منجمد آگ

منجمد آگ
یار کیا کرو ں آج چوتھا مہینہ ہوگیاہے۔ کوئی کام ہی نہیں مل رہا۔ کب تک اپنی بہن کاصوفہ توڑتا رہوں گا۔

بھائی صاحب آپ یہاں امریکہ میں وزٹ ویزہ پر آئے ہوئے ہیں۔ چھ مہینے کا ٹھپہ تمہارے پاسپورٹ پر ہے۔ پھر تم بھی غیر قانونی باہر کے ہوجاؤ گے۔

تب فکر کرنا۔ ابھی توچھ مہینے تک تو تم امریکہ اور اپنی بہن کے مہمان ہو۔

نہ نہ نہ۔۔۔۔میں واپس نہیں جانے والا اور واپس جا کر کیا کروں گا۔ ایک تو چک ۸۴گ ب میں کوئی کام نہیں۔ اتنا پڑھ لکھ کے بھی کوئی کام نہیں دیتا۔ ویسے بھی میری سوچ کا دھارا وہاں کے لوگوں سے بالاتر ہے۔ ان کی سمجھ میں میری باتیں آتی ہی نہیں، جس کو ملووہ اس دنیا کی نہیں اس دنیا کی باتیں کرتاہے۔

مرنے کے بعد کیاہوگا۔ تمہارا حساب کتاب ہوگا۔ گناہوں کی فہرست اچھائیوں کی فہرست سے لمبی ہوئی ہو تو چنی مائی کے تندرو میں ڈال دیاجاؤں گا۔

جہاں وہ سارے چک ۸۴ کے گوگیرہ برانچ کی روٹیاں جلاتی ہے اور کبھی کبھی دانے بھی بھونتی ہے۔ اور میں وہ مکئی کے دانے کی طرح گرم ریت کے اوپر بیٹھا مہدی حسن کی طرح منہ بگاڑ کر گاتا ہوں گا۔

زندگی میں تو سبھی پیار کیاکرتے ہیں۔ میں تو مر کے بھی میری جان تجھے چاہوں گا۔

بھائی صاحب چھوڑ و ان باتوں کو ۔کام کا سوچو کام کا۔

یا ر وہی تو سوچ رہاہوں۔ سوچنے کے سوا میرے پاس اور کوئی کام بھی تو نہیں ہے۔

جناب والا جو شخص دنیا کو چاہتاہے اسے موت ڈھونڈتی ہے تاکہ اسے دنیا سے نکال باہر کردے اور جو آخرت چاہتاہے اسے دنیا ڈھونڈتی ہے تاکہ روزی اس تک پہنچادے۔

پھر وہی موت کامنتظر، مرنے کے بعد کیاہوگا۔ بھائی صاحب یہ موت اور زندگی ان لوگوں کے سوچنے کاکام ہے جن کے پاس کام ہوتاہےانہیں زندگی چھوڑنے کاڈر لگا رہتاہے اور موت سے بھاگتے ہیں، میرے پاس کام نہیں ہے۔
تو کاہے فکر ہے کڑی اے آہیں بھرنا توپی اور جی۔

آفاق خیالی کو پیاس لگی اور وہ ریفریجٹر سے پانی کی بوتل نکالنے کے لیے اٹھا۔ اس دفعہ وہ خیالوں میں نہیں تھا۔ آفاق واقعہ حقیقت میں ریفریجٹر سے پانی کی بوتل نکال کر گلاس دھو رہاتھا۔ اسی لمحے کلثوم باورچی خانے میں داخل ہوئی اور دیکھا بھیا کسی سے باتیں کررہے تھے۔

آفاق کہہ رہا تھا۔ وہی کمبخت سعید ساغر۔

کلثوم نےادھر ادھر دیکھ کر حیران ہوکے پوچھا یہاں تو کوئی بھی نہیں آیا۔ پھر کچھ سوچتے ہوئے پوچھا۔کیاکہہ رہاتھا وہ کمبخت۔

آفاق نے گلاس میں پانی بھر کے پوچھا کیا کہہ رہاتھا۔ آفاق نے گلاس میں پانی بھر کے کلثوم کو دکھاتے ہوئے بولا ہاں وہ کہہ رہاتھا۔

کہہ دیا ہے۔

یہاں نہیں ہوگا تو ستم گر، فغاں نہیں ہوگا۔ ایک ایسا طلسم جانتاہوں۔ آگ ہوگی، دھواں نہیں ہوگا۔۔

باجی ایک بات پوچھوں۔یہ بتاؤ میں ہوں گا اور کیا یہ جہاں نہیں ہوگا۔

یہ کیا تم اول فول اپنے آپ سے بولتے رہتے ہو۔ کون ہے یہ سعید ساغر۔۔

۔ کون۔آفاق خیا لی نےحیران ہوکے پوچھا۔ میں کسی سعید ساغر کو نہیں جانتا۔ لیکن باجی تم یہ بتا سکتی ہو کہ مرنے کے بعد کیا ہوگا۔

