کجلا چکے جذبوں سے آخری مصافحہ

کجلا چکے جذبوں سے آخری مصافحہ

درد کی لذت میں گندھا میرا بدن
مغائرت کے سکوت زدہ گنبد میں
زوال آشنا امیدوں کے ہمراہ
بے روح لفظوں کا بوجھ اٹھائے
چاروں اور گھوم رہا ہے
اُس در کی تلاش میں
جو شاید کبھی تھا۔۔۔ اب نہیں ہے
تمہاری انا زدگی نے
مجھے گھسیٹ کر
ڈوبتی امید کے اس چوبی زینے پر لاکھڑا کیا ہے
جو بے حسی کی ٹھنڈی آگ میں جل کر
راکھ ہو رہا ہے ۔

Image: Kevin Corrado


Related Articles

کلموہی

نسرین انجم بھٹی: بابا! منہ دیکھنے سے پہلے مجھے کلموہی نہ کہہ
ورنہ میں کہاوت بن جاؤں گی
اورتو مجھے کبھی نہیں پاسکے گا

خاموش خدا

اشفاق آذر: میرے خاموش خدا کو کہنا !
شور بڑھ گیا ہے کتنا تو
شہر کا شہر ہو گیا ہے بہرا
گونگے الفاظ تڑپ رہے ہیں حلق میں
کون ہے کون، جو بات کرے؟

آسیب زدہ کیل سے ٹکی تصویر

وجیہہ وارثی: تصویر پر بنے ہونٹوں پر ہونٹ ثبت کیے
ہونٹ غائب ہو گئے