مینوپاز

مینوپاز
آج وہ بہت خوش تھی۔ ڈاکٹر نے بالآخر وہ خوش خبری سنا دی تھی جس کا اسے ایک طویل عرصے سے انتظار تھا۔ اس کے تو گویا پیر زمین پر نہیں ٹک رہے تھے۔ درد بھری اذیت ناک، بے خواب راتیں اس کے دروازے سے رخصت جو ہو گئی تھیں اور دائمی خوشیاں اور سکون اس کے در پر دستک دے رہا تھا۔ اف ! ڈاکٹر کے الفاظ نے تو جیسے مدت کے سوکھے پیاسے دھانوں پر ٹھنڈے میٹھے پانی کے چھینٹے مار کر ان کو تازہ دم کر دیا تھا۔
بہت دنوں سے اپنی جسمانی اور جذباتی کیفیت میں تبدیلیاں محسوس کر رہی تھی۔ وقت بے وقت متلی اور ابکائی کی سی کیفیت، بھاری پن، بوجھل ذہن، کسل مندی، کسی کام میں دل نہ لگنا اور عجیب سی بےچینی جسے وہ کوئی نام نہ دے پا رہی تھی۔ کبھی پورے جسم میں گرمی کی سی لہر دوڑ جاتی،اور دل کی دھڑکنیں قابو سے باہر ہوجاتیں، راتوں کی نیندیں تو مدت سے ہی روٹھی ہوئی تھیں لیکن اب ان کے تسلسل میں اضافہ در آیا تھا۔ بے وجہ آنسو بہانے کی خواہش ہوتی۔ وزن بھی کچھ بڑھا ہوا محسوس ہورہا تھا۔ اب جو اس نے حساب لگایا تو اندازہ ہوا کہ اس بار ماہواری آئے دو ماہ سے زائد ہو گئے ہیں۔ اور اب ڈاکٹر سے رجوع کرنا ناگزیر ہو گیا تھا۔

گھر واپس جاتے ہوئے وہ ان اذیت بھرے دنوں کا اعادہ کرنے لگی جب مجازی خدا کی ایک نگاہ التفات کو وہ ترسا کرتی تھی۔
گھر واپس جاتے ہوئے وہ ان اذیت بھرے دنوں کا اعادہ کرنے لگی جب مجازی خدا کی ایک نگاہ التفات کو وہ ترسا کرتی تھی۔ کبھی ساری رات کڑھتے گزار دیتی۔ ان بے خواب راتوں میں اپنے جسم اور روح کی طلب سے بےحال وہ ہمیشہ اکیلی ہوتی۔ کیسے انگ انگ میں چیونٹیاں سی کاٹتی تھیں اور وہ ان کی چبھن سے ہلکان نیر بہائے چلی جاتی کہ شاید یہ نمکین پانی ہی کسی طرح اس تکلیف کا مداوا بن جائے۔ ایسے ہر موقعے پر اس کا مجازی خدا اس کے جذبات سے انجان محض چند فٹ کے فاصلے پر بیٹھا یا تو ٹی وی دیکھ رہا ہوتا یا پھر بے خبر سوجاتا۔ کبھی جب یہ اذیت حد سے سوا ہوجاتی تو بےاختیار اس کا دل چاہتا کہ اس کو جھنجوڑ کر اٹھائے اور اپنا قصور پوچھے، کبھی سوچتی کہ اس کو اٹھا کر زبردستی محبت پر مجبور کرے، اپنے انگ انگ پر اس کی محبت کے بوسے محسوس کرے۔ لیکن کیا محبت ایسا ہی زبردستی کا سودا ہے!

کیا محبت زبردستی وصولی جا سکتی ہے؟ شاید نہیں۔ جن کی خواہش صرف جسم نہ ہو بلکہ محبت، توجہ، التفات بھری نظریں، لگاوٹ آمیز لمس اور تمام تر حسیات کے ساتھ محسوس کرنے اور کیے جانے کی خواہش ہو ان کو مشینی قسم کی محبت اور جسم کے خراج کی ادائیگی یونہی نامطمئن کیے رکھتی ہے۔ وہ تو جسم اور روح دونوں کا ملاپ چاہتی تھی۔ اور یہی اس کا نصیب نہیں تھا۔ اس جسم و روح کے میل کی خواہش نے اس کو کیسا کیسا نہ ستایا تھا، رات کروٹ بدلتے بدلتے صبح کو جالیتی لیکن پلک نہ لگتی۔ آخر کب اس درد بھری رات کی سحر ہو گی۔