ہاں جانتی ہوں۔ تیرا سر ہوگا۔ گلی کی نکڑ پر البہ پیزہ والے کے بڑے گیس کے تندور میں جل رہاہوگا اور تیرے دماغ میں جو بھوسہ بھرا ہے اس کے جلنے سے اطالوی پیزہ پک رہاہوگا اس کی خوشبوسے لوگوں کو بھوک لگ رہی ہوگی۔ اور بچوں کے آنے کا وقت ہے۔ وہ بھوکے ہوں گے اور میں نے کچھ نہیں پکایا اور تم پیزہ سٹور سے پیزا لے آؤ۔

آفاق گنگناتا ہوا اپنے جوتےاور جیکٹ سنبھالتے ہوئے گناتے باہر نکلا

اپنے معدوں سے کہہ دو کہیں اور جابسیں۔۔ آفاق ابھی سیڑھیاں اتر رہا تھا۔

کلثوم نے اونچی آواز میں کہا۔ تمہارے بھیا کہہ رہے تھے انہوں نے کسی سے بات کی ہے تمہارے ٹھکانے کی۔ آفاق نے اونچی آواز میں پھر گانا شروع کردیا۔ ان حسرتوں سے کہہ دو کہیں اور جابسیں۔ نہ گھر ہے، نہ ٹھکانا۔

تھوڑی دیر میں آفاق خیالی ایک بڑے چوکور ڈبے میں پیزا لے آیا۔ اور کلثوم سے پوچھا ہاں میرے ٹھکانے کا کیا بندوبست کیا۔ مجھے نخلستان میں رہنا ہے۔

مجھے نخلستان میں رہنا ہے جہاں بس پانی کا چشمہ ہو اور میری تنہائی میرے ساتھ ہو وہ میرے گلے میں بانہیں ڈال دے اور مجھ سے کہے

۔تنہا تھی اور ہمیشہ سے تنہا ہے زندگی۔۔

جناب مسٹر آفاق تنہائی جاؤابھی چلے جاؤاور حشمت کے کوئی واقف ہیں وہ بہت سارے غیر قانوں طارکین وطن کو قانونی حیثیت دلوا چکے ہیں۔ان سے مل لو۔آفاق نے پوچھا۔ کیا وہ خود قانونی ہیں۔

کلثوم نے جھنجلا کے جواب دیایہ تم ان ہی سے دریافت کر نا۔

آفاق بولا دیکھتے ہیں

غیر قانونی کو قانونی کر دے دیکھ کبیرا رویا۔باجی اس سے پہلے میں بھوک سے رو دوں میرے لیے پیز ے کا ایک تکونی ٹکڑا بچا کے رکھ دینا۔

نیویارک میں برقی ریل گاڑیوں کا جال بچھا ہواہے۔ پلک جھپکتے ہی آپ اپنی منزل پر پہنچ جاتے ہیں اور زیادہ تر دکانوں کانام بھی ’’دوکان کے پتے پر ہوتاہے۔ مثلاً براڈے وے سڑک کا نام ہے۔ تو اخبار کی دوکان کانام بھی بارڈوے نیوز ہوگا۔ اسی طرح اس کے بہنوئی کی دوائیوں کی دکان ۳۸ ایونیوپر تھی۔ لہٰذا دکان کو ڈھونڈھنا آفاق کے لیے بہت ہی آسان تھاکیونکہ دوکان کا نام ۳۸ایونیو فارمیسی تھا۔ آفاق وہاں پہنچا تو مسٹر قانونی غیر قانونی وہاں پہلے سے ہی موجود تھا جو اپنی ہر بات اس فقرے سے شروع کردیتے تھے۔ سرجی آپ کو نہیں پتہ یہاں ایسا ہوتاہے۔ آفاق نے سرجی کے سر کو غور سے دیکھا درمیان سے سر بالوں سے بال بال بچا ہواتھا۔ اور کانوں کے اوپر ایک لمبی قطار بالوں کی فوجیوں کی مانند کھڑی تھی۔ جو زیادہ دیر اس کان کو چھپا ےہوئی تھی۔ جیسے بار بار وہ ہاتھ سے چمکتے سر کو صاف چھپتے بھی نہیں اور سامنے آتے بھی نہیں کے مصداق سر کو ڈھانپے کی ناکام کوشش کر رہے تھے۔ تعارف کے بعد وہ آفاق کو کاؤنٹر کے دوسری طرف لے گئے۔ چھوٹے ہی بولے سر جی آپ کو نہیں پتہ۔ اب عام پولیس کاآدمی بھی آپ سے گرین کارڈ پوچھ لیتاہے۔ ڈرائیونگ لائسنس کے لیے گرین کارڈ ضروری۔کام کرنے کے لیے گرین کارڈ ضروری۔

آفاق نے جواب دیا جی مجھے پتہ ہے۔

سر جی آپ کو نہیں پتہ۔ پھر بولے آپ کی اب کیا حیثیت ہے۔ میرا مطلب قانونی ہو یا غیر قانونی ہو۔

آفاق نے جواب دیا ابھی تو قانونی ہوں۔ لیکن دوماہ کے بعد غیرقانونی ہو جاؤں گا۔ جناب قانونی اور غیر قانونی صاحب آفاق سے زیادہ فکر مند ہوگئے۔

