314 والے اشونی جی (تالیف حیدر)

314 والے اشونی جی (تالیف حیدر)

وہ ہمیشہ سے مجھے متاثر کن لگے، لمبے بال، ڈھیلی ڈھالی ٹی شرٹ یا شرٹ،اس کے نیچے کبھی جینس تو کبھی نیکر،ناک پہ چشمہ،بظاہر اکھڑی اکھڑی سی شکل و صورت، مگر نہایت پر خلوص۔ کم بولنے اورخاموشی سے اپنے کاموں میں مصروف رہنے والے۔ایک سنجیدہ مسکراہٹ سے کسی بھی شخص کا استقبال کرتے ہوئےاشونی جی کو میں نے جب پہلی مرتبہ دیکھا تھا میں تبھی سمجھ گیا تھا کہ یہ عام خیالات کے انسان نہیں ہوسکتے۔ ان کی رعب دار شخصیت کسی کو بھی یہ سوچنے پر مجبور کرسکتی تھی۔ ہوسٹل کے میس میں کھانا کھاتے ہوئے وہ ایک کونے میں بیٹھے تنہا کسی طرح کی خیالات میں گم نظر آ رہے ہوتے، کھانا کھاتے جاتے اور کچھ سوچتے بھی جاتے۔ان کا ہاتھ کبھی تیزی سے چلتاکبھی بالکل رک جاتا اور کبھی پھر تیزی سے چلنے لگتا۔ میں نے جب اشونی جی سے بات چیت نہیں کی تھی تب بھی دو ایک مرتبہ یہ خیال آیا تھا کہ ہو نا ہو یہ شخص ادب یا فلسفے کا طالب علم ہے، میرا اندازہ کچھ اتنا غلط بھی نہیں نکلا کہ جب ان سے بے تکلفی ذرا بڑھ گئی تو اک روز انہوں نے بتایا کہ وہ گزشتہ کئی سالوں سے یہاں ہیں اور فلسفہ تکنیک میں پی۔ ایچ۔ ڈی کر رہے ہیں۔ اللہ جانے فلسفہ تکنیک کے لوگ کیا کرتے ہیں، لیکن اشونی جی کو دیکھ کر تو یوں ہی محسوس ہوتا تھا کہ بہت سوچتے اور غور کرتے ہیں۔ میں نے پہلے پہل اشونی جی سے یہ جاننے کے بعد کہ ان کا موضوع کیا ہے، آرٹ کے متعلق ان کی رائے جاننا چاہی، مختلف طرح سے کہ ادب اور فن کے بارے میں ان کے خیالات کیا ہیں۔ کیوں کہ مجھے اس بات کا احساس ان سے ہر ملاقات کے دوران ہوتا تھا کہ ادب اور فن سے ان کا کوئی نہ کوئی رشتہ ضرور ہے۔ انہوں نے آرٹ کے تعلق سے اپنی جو رائے ظاہر کی اس سے مجھے ذرا سی حیرانی ہوئی۔ اشونی جی ایک زندہ دل انسان تھےوہ ادب اور فن سے اچھی طرح واقف بھی تھے۔ دکنی ہند کے رہنے والے اور شمال و جنوب کی دنیا دیکھے ہوئے ادب اور آرٹ کو اچھی طرح سمجھتے تھے۔ حیرانی مجھے اس بات پہ ہوئی کہ میرے استفسار کے جواب میں انہوں نے مجھے بہت سی ایسی بے تکلف اور پر مزاح باتیں بتائیں کہ ان سے کیے ہوئے میرے سوال نے مجھی کو پلٹ کر آنکھیں دکھا دیں۔ تم اور اشونی جی سے پوچھو گے کہ وہ ادب اور آرٹ کے متعلق کیا سوچتے ہیں؟ فلسفے کے طالب سے یوں بھی ادب اور آرٹ کے تعلق سے سوال نہیں کرنا چاہیے کہ یہ اس کی توہین ہے۔ کوئی سوال نہیں۔ کیوں کہ وہ جانتا ہے کہ ادب اور آرٹ کو کس طرح کتابی دنیاوں سے باہر لا کر زندگی کے اطوار میں شامل کیا جاتا ہے۔ اشونی جی نے بھی مجھے کچھ یوں ہی اپنی زندگی کے چند رنگین لمحوں کو دکھا کر اور اپنے تعلق سے چند باتیں بتا کر یہ سمجھادیا تھا کہ ادب اور آرٹ میری رگوں میں دوڑتا ہے۔

