ہر عورت پینسل نہیں ہوتی

ہر عورت پینسل نہیں ہوتی

مجھے پینسلوں کی خوشبو کیوں پسند ہے؟
شاید اس لیئے کہ
مجھے ان سے لکھنا یا پھر ان کو چھیلنا پسند ہو

میں پینسلوں کو چھیلتا ہوں
دوبارہ چھیلنے کے لیئے ان کی نوکیں توڑ دیتا ہوں
جو کسی کو بھی چھب سکتی ہیں
کچھ بھی لکھ سکتی ہیں
کہیں سے گھس کر کہیں سے بھی نکل سکتی ہیں

مجھے ان کے کسماتے لرزتے تھرکتے وجود سے
ایک پرلذت اور تفخر آمیز جھر جھری محسوس ہوتی ہے.
جسے بہتر طور پر ایک پینسل چھیلنے والا ہی محسوس کر سکتا ہے

ان کے اندر سے
مختلف رنگدار نرم گودے بر آمد ہوتے ہیں
ہر عورت پینسل نہیں ہوتی
مگر ہر عورت کی طرح ان سب کی لکڑی ایک جیسی ہوتی ہے

Did you enjoy reading this article?
Subscribe to our free weekly E-Magazine which includes best articles of the week published on Laaltain and comes out every Monday.

Related Articles

Mob the Omnipotent

سرمد بٹ: آدم باغ سے نکل کر ہجوم بن گیا تھا
ہجوم آدمی ہے
ہجوم کچھ بھی کر سکتا ہے

غربت

وجیہہ وارثی: وہ سمجھا سکتی ہے
ہر بات بغیر چیخے
مگروہ چیختی ہے
ڈپریشن کی مریضہ ہے

کجلا چکے جذبوں سے آخری مصافحہ

محمد حمید شاہد: تمہاری انا زدگی نے
مجھے گھسیٹ کر
ڈوبتی امید کے اس چوبی زینے پر لاکھڑا کیا ہے