وقت بہت کم ہے۔ اس کم وقت میں سب سے آسان اور تیز رفتار طریقہ یہ ہے کہ اپنی ایک آنکھ کو دباتے ہوے۔ آپ کاغذی طریقے سے رشتہ ازدواج میں بندھ جائیں۔

آفاق نے چھوٹتے جواب دیا۔سرجی کاغذ کی کشتی تو سنی تھی۔یہ کاغذ کی بیوی کبھی نہیں سنی۔ غیر قانونی پھر بولے سرجی آپ کو نہیں پتہ۔ میں بہت ساری لڑکیوں کو جانتاہوں آپ کے ساتھ کاغذوں میں آپ کی بیوی ہوگی۔ اصل میں آپ اسے جو مرضی بنالیں اور زور سے ہنسنے لگے۔کھی کھی کھی۔

آفاق ذرا سنجیدہ ہوگئے۔ سرجی کے سر کو دیکھنے لگا۔
یہ کاغذی پھول جیسا چہرہ مذاق اڑاتے ہیں۔ آدمی کا۔

سرجی زندگی میں شادی تو بس ایک ہی دفعہ کروں گااور وہ بھی اس سے جس سے محبت کروں گا۔ اس کے لیے مجھے نکاح کے کاغذپر دستخط کرنے کی ضرورت نہیں اور نہ ہی کسی مولوی یا وکیل یا گواہ کی۔ میری وہ شادی چاہے قانونی ہو یا غیر قانونی شادی توہ ہی ہوگی۔ مسٹر قانونی غیر قانونی پھر اسے چھوڑو۔اچھا چھوڑو شادی کو۔ گولی مارو شادی کو۔ہمیں کوئی ایسا پیشہ ڈھونڈنا ہوگا جس کی اس ملک میں مانگ زیادہ ہو اور رسائی کم ہو۔ مثلاً موذن۔بہت کم لوگ ہیں جو اذان دے سکتے ہیں۔نماز پڑھوانے والا امام۔ یہاں زیادہ تر آبادی عیسائیوں کی ہے۔اورکوئی عیسائی تو اذان دینے سے رہا۔ دوسری حلال گوشت کی دوکان پر جانوروں کو حلال کرنے والا۔ آپ ایسے کریں۔ آج سے کوشش شروع کردیں ان تینوں نوکریوں کو ڈھونڈنے کی۔ آفاق نے پھر کہا اگر نوکری ڈھونڈ بھی لی تو نوکری کروں گا کیسے۔ مسئلہ تو وہاں بھی قانونی اور غیر قانونی کاہوگا۔

مسٹر قانونی غیر قانونی نے پھر سر کو جھٹکا دیا۔ سرجی آپ کو نہیں پتہ۔ آپ ایسے کریں اسی ایونیو کی نکڑ پر چلے جائیں۔ وہاں ایک کولیمبین لڑکا کھڑا ہو گا۔ اس سے کہنا میں فلاں دوکان سے آیا ہوں مجھے سوشل سیکورٹی کارڈ چاہیے۔ آفاق نے ویسا ہی کیا وہ کو لیمبین اسےدوکان سے جڑے ہوئے ایک چھوٹے سے دروازے میں لے گیا اور آفاق سے دو سو ڈالر لے لیے اور کہا کل آکے کارڈ لے جانا۔

آفاق گھر آیا تو حساب لگانے لگا یار دو سو ڈالر تو بیس ہزار روپے بنتے ہیں۔ اگر کولیمبین بھاگ گیا تو مسٹر قانونی کی خیر نہین ایسی غیر قانونی پٹای کروں گا سب قانون یاد آجائیں گے۔اور کچن میں رکھے ہوئے پیزے کو اٹھا کر دیکھنے لگا جوکہ ٹھنڈا تھا۔ گیس کے چولہے پر توے کے اوپر گھمانے لگا۔ چولہا بالکل نہیں جلایا۔ اور پیزے کو توے کے اوپر بار بار گھمانے لگا۔ کلثوم باورچی خانے میں داخل ہوئی اور بغیر آگ کے چولہے پر آفاق کو پیزے کو گرم کرتے دیکھا تو بولی آگ تو تم نے جلائی نہیں۔ آفاق چولہے کو دیکھتے ہوئے بولا ہاں جان بوجھ کر نہیں جلائی۔ پیٹ کی آگ چولہے کی آگ سے تھوڑی ہی بجھتی ہے اور پیٹ کے نیچے جو آگ لگتی ہے اس کے لیے بھی ضروری نہیں ہے۔ مدمقابل کا جسم بھی گرم ہو اور اگر جسم بخار سے جل رہاہو تو پھر کلثوم نے ہلکی سی چپت لگائی۔ بے شرم کہیں کا۔ شرم نہیں آتی بہن سے ایسی باتیں کرتے ہوئے۔ آفاق بولا شادی شدہ ہو۔ دو بچوں کی ماں ہو۔ تمہیں سب کچھ پتہ تو ہے۔ کلثوم نے چولہے کی آگ جلانے کی کوشش کی تو آفاق نے پھر چولہا بند کردیا۔ کہنے لگا۔