314 میں اشونی جی گزشتہ کتنے برس سے رہ رہے ہیں مجھے اس بات کا علم نہیں، مگر ایک مرتبہ جب یوں ہی رات کو کھاناکھانے کے بعد ہم دونوں فلسفے اور ادب کے مختلف موضوعات پر باتیں کرتے ہوئے ہوسٹل کے باہر نکل گیے تواشونی جی نے مجھے بتایا کہ انہیں بھی شطرنج کھیلنے کا ویسا ہی شوق ہے جیسا کےمجھے، میں نے ان سے شطرنج کی ایک ایک بازی کھیلنے کی فرمائش کی اور وہ فوراً راضی ہو گیے۔ اس روز پہلی مرتبہ میں نے اشونی جی کا کمرہ اندر سے دیکھا۔ باہر سے اس کمرے کے دروازے پر بلا کی بے رونقی چھائی نظر آتی تھی مگر جب میں اند رپہنچاتو مجھے اندازہ ہوا کہ یہ ایک بارونق ذہن کے مالک کا ہی کمرہ ہو سکتا ہے۔ ادھر ادھر بکھری ہوئی بے شمار کتابیں، دنیا جہان کے تار اور کیبل، کہیں کاغذات کا ڈھیر تو کہیں رسیوں سے بندھا ہوا پنچنگ بیگ، کہیں شراب کی بوتلیں تو کہیں سگرٹ کی ڈبیاں، ایک کونے میں کچھ عجیب وغریب میوزیکل اکیوپمنٹس تو دوسرے کونے میں گٹار۔ بہر کیف اشونی جی نے اپنے اس چھوٹے سے کمرے میں اپنی ایک الگ دنیا بسا رکھی تھی جس کی باہر والوں کو ہواتک نہیں لگی تھی۔ میں نے ان کے کمرے میں جگہ جگہ مختلف نوعیت کی پڑی ہوئی گیندوں کو غور سے دیکھا اور اشونی جی سے استفسار کیا کہ آخر اتنی گیندوں کا آپ کیا کرتے ہیں، انہوں نے بتایا کہ وہ گیندیں ایک طرح کی ورزش کے دوران کام آتی ہیں۔ اللہ جانے وہ کون سی ورزش ہوتی ہوگی مگر اشونی جی کی صحت سے تو اس کا علم ہوتا تھا کہ وہ گیندیں بہر حال بہت کار آمد تھیں۔ اسی کتابوں اور تاروں کے ڈھیر میں سے اشونی جی نے ایک عدد نہایت قیمتی شطرنج نکالی اور ایک لکڑی کے نفیس مگر مٹ میلے مڈھے پر اسے سجا دیا۔ شطرنج کچھ خاص نہیں چلی اور میں جلد ہی ہار گیا، مگر اس روز اشونی جی کی ایک ادا کا اور عاشق ہو گیا کہ ان کو جیتنے سے زیادہ کھیلنے کی سنجیدگی سے لگاو تھا۔