شادی سماج کا ایسا بندھن ہے جس میں نا چاہتے ہوئے بھی فریقین کو بندھے رہنا پڑتا ہے۔ محض جبلت ان کو قریب آنے اور جسمانی ضرورت پوری کرنے پر مجبور کرتی ہے۔ بالخصوص عورت کے لیے تو اس تصور کو یقین کی حیثیت دے دی گئی ہے کہ عورت میں نہ جذبات ہیں اور نہ ہی جسمانی ضروریات۔ وہ بس مرد کی ضرورت پوری کرنے کا ایک آلہ ہے، ایک کٹھ پتلی۔ یوں ساری زندگی ندی کے دو مخالف دھاروں کی طرح دونوں اپنی سمت رواں دواں رہتے ہیں۔ یہاں بھی سماج مرد کو کسی قدر تقویت دیتا ہے، ایک سے زائد نکاح اور بنا نکاح نظریں سینکنے کی خصوصی اجازت کا سرٹیفیکیٹ۔ عورت ایسے حصار میں جکڑی جاتی ہے جس سے قدم باہر نکالنا اس کے لیے ناممکنات میں سے ہوتا ہے۔
سیتا نے رام کی کھینچی لکیر پار کی اور راون اٹھا لے گیا۔ وہ ریکھا تو کیا پار کرتی، ایک کھڑکی کھولنے کی جرات کر بیٹھی۔ لیکن کھڑکی کے اس پار ہوس کے پھنکارتے ناگوں سے خوفزدہ ہوکر کھڑکی بھی بند کرنی پڑی۔ کبھی کبھی سانس بھر آسمان کا حصول کتنا مشکل ہوجاتا ہے نا!

یونہی ہر طرف سے مایوس ہو کر اس نے انتظار میں پناہ ڈھونڈ لی تھی۔ روز آئینہ دیکھتی، اپنے لو دیتے حسن، اور حشرساماں جسم سے نظریں چراتی اپنے بالوں میں چاندنی تلاشتی۔
یونہی ہر طرف سے مایوس ہو کر اس نے انتظار میں پناہ ڈھونڈ لی تھی۔ روز آئینہ دیکھتی، اپنے لو دیتے حسن، اور حشرساماں جسم سے نظریں چراتی اپنے بالوں میں چاندنی تلاشتی۔ کبھی کلینڈر اٹھا کر ماہ و سال کا حساب لگاتی۔ کب وہ دن آئے گا جب اس پیاس تشنگی اور طلب کا احساس مٹ جائے گا۔ سائنس کہتی ہے کہ عمر کے پینتیسویں سال کے بعد کبھی بھی مینوپاز ہو سکتا ہے۔ ہاں! مینو پاز ہوجائے گا اور اس جسم میں بھڑکتا شعلہ سرد ہو جائے گا، نہ ہی ان جانا لمس آگ لگائے گا اور نہ ہی کسی پیاس کے زیر اثر نس نس میں بےچینی کی لہریں دوڑیں گی۔ کب آئے گا وہ دن ۔۔۔جب ان جاگی ہوئی راتوں کی سحر ہوجائے گی، جذبات کا شوریدہ طوفان تھم جائے گا۔ پھر میں سادہ رنگ اور سادہ لباس پہنوں گی، سنگھار، زیور اور جوبن کچھ بھی تو نہ ستائے گا۔

ڈاکٹر نے تفصیلی جسمانی معائنے کے بعد مینوپاز کی تصدیق کردی۔ اس کی تپسیا رنگ لائی۔ گھر میں داخل ہوتے مارے خوشی کے اس کی چال لڑکھڑا رہی تھی، انگ انگ میں مستی کی لہریں دوڑنے لگیں، کیسا سرخوشی کا عالم تھا۔ بےاختیار اپنا سب سے حسین شوخ رنگوں سے مزین لباس زیب تن کیا۔ ہمرنگ زیور اور موزوں میک اپ کے ساتھ دل کی خوشی نے جسم و جاں کو نکھار دیا تھا۔ گنگنانے کو من کرنے لگا اور اڑنے کو اور تیرتے جانے کو اور ہمیشہ کے لیے آسمان سے کودنے کو اور بلاوجہ رونے کو اور بلا وجہ ہنسنے کو اور کسی کے بھی جسم کا انتظار کیے بغیر سو جانے کو۔۔۔۔ لیکن بہت جلد اسے ایک ایسے ٹھنڈے، گہرے اور تاریک خلا نے نگل لیا جہاں سے اس کی آواز کا باہر نکلنا تک نا ممکن تھا۔ اسے ایک ایسے خالی پن کی ویرانی نے کاٹ لیا جس کا تریاق اس کے شوہر کے پاس نہیں تھا۔۔۔اس نے اپنے جسم کے علاوہ کسی اور جسم کی حرارت کی طلب کو اس شدت سے محسوس کیا کہ اسے لگا جیسے وہ ہمیشہ سے ان چھوئی رہی ہو۔
Humaira Ashraf

Humaira Ashraf

Humaira Ashraf, an unknown soul in search of her real identity, is an editor and lexicographer by profession. She believes in humanity & love that transcend all barriers of country, creed and colour.


Related Articles

بانسوں کے جھنڈ میں

ریونسوکی اکوتاگاوا: آخر کار میں تھکا ہارا درخت کے نیچے سے اٹھ کھڑا ہوا۔ میرے سامنے وہ خنجر گرا پڑا تھا جو میری بیوی نے پھینکا تھا۔ میں نے وہ اٹھایا اور اپنے سینے میں گھونپ لیا۔ خون کا ایک فوارہ ابل کر میرے منہ پر آن پڑا ، لیکن رتی برابر درد محسوس نہ ہوا ۔

Naina

Hammad Rasheed: Naina never wanted to sell herself just for the sake of few rupees but it was to ensure her meals and bare necessities.

مننجائٹس (رضی حیدر)

یہ عجیب خط ہے کہ میں ہی اسے لکھ رہا ہوں اور میں ہی اسے پڑھے جاتا ہوں، تسبیح کی