جو اشکوں نے بھڑکائی ہو اس آگ کو ٹھنڈا کون کرے۔

اور ٹھنڈا پیزا ہی کھالیا۔ گرم کرکے پیزہ کھانے سے یہ خوف تو نہیں رہتا کہ یہ ٹھنڈاہوجائے گا تو کیوں نہ ٹھنڈا پیزا ہی کھالو۔

کلثوم بولی ویسے تیرے دماغ کے پرزے کچھ ڈھیلے ہیں۔ اسے بادام روغن سے رگڑ کر گرم کیا کرو۔جو مرضی کرو۔

دوسرے دن بہنوئی کی فارمیسی کے ساتھ والی گلی کی نکڑ پر پہنچا تو کولیمبین کھڑا اس کاانتظار کررہاتھا۔ اس سے کارڈ لیا اور مقامی اخباروں میں مؤذن اور ہلال اور مشینی جھٹکے سے گوشت کاٹنے کی نوکریوں کی تلاش شروع کردی۔ بد قسمتی سے ہیلپ وائنڈڈ والے سیکشن میں اسے کوئی اس قسم کی نوکری نظر نہیں آئی اگر کہیں تھی بھی تولگتاہے۔ آفاق نے وہ نوکری نظر انداز کردی ھوگی۔ کیونکہ لگا تھا سوچنے۔ اذان دوں گاکیسے۔ کبھی زندگی میں نماز تو پڑھی نہیں۔ لیکن اس کی نظر ایک نوکری پر جمی جو ملتی جلتی تھی۔ کیتھولک جنازگاہ میں نوکری دستیاب تھی۔ آفاق نے کمر باندھی اور اگلے دن ہی فون کرکے انٹرویو کے لیے وقت لے لیا۔ لیکن آفاق ڈر رہا تھا کہ سوشل سیکورٹی نمبر چیک ہوگیا تو کہیں رپورٹ نہ ہوجائے۔ آفاق ڈرتے ڈرتے جنازگاہ پہنچا۔ شہر کا کافی بڑا جنازگاہ تھا۔ ایک طرف گاڑی کا پارکنگ لاٹ تھا۔ دوسری طرف پھولوں کی دوکان تھی۔ نئی عمارت صاف ستھری فٹ پاتھ سے سڑک اور جناز گاہ کے مین گیٹ پر آدھے دائرے کی چھتری بنی تھی۔جسے کانوپی کہتے ہیں۔ اندر کئی دفاتر اور ایک بڑا ہال کمرہ، ہال کمرے سے بڑا جنازگاہ۔جوتہہ خانے میں تھا۔ اور تمام سہولتوں سے آراستہ تھا۔ آفاق معلومات والے میز پر اپنا نام کی اطلاع دینے کے بعد ایک کرسی پر بیٹھ گیا۔ جنازگاہ کے مالک نے چند لمحوں کے بعد آفاق سے ملنے کی خواہش ظاہر کی۔ آفاق کالے سوٹ اور ٹائی میں ایسا لگ رہاتھا جیسے کسی امریکن کے جنازے میں پہنچا ہوا ہو۔ جب کہ ہمارے جنازوں میں صاف ستھرے کپڑے زیب تن کرنا معیوب لگتاہے۔ لیکن آفاق ہمیشہ نئے کپڑے جنازے میں پہناکرتاتھا۔ اس کاخیال تھاایک گھر سے دوسرے گھر کی ہجرت ہے۔اس کے لیے خوشی کا جشن منانا تو ضروری ہے۔ آفاق نے اپنی باتوں سے جنازہ گاہ کے مالک کو خاصا محظوظ کیا۔ یہ جان کر آفاق کو خوشی ہوئی۔ یہ یہاں کے لوگوں کی جناز گاہ کا دروازہ سب مذاہب کے لیے کھلا ہےہمارے ہاں تو ایک فرقہ دوسرے فرقے کی میت کو ہاتھ نہیں لگاتا۔ یہاں پر ہر مذہب کے رسم و رواج کے مطابق دفن و تدفین کے لوازمات موجود ہیں۔

جناز گاہ کے مالک نے یہ بھی بتایا کہ یہاں لاشوں کو مصالحے اور خوشبو لگاکر کافی عرصہ تک محفوظ رکھنے کا بندوبست بھی ہے۔ ابھی جناز گاہ کا یہ محکمہ نیا ہے۔ اور انہیں تجربہ کار کاریگر کی ضرورت ہے تاکہ اس محکمے کے تمام فرائض بخوبی انجام دے سکیں۔

آفاق نے ایمانداری سے بتادیا مجھے اس پیشے سے بالکل شناسائی نہیں ہے۔ لیکن میں بہت دلچسپی رکھتاہوں اس کام کو سیکھنے کے لیے بالکل تیار ہوں۔ جناز گاہ کے مالک نے اسے اس شرط پر رکھ لیا تم اس پیشے کی کلاسز کے ساتھ ساتھ جناز گاہ میں دوسرے کاموں میں ہاتھ بٹاؤ گے۔ جب تم سیکھ جاؤ تو ہم تمہارے حوالے یہ محکمہ کردیں گے۔ آفاق بہت خوش ہوا کہ چلو کاروبار زندگی کے مردہ جسم میں زندگی کی برقی لہر کا جھٹکا تو لگا۔ اور بڑی چابکدستی سے کام شروع کردیا۔ فارغ اوقات میں جناز گاہ کے ساتھ والی پھلواری دوکان پر اپنا وقت گزارتا۔ پھولوں والی دوکان جنازگاہ کے برابر بڑے ایونیو اور گلی کی نکڑ پر تھی۔