میں نے اشونی جی کو میس اور ہاسٹل کے مختلف کونوں، لائبریر اور انسٹی ٹیوٹ کی بیشتر دکانوں پر اکثر اکیلے دیکھا تھا، مگر جن دنوں میں نے پابندی سےلائبریر جانا شروع کیا ان دنوں پہلی بار مجھے اشونی جی کے ساتھ دو منی پور اور ناگالینڈ کے لڑکے دکھائی دیئے، جلد ہی اشونی جی نے انہیں مجھ سے بھی ملوایا، ان میں سے ایک کا نام تو خاصہ ہندوستانی تھا مگر دوسرا لڑکا جو اشونی جی سے کچھ زیادہ بے تکلف معلوم ہوتا تھا وہ مجھے قطعاً ہندوستانی نہیں لگا، اس کا نام سولومون تھا اور اسے ہندی اتنی بھی نہیں آتی تھی کہ ٹھیک سے کسی اجنبی سے ہندی میں سلام کلام یا رسمی گفتگو کر لے۔ اشونی جی اس سے صرف انگریزی زبان میں باتیں کرتے تھے اور کبھی کبھی نہ جانے کس خاص اصطلاحی زبان میں۔سولومون اور اشونی جی میں ایک بات قدر مشترک تھی کہ ان دونوں کے بالوں کی تراش خراش ہم جیسے کئی ایک عام اور سادہ مزاج لوگوں سے مختلف تھی، اشونی جی کے بال لمبے اور گھنے تھے، جن میں اکثر مجھے طرح طرح کی پینے لگی نظر آتی تھی اور سولومون کے گھنگرالے اور کھڑے۔ سولومون بھی اشونی جی کے ہم مضمون تھے مگر ان کی شخصیت میں وہ تاثر نہیں پایا جاتا تھا جو کہ اشونی جی کی ذات کا حصہ تھا۔ میں نے ایک روز دوران گفتگو اشونی جی سے پوچھا کہ کیا آپ نے کبھی سور کا گوشت کھایا ہے، تو انہوں نے اپنے مخصوص انداز میں گردن گھماتے ہوئے،بڑی سنجیدگی سے مجھے بتایا کہ ایسا کئی مرتبہ ہوا ہے کہ سولومون نے اپنے کمرے پر سور اور بھیڑ اور مینڈک پکایا ہے اور ہم دوستوں نے مزےلے لے کر کھایا۔ میں نے میڈک کے کھانے کا تجربہ جاننے کے لیے مزید استفسار کیا تو اشونی جی نے مسکر کر کہا کہ اس کا مزا بتانے میں نہیں کھانے میں ہے، ہم کھلائیں گے کسی روز آپ کو۔
مجھے اشونی جی کی بعض باتیں بہت غیر مہذب اور غیر ثقافتی بھی لگتی تھی، مگر جب جب مجھے کوئی ایسی بات نظر آتی یا محسوس ہوتی تو میں فوراً اشونی جی سے کہہ دیتا اور وہ کسی ایک خاص نکتے کی وضاحت کرتے ہوئے اسے اعلی درجے کی ثقافت ثابت کر دیتے۔ اشونی جی آہستگی اور ذہانت سے بنے ہوئے تھے، میں نےکبھی انہیں زور سے بولتے یا کسی بات پر غصہ کرتے نہیں دیکھا۔ وہ باتوں سے اختلاف بھی بہت کم کرتے تھے اور میری یا سولومون کی بیش تر باتوں پہ اثبات میں سر ہلا کر مجھے قبولیت کا درس دیتے تھے۔ میں نے اشونی جی سے طرح طرح کی باتیں کیں، کبھی انہیں اردو ادب کے بارے میں بتایا اور کبھی مراٹھی اور پشتو ادب کے بارے میں، کبھی میرو غالب کے شعر سنائے تو کبھی باقر مہدی، علی اکبر ناطق اور محمد خالد اختر کی کہانیوں، مضامین اور نظموں کے بارے میں بتایا،کبھی اپنی ناکامیوں کی داستان سنائی اور کبھی کامیابیوں کا گیت،انہوں نے ہمیشہ میری باتوں کو دلچسپی سے سنا۔بعض باتوں سے کچھ سیکھا،جانا اور مجھے یہ بتا بھی دیا کہ یہ بات مجھے نہیں معلوم تھی اور ہمیشہ خوش اسلوبی کا مظاہرہ کیا۔ میں نے اکثر ان سے گفتگو کے دوران محسوس کیا کہ وہ بتانے سے زیادہ جاننے کے خواہش مند رہتے ہیں۔ جب جب میں ان کو کریدنے کی کوشش کرتا تب تب وہ جلد ہی اپنی باتوں کو ختم کر کے مجھ سے کوئی استفسار کر بیٹھتے۔ حالاں کہ میں جانتا ہوں کہ انہیں مجھ سے کہیں زیادہ چیزوں کے متعلق معلوم ہے اور مجھ سے بہتر انداز میں گفتگو کرنے کا ہنر بھی جانتے ہیں۔ کبھی کبھی جب بولنے پہ آتے تو طرح طرح کی نئی نئی باتیں بتاتے۔ انہیں نے مجھے سب سے پہلے بتا یا کہ دلی میں کس طرح غریب اور مزدور عوام کم سے کم میں زندگی گزارتی ہے جس کا علم شہر کے ان لوگوں تک کو نہیں ہوتا جن سے ان مزدوروں اور غربا کا روز کا سابقہ پڑتا ہے۔ ادب میں کون سی تحریک کتنی پرانی ہے، مغرب نے کن تحریکوں میں کن ملکوں کے فنون سے استفادہ کیا ہے اور مشرق،مغرب سے کس طرح مختلف اور سر بر آوردہ ہے۔ اشونی جی کے مطابق وہ پڑھتے کم تھے زندگی کی اصل سچائیوں کو تلاش کرنے پر زیادہ یقین رکھتے تھے، جیتے تھے کہ ایک روزہر حال میں مر جانا ہے اور ہر اچھی بری چیز کا استقبال کرتے تھے کہ استقبال ہی ادراک کی پہلی منزل ہے۔ میں نے اشونی جی سے بہت کچھ سیکھا ہے اور جتنا جانا ہے اس سے کہیں زیادہ جاننے کی خواہش ہمیشہ میرے دل میں رہی ہے۔ حالاں کہ ہمارا ساتھ صرف چند ماہ کا تھا کیوں کہ وہ میری آمد کے بعد جلد ہی اپنی تھیسس جمع کر کے یونیورسٹی سے رخصت ہو گئے، مگر ان چندمہینوں میں میرے دل پر اپنی انفرادیت اور تشخص کی مہر ثبت کر گئے۔

Did you enjoy reading this article?
Subscribe to our free weekly E-Magazine which includes best articles of the week published on Laaltain and comes out every Monday.
Taleef Haider

Taleef Haider

Taleef Haider is a student of M. Phil. Urdu at Jawahar Lal Nehru University. He is a poet and has written many critical essays for various literary magazines.


Related Articles

تاریک سورج

پورا قصبہ آج پھر اجتماعی خاموشی کا شکار تھا- بازار بند پڑا تھا اور اس کے مغرب میں قصبہ کے مرکزی چوک میں لوگ چھوٹی چھوٹی ٹولیوں میں کھڑے چہ میگوئیوں میں مصروف تھے۔عجیب سہما ہوا منظرتھا-

بین کرتے رہو

سرسراتی لہو میں اُکستی صدا کو سماعت میسر نہیں آ سکی

رنگ و روغن ابھی گریہ کرتی ہوئی آنکھ میں

نم زدہ ہے

ایک جابر کا سنگِ مزار

جب وہ ہنستا تو معززین و شُرفاء بھی ہنس ہنس کے لوٹ پوٹ ہوتے
اور جب وہ روتا تو چھوٹے چھوٹے
بچے گلیوں میں مرتے جاتے