کجلا چکے جذبوں سے آخری مصافحہ

کجلا چکے جذبوں سے آخری مصافحہ

درد کی لذت میں گندھا میرا بدن
مغائرت کے سکوت زدہ گنبد میں
زوال آشنا امیدوں کے ہمراہ
بے روح لفظوں کا بوجھ اٹھائے
چاروں اور گھوم رہا ہے
اُس در کی تلاش میں
جو شاید کبھی تھا۔۔۔ اب نہیں ہے
تمہاری انا زدگی نے
مجھے گھسیٹ کر
ڈوبتی امید کے اس چوبی زینے پر لاکھڑا کیا ہے
جو بے حسی کی ٹھنڈی آگ میں جل کر
راکھ ہو رہا ہے ۔

Image: Kevin Corrado

Did you enjoy reading this article?
Subscribe to our free weekly E-Magazine which includes best articles of the week published on Laaltain and comes out every Monday.

Related Articles

ماؤں کا بُڑھاپا سہما دیتا ہے

ثمینہ تبسم: میری ماں
وہ صحت مند عورت
جس نے دس بچوں کو جنم دیا
جو کبھی بیمار نہیں پڑی
اُس دن
کچن کیبنٹ سے
مصالحے کا ڈبا اُٹھانے کے لئے
چھوٹی سی چوکی پہ کھڑا ہونے کی کوشش میں ہلکان تھی

میری آنکھوں سے دیکھو

اک روز اپنے آپ کو میں نے
خلا کی وسعتوں سے جھانک کر دیکھا
تو وحشت میں پلٹ آیا

جنگ جُو کرد عورتوں کا گیت

نصیر احمد ناصر: ہم صدائے کوہ ہیں
دشمن ہماری آواز سے ڈرتا ہے
ہمارے نرغے میں آنے سے گھبراتا ہے