اس سے ساتھ گلی میں ایک چھوٹے بچوں کی نرسری تھی۔ بیکی وہاں استانی تھی۔ بیکی کانکلتا قد، صاف ستھری رنگت، نیچی آنکھیں، دقیانوسی پہناوا۔ اسے باقی لڑکیوں سے منفرد کرتاتھا۔ وہ ہمیشہ چھوٹے بچوں میں گھر ی ہوتی جیسے وہ اس کے اپنےبچے ہوں اسے بچوں کی رفاقت پسند تھی۔ ہر روز بچوں کی قطار کبھی آگے اور پیچھے جیسے بھیڑوں کی نگرانی پر نگران کتا آگے پیچھے بھاگ کر بھیڑوں کی قطار کو سیدھا رکھتا ہے۔ بیکی ہرروز نرسری کے اوقات کے ختم ہونے پر پھلواری سے ایک پھولوں کا گلدستہ خریدتی۔ آفاق ہرروز بیکی کو دیکھتے پھلواری کے پاس چلا جاتا اور کسی نہ کسی بہانے سےپھلواری کے لیے ڈنکن ڈونٹ سے ڈونٹ اور کافی لے آتااور ترچھی نگاہوں سے بیکی کے حسن کو اپنے حسِ جمال کی تسکین کے لیے اپنی نظروں کے سکینر سے۔ بیکی کے جسم کو اپنے دماغ کی ہارڈ ڈرائیو میں سٹور کرتا۔

ّّّّّّّّّّّّّّّّّآخرایک دن آفاق نے بیکی کو پھلواری کی دکان کے سامنے روک لیا اور اسے اس کی پسند کاگلدستہ پیش کرتے ہوئے کہا۔ آپ کو چائے پسند ہے یا کافی۔ بیکی نے جھٹ سے جواب دیا وہ تو میں ہرروز خود گھر چھوڑنے سے پہلے بغیر شکر اور بغیر دودھ کے کافی پی کے نکلتی ہوں۔ لیکن تم کیاانڈیا سے ہو۔

آفاق بولا نہیں آپ سب لوگ ہر زیتون کی رنگت والے کو انڈیا سے۔ ترچھی آنکھوں والوں کو چاہناسے۔گھنگریالے بالوں کو افریقہ سے کیوں سمجھتے ہیں۔

ہاں تم نے ٹھیک کہا ہم امریکن کو بڈلائٹ بیئر اور بیس بال کے سٹیڈیم کے جغرافیہ کے علاوہ کچھ اور پتہ ہی نہیں۔
آفاق بولااور ہندوستانی کھانوں میں سوائے تندوری چکن کے۔ بیکی نے بات کاٹتے ہوئے مجھے انڈین کھانے بہت ہی پسند ہیں۔آفاق نے بھی بات کاٹی۔ تو کل چلیں میں شہر کے سب سے اچھےانڈین ریسٹورنٹ جانتاہوں۔ بیکی نے پوچھا۔تم سب ریسٹورنٹ کو انڈین ریسٹورنٹ کیوں کہتے ہو۔ بیکی نے بدلہ لیا۔ جبکہ یہاں پاکستانی، بنگلہ دیشی،انڈین ریسٹورنٹ کی بھرمار ہے۔ بہت ریسٹورنٹ کے نام انڈین ہی ہوتے ہیں۔ تمہیں کیسے پتہ چلتاہے کہ انڈین ہے یا پاکستانی یا بنگلہ دیشی۔ آفاق نے ہنستے ہوئے جواب دیا۔ ہر ریسٹورنٹ کے نام کے نیچے تین ملکوں کے نام لکھے ہوتے ہیں، اگر ترتیب میں سب سے پہلا پاکستانی، انڈین،بنگلہ دیشی کھانوں کامرکز،تو سمجھ لو کہ یہ پاکستانی کاریسٹورنٹ ہے۔

کلثوم کی گرجدار آواز نے آفاق کو خیالوں کی دنیا سے نکال کر صوفہ پر لا بٹھایا۔ یہ پھر تم بہکی بہکی باتوں میں بیکی کا کیا ذکر کررہے تھے۔کیا ریسٹورنٹ کھولنے کاارادہ ہے۔ نہیں باجی میں آپ کو بہت تنگ کرتا ہوں۔

آفاق شرمندہ ہو گیا۔ بات بدلتے ہوے۔کچھ پیسے جمع ہو گئے تو اپنا اپارٹمنٹ لے لوں۔

کلثو بولی ہاں تمہیں اس صوفے بیڈ پر آرام بھی تو نہیں ملتا۔ تم تواب کام بھی کرتے ہو اور سکو ل بھی جاتے ہو۔ اب تھوڑے سے پیسے جمع کرو تاکہ تمہاری شادی کر دوں۔

