امیدوں کے ہمراہ
بے روح لفظوں کا بوجھ اٹھائے
چاروں اور گھوم رہا ہے
اُس در کی تلاش میں
جو شاید کبھی تھا۔۔۔ اب نہیں ہے
تمہاری انا زدگی نے
مجھے گھسیٹ کر
ڈوبتی امید کے اس چوبی زینے پر لاکھڑا کیا ہے
جو بے حسی کی ٹھنڈی آگ میں جل کر
راکھ ہو رہا ہے ۔

Image: Kevin Corrado


Related Articles

Two Poems by Sarim Baig

You are the Smoke You are the smoke, at the center of my eye: you are, shattered like the universe.

آخری دلیل

افضال احمد سید: اس کھڑکی کو سبزے کی طرف کھولتے ہوئے
تمہیں محاصرے میں آئے ایک دل کی یاد نہیں آئی

صدا کر چلے

کسی موہوم سی آسائشِ فردا کے چکر میں
حکایاتِ غمِ دیروز کا نقشہ بدلنا کیوں
تمہیں کس نے کہا ہر سست رو کے ساتھ چلنے کا
سبک قدمی میں لیکن سبزۂ رَہ کو کچلنا کیوں