آدرش پہاڑ کی نوک پر رہتا ہے (ایچ-بی- بلوچ)

آدرش پہاڑ کی نوک پر رہتا ہے (ایچ-بی- بلوچ)

یہ ایک اونچا اور نوکیلا پہاڑ ہے
جس پر تم ہو

اس اونچائی کے نیچے
بہت سے درخت ہیں انسان ہیں
اور بہت سی چیونٹیاں اور بہت سے کتے ہیں

مگر تم اوپر ہو
اور تمہاری آنکھوں کی پتلیاں مجھے
خالی آسمان کی طرح لگتی ہیں
جس میں خود کو کھڑا ہوا پاتا ہوں

تم زور سے نہ بولو
زور سے ہنسو تو بالکل بھی نہیں
میں گر جاؤں گا!

اچھلنا نہیں
گڑگڑانا نہیں
جھکنا اور لرزنا تو بالکل بھی نہیں
میں خود سو دفعہ گر سکتا ہوں
لیکن تمہیں گرتا ہوا نہیں دیکھ سکتا

یہ اونچا اور نوکیلا پہاڑ ہے
جس پر تم ہو
جیسے ایک پہاڑ مجھ پر ہو
جیسے ایک پہاڑ ۔۔۔۔ تم پر ہو !
Image: Norman Duenas


Related Articles

ناف کٹوانے کی سزا

صفیہ حیات: کائناتی برتن میں آنسو اتنے جمع ہو گئے ہیں
کہ بارش کی بھی ضرورت نہیں

ڈبلیو ایچ آڈن کی ایک نظم

نیچے اترتا خالی صحن میں
عین اُسی کے مسخ نین و نقوش کا اک سایہ
جو رویا، پھر دیو ہیکل ہوا، اور بھرّائی آواز میں گویا ہوا، ہائے وائے

ایسی نظموں کی حمایت کا انجام گمشدگی ہے

علی زریون: لیکن بندوق کبھی کوئی رسوائی نہیں دیکھے گی
کیونکہ لوہے پر کوئی بد دعا اثر نہیں کرتی