جناز گاہ میں آفاق دن دگنی اور رات چوگنی ترقی کر رہا تھا۔ مالک بھی اس سے بہت خوش تھا۔ اس نے ہر ڈیپارٹمنٹ میں خوب جانکاری کرلی تھی۔ لیکن اس کی مہارت مردہ انسانوں کے جسم میں ادویات بھر کے انہیں ایسا بناناتھاجیسے وہ بالکل زندہ ہوں۔ ان کے جسم کی لچک۔چہرے کی تازگی ایسے رہے جیسے وہ سامنے بیٹھے ہوں۔تاکہ مردہ انسانوں کے چاہنے والے کافی دیر اسے اپنے پاس رکھ سکیں یا جب دفن کریں تو وہ مسکراتا زندہ جاگتا رخصت ہو۔ جیسے وہ تابوت میں گہری نیند سو رہاہے۔ اپنے سفر پر ہے اور خوشی سے ایک لمبی چھٹی گزارنے جا رہا ہے۔

جناز گاہ کے مالک نے آفاق کو اچھی خبر سنائی۔کل تم ایک مردہ میں ادویات بھرنے کاکام شروع کردو گے۔ تاکے مردہ کو کافی دیر تک رکھا جا سکے۔ Embaling کرنا کہتے تھے۔

اگر تم نے اپنے استاد کوقائل کرلیا تو پھر یہ شعبہ تمہارے حوالے کردیاجائے گا۔

ویسے تو سکول میں اس نےکافی مہارت حاصل کر لی تھی۔ تھی۔ آفاق نےاس میں کافی مہارت حاصل کرلی تھی۔ لیکن آج اس کاامتحان۔ امبامنگ کرنا

اپنے افضل افسر کی زیر نگرانی وہ یہ عمل کررہاتھا۔ تھوڑا سا گھبرایا ہواتو تھا۔ لیکن وہ خاصا محظوظ بھی ہو رہاتھا۔ سب سے پہلے انہوں نے جسم کی گردن کے قریب رگوں کو کھول کر پہلے اس میں سے بہنے والا کیمیای مادہ جو مردہ جسم کو دیرپا اور تازہ رکھےبھر دیا اور رگوں میں کھڑے ہوئے خون کو خارج کردیا۔ دوسری دفعہ دوا جو کیمیاتی مادہ تھا بھر دیا جو مردہ جسم میں لچک اور خوبصورت بنا دیتا ہے،رنگت زندہ انسانوں والی،چہرے پر لالی اور جسم صحت مند لگنےلگا۔ یہ لاشیں مردوں کی تھی اسے کسی نے قتل کیاتھا۔ پوسٹ مارٹم کے بعد لاش جناز گاہ میں پہنچی تو حیران کن بات یہ تھی کہ اس کا آلہ افزائش نسل کسی نے کاٹ دیاتھا۔

آفاق کے افضل افسر کا خیال تھا یہ کوئی نفرت کا جرم لگتاہے۔ لیکن آفاق کانظریہ مختلف تھا۔ عروج محبت کاکیس بھی تو ہوسکتاہے۔ کیونکہ جسم کے جس حصے کو آپ آلہ افزائش نسل کہہ رہے ہیں وہ آلہ تسکین لذت بھی ہےجو محبت کے ماپنے کا آلہ بھی ہو سکتا ہے۔ ہوسکتاہے کہ یہ آلہ مرنے کے بعد علیحدہ کیاگیاہو۔ اگر میں اس جسم کی موت کے بعد چیر پھاڑ تفیش کے لیے کرتا تو اس کے دل کو کھول کے دیکھتا۔کیونکہ دل ہی میں روح بسیرہ کیے ہوئے ہے۔ اور دماغ تو نفرت اور محبت کا بیج بوتا ہے۔جس کی نشوونما دل کررہاہوتاہے۔ آفاق کاافضل افسرکو اس کی باتوں کی بالکل سمجھ نہیں آ رہی تھی۔ بہرحال اس کاامتحان کامیاب تھا۔ جناز گاہ کے مالک نے تنخواہ میں اضافے کے ساتھ یہ محکمہ آفاق کے حوالے کر دیا۔

آفاق ہمیشہ کہتا کہ انسان کو خوش رہنے کے لیے لوگوں کی بھیڑ اور مہنگے شہر میں نوکری چھوکری اور اپنا گھر ضرورہونا چاہیے۔ چاہے وہ اس کی مارگیج دیتاہو یا مالک مکان کو اس کا کرایہ وقت پر ادا توکرتا ہو۔ نوکری شروع کرتے ہی اس کے دماغ کی بساط پر شطرنج کے مہرے خود ہی نوکری سے چھوکری کی چال چل رہے تھے اور مکان بھی اس کی خوشی کے کھیل کا حصہ تھا۔

آفاق ہر روز حسب معمول بیکی کاپھولوں کی دکان پر انتظار کرتا۔ لیکن کچھ دنوں سے بیکی پھولوں کی دوکان پر آ نہیں رہی تھی۔ آفاق نے پھلواری سے معلوم کرنے کی کوشش کی تو وہ بھی حیران تھی وہ تو سوائے ہفتہ اور اتوار سکول کی چھٹیوں کے علاوہ ناغہ نہیں کرتی پتہ نہیں کیا ہوا۔ آفاق کو کچھ پریشانی ہوئی تو وہ بچوں کی نرسری میں بلا جھجک پہنچ گیا۔ جھجک تو ایسے بیکی سے تھی۔ اس کے بارے میں معلومات حاصل کرنے اسے کبھی جھجک نہ ہوئی۔ سکول کی ہیڈمسٹرس سے پھلواری کے پیغام رساں بن کے پوچھنے پہنچ گیا تو پتہ چلاکہ وہ سخت بیمار ہے اور جان لیوا بیماری کے علاج کے لیے ہسپتال میں داخل ہے۔ آفاق نے ہسپتال کاپتہ اور کمرہ نمبر بستر نمبر لے کر پھولوں کے گلدستے کے ساتھ ہسپتال پہنچ گیا۔ لیکن بیکی اپنے بستر پر موجود نہ تھی۔ معلومات کے ڈیسک سے اسے نامکمل سی معلومات ملیں پتہ نہیں زندہ ہے مردہ ہے اور گلدستہ لے کر بیکی کے گھر پہنچ گیا۔

بیکی کی عمارت کے سامنے ایک لمبی سیاہ گاڑی کھڑی تھی اور کافی گہماگہمی تھی۔

آفاق سوچنے لگا یہ کسی کا جنازہ ہے یا شادی ہے کیونکہ یہاں پتہ بھی تو نہیں چلتا مردہ کو بھی ایک لمبی سیاہ کارمیں نے لے کر جاتے ہیں اور شادی شدہ جوڑے کو بھی۔

لیکن اس کے پاس بیکی کے گھر کا نمبر تھا اس نے گھنٹی بچائی اور بیکی سامنے کھڑی مسکرارہی تھی۔

آفاق نے تعارف کروایا تو بیکی ہنسنے لگی میں جانتی ہوں تمارے دل میں روح بستی ہے۔ اور دماغ تو نفرت اور محبت کا بیج بو دیتاہے۔ لیکن میرے دماغ نے ہمیشہ تمہارے لیے محبت کے خوبصورت پھول کی نشوونما کی ہے۔ آفاق کے ہاتھ سے گلدستہ لے کر سونگھتے ہوئے بولی۔ تمہاری محبت خوشبو کی طرح ہے جسے دیکھا نہیں جاسکتا۔صرف محسوس کیا جا سکتا ہے۔

آفاق کی خوشی کا کوئی ٹھکانہ نہ تھا۔ بیکی نے آفاق کو اندر بلا لیا۔

آفاق نے تھرکتے ہونٹوں سے کہا میں ہمیشہ تمہیں اپنے خوابوں میں دیکھتا تھا۔لیکن آج میرے خواب حقیقت میں بدل گئے ہیں۔ بیکی نے اپنی خوبصورت آنکھوں کو بند کر کے کہا۔خواب حقیقت ہی تو ہوتے ہیں یہ تو دماغ ہی ہے چاہے حقیقت کو خواب سمجھے یا خواب کو حقیقت۔آفاق نے بیکی کو بغیر جھجک کے سینے سے لگا لیا اور والہانہ بیکی کو چومنے لگااور اپنے زانوں پر کھڑا ہوکے بیکی کو اپنے ارادہ سے مطلع کیا

مجھ سے شادی کروگی۔بیکی نے مسکراتے ہوئے ہاں کہی۔بیکی بہت خوش ہوئی۔اس نے آفاق سے کہا میں نے زندگی میں بہت دھوکے کھائے ہیں۔مجھے تم دھوکہ نہ دینا۔ بیکی نے اسے اپنی اور جیک کے ساتھ شادی کی کہانی سنائی۔ بیکی نے بتایا دیکھ میں نے اپنے پیسوں سے دلہن اور اس کے دولہا کا ٹیکسڈ و خریدا اور عین موقع پر وہ مجھے چھوڑ کر چلا گیا۔آفاق تم مجھے چو ڑ کر تو نہیں جاؤ گے۔آفاق نے قسم اٹھائی۔تم میری منزل ہو تم میری خوشیوں کا محل ہو۔میں تو مر کے بھی میری جان تجھے چاہوں گا۔میں پاکستانی ہوں ہم جب کسی کا ہاتھ پکڑتے ہیں تومرنے کے بعد بھی اس کا ساتھ نہیں چھوڑتے۔

چلوآؤ آج ابھی اسی وقت شادی کر لیتے ہیں۔ خدا کو حاضر ناضر جان کر۔ میں سچا ہوں۔خدا ہمارا تمہارا گواہ ہے میں تمہیں اپنے ہاتھو سے سجاؤں گا۔میں خود میک اپ کر لیتا ہوں۔ہمیں کسی بیوٹیشن۔ راہب یا نکاح خواں کی ضرورت نہیں۔

آفاق نے اپنے ہاتھوں سے بیکی کو دلہن کا لباس زیب تن کیا،خود کالا سوٹ پہنا۔اس کا بناؤسنگھار اپنے ہاتھوں سے کیا۔ اس کے لمبے بالوں میں کنگھی کی۔اس نے کمرے کی ساری روشنیاں جلا دیں۔بیکی کے چہر پر فاؤنڈیشن لگائی اور تمام کمر خوشبوں سے محظر کر دیا۔ آنکھوں میں کاجل کی دھار لمبی کھینچ کے لگائی۔ اپنے ہاتھوں سے ہونٹوں پر سرخ لب سٹک سے سرخی لگائی، گالوں پر ہلکی سی لالی سے رخسار کی ہڈیوں کو نمایا کر دیا۔

بیکی دلہنوں سے زیادہ خوبصورت لگ رہی تھی۔

آفاق بیکی کو اپنے ساتھ چلا کر سونے کے کمرے میں لے گیا۔اسے پلنگ پر بٹھا دیا۔ بیکی سے بولا ہمارے ہاں دلہن سر جھکا کے گھونگھٹ نکا ل کر دولہا کا انتظا ر کرتی ہے۔ بیکی نے ویسے ہی گھونگھٹ کھینچ کر آنکھیں نیچی کر لیں۔آفاق نے ریفریجریٹر سے دودھ گرم کر کے دلہن کو پلایا۔اورآہستہ سے گھونگھٹ اٹھایا۔بیکی نے شرم سے اپنی آنکھوں اپنے بازو میں چھپا لیں۔

آفاق نے آہستہ آہستہ ایک ایک کر کے بیکی کے کپڑ ے اتارے اور پھر اپنا کالا سوٹ اتارا سرد خانے کی دیوار پر لگی کھونٹی پر ٹانگ دیااور بیکی سے کہا ہماری شادی مکمل نہیں جب تک دونوں جسم ایک دوسرے میں سما نہ جائیں۔پھر ہمارا ولیمہ جائز ہوتا ہے بیکی نے پوچھا ولیمہ کیا ہوتا ہے آفاق نے وضاحت کی۔ دلہا اور دلہن کے ملاپ کا کھانا۔بیکی نے آفاق کو سینے سے لگا لیا۔

پھر آفاق نے کپڑے پہنتے ہوئے چھت کی طرف منہ کر کے کہا

تو تھا میں تھا کوئی گواہ نہ تھا۔ آ جو کچھ ہوا وہ گناہ نہ تھا۔

اسی لمحے جنازہ گاہ کے مالک نے یک بستہ مردہ خانے کا دروازہ زور سے کھٹکایا اور آفاق سے پوچھا مردہ تیار ہے سب مہمان جنازہ کے لئے انتظار کر رہے ہیں۔ آفاق نے مردہ خانے کا لاک کھولتے ہوئے کہا۔ ہاں باڈی تیار ہے۔ جنازہ گاہ کے باقی لوگ بیکی کے تابوت کو دفنانے کے لئے قبرستان کی طرف ایک سیاہ لمبی گاڑی میں لے جا رہے تھے۔ دھواں چھوڑتی گاڑی کے پیچھے آفاق کھڑا تھا اور اس کا جسم تپ رہا تھا ماتھے سے پسینہ ٹپک رہا تھا۔اس نے اپنی جیب میں ہاتھ ڈالا تو وہ بالکل ٹھنڈی یخ تھی۔
Did you enjoy reading this article?
Subscribe to our free weekly E-Magazine which includes best articles of the week published on Laaltain and comes out every Monday.
Mumtaz Hussain

Mumtaz Hussain

Mumtaz Hussain is an artist, film maker and a writer. He has also served as an art director for Calvin Klein, Ralph Lauren and Simon & Schuster. Mumtaz directed 13 episodes of an informative talk show for channel 9 "Ask a Lawyer." His Urdu book of short stories, GOOL AINAK K PECHAY, LAFZON MAIN TASVEERAIN is published. His script The Kind Executioner received finalist award at Hollywood Screenplay Contest Hollywood and first award at Jaipur International film festival. His paintings and films have been shown at numerous museums, universities, art galleries and international film Festivals.


Related Articles

سپاہی تنویر حُسین کی ڈائری - 11 دسمبر 1971- "یومِ بختیار صاحب"۔

آج چونکہ کیمپ کی کمان صوبیدار بختیار صاحب کے سپرد تھی لہٰذہ آدھی نفری تو سارا دن" چِندی اور پُھلترُو "لئےرائفلیں صاف کرتی رہی۔باقی نفری صوبیدار صاحب کے اخلاقیات، ملٹری، سیاست اور جنسیات کے موضوع پر دیئے گئے درس سے لطف اندوز ہوتی رہی۔

گنیش

پاروتی کو سب سے پہلے ہاتھی دکھائی دیا۔ چنانچہ اسی کا سر کاٹ کر گنیش جی کے لگادیا گیا۔

کج فہمیاں

ایک بین الااقوامی کارپوریش نے صاف آکسیجن فراہم کرنے کا ٹھیکہ لے لیا۔ایک بین الاقوامی قانون کے ذریعے، جس کے تحت منظور شدہ سلنڈر اور ماسک کے بغیر سانس لینا جرم قرار دیا گیا جس کی سزاعمر قید طے پائی۔