Posts From Ali Akbar Natiq

Back to homepage
Ali Akbar Natiq

Ali Akbar Natiq

Ali akbar Natiq, a renowned poet, short story writer and a novelist, hails from Okara, Punjab. He is currently teaching at a private university. His books "Yaqoot k Warq", "Be Yaqeen Bastio'n Mein" and "Nau Lakhi Kothi" have been praised by readers and critics alike.

نولکھی کوٹھی - چوبیسویں قسط

علی اکبر ناطق: جو مشکل سب سے اہم تھی وہ یہ کہ اب ہندوستانی بھی پہلے والے نہیں رہے تھے۔ اب یہ لوگ چالاکی اور عیاری میں گوروں کے بھی کان کاٹتے تھے اور اِس چکر میں تھے،کب انگریز یہاں سے نکلیں۔ ایسے میں انہیں آزاد نہ کرنا ایسے ہی تھا،جیسے بغیر ہتھیار کے بھیڑیے کے ساتھ رات گزاری جائے۔

Read More

نولکھی کوٹھی - تئیسویں قسط

علی اکبر ناطق: ولیم کو لاہور میں ایک سال تین ماہ گزر چکے تھے۔ اِن پندرہ مہینوں میں سوائے جم خانہ جانے کے،اِدھر اُدھر کی گھٹیا اور بے کار فائلوں پر دستخط جمانے اور کلرکوں کے بیہودہ چہروں کے دیکھنے کے علاوہ کوئی کام نہ تھا۔

Read More

نولکھی کوٹھی - اکیسویں قسط

علی اکبر ناطق: جھنڈووالا میں سردار سودھا سنگھ سمیت ایک دم دس لاشیں پہنچیں تو اندھا کر دینے والا حبس چھا گیا۔ لاشیں دو گَڈوں پر لادی ہوئی تھیں۔ گولیوں سے چھلنی اور خون سے لت پت گو یا مَسلی جا چکی تھیں۔

Read More

نولکھی کوٹھی - انیسویں قسط

علی اکبر ناطق: پچھلی دو پیشیوں پر سردار سودھا سنگھ نے نہ جا کر سخت غلطی کی تھی۔ عدالت نے واضح کر دیا تھا کہ آئندہ سردار صاحب عدالت میں حاضر نہ ہوئے تو اُن کے خلاف عدالت سخت کارروائی کے حکم جاری کر دے گی۔

Read More

نولکھی کوٹھی - اٹھارہویں قسط

علی اکبر ناطق: مولوی کرامت نے اپنا وار کار گر ہوتے دیکھا تو مزید اُس پر جملہ کسا،تو اور کیا؟ پھر سو باتیں ایسی ہوتی ہیں کسی غیر کو نہیں بتانی ہوتیں،جس سے خط پڑھواتے ہیں وہ اُنہیں بھی جان جاتا ہے اور گھر کی بات خواہ مخواہ باہر نکل جاتی ہے۔ پھر یہ ہندو اور چوہڑے تو ہمارے ویسے بھی دشمن ہیں۔ بھائی تعلیم بہت ضروری ہے۔

Read More

نولکھی کوٹھی - سترہویں قسط

علی اکبر ناطق: ایشلے جو اُس وقت بھی اُلٹی سیدھی نظمیں لکھ لکھ کر سناتا تھا اب بہت بڑا شاعر بن گیا تھا۔ یہ تمام زمین اُن کی اپنی ملکیت تھی لیکن رینالہ اور ستگھرہ اسٹیٹ کے درمیان اوکاڑہ کے پاس کلیانہ اسٹیٹ کی زمین اور آموں کے باغ میں گھری ہوئی نولکھی کوٹھی سے اُنہیں خاص اُنسیت تھی۔

Read More

نولکھی کوٹھی - پندرہویں قسط

علی اکبر ناطق: زمیندار سمجھتے ہیں گورنمنٹ اُن سے اِس پانی کا معاوضہ لے گی،جو اُن کی فصلوں کی قیمت سے بھی زیادہ ہو گا۔ اِسی ڈر سے ایک زمیندر نے اپنی بیسیوں ایکڑ کھڑی چاول کی فصل کاٹ کر اپنے مویشیوں کو کھلا دی تاکہ نہ ہو بانس نہ بجے بانسری۔ اب ایسے میں بتائیے کیا کیا جائے ؟
Read More

نولکھی کوٹھی - چودہویں قسط

علی اکبر ناطق: ہیلے ولیم کے اس جواب سے ہلکا سا مسکرا دیا اور دوبارہ بولا،ولیم جانتے ہو؟ مجھے اُس وقت اپنی خوشامد اچھی لگتی ہے جب کوئی میرا انگریز جونیر کرتا ہے ورنہ دیسی افسر تو بنے ہی خوشامد کے لیے ہیں۔
Read More

نولکھی کوٹھی - تیرہویں قسط

علی اکبر ناطق: تھانہ، عدالت یادنگے فساد کا کہیں معاملہ پیش آجاتا تو ملک بہزاد کی خدمات مفت میں حاصل ہوجاتیں۔ ایسے ایسے مشورے دیتا کہ مخالف کو ضرور خبر لگ جاتی کہ مدعی کی پشت پر ملک بہزاد کا ہاتھ ہے۔
Read More

نولکھی کوٹھی - بارہویں قسط

علی اکبر ناطق: غلام حیدر کو پتا تھا کہ غلام رسول سب لوگوں کو کہانی پہلے ہی بتا چکا ہے اور یہ بات کوئی راز نہیں رہ گئی پھر بھی کچھ ایسی بات ہوتی ہے جس کا سب کے سامنے وضاحت کر کے اور کھُول کر بیان کرناٹھیک نہیں ہوتا۔اس لیے یہ قصہ اِن سب کے سامنے نہ ہی دہرایا جائے تو اچھا ہے۔
Read More

نولکھی کوٹھی - گیارہویں قسط

علی اکبر ناطق: ولیم کا حکم پا کر بیر داس نے ایک سکھ سنتری کو اشارہ کیا۔ سنتری اشارہ پاتے ہی آگے بڑھا اور پکار کر بولا،بھائیو، صاحب سے ڈرنے کی کوئی ضرورت نہیں۔ صاحب آپ کا کھیل دیکھنے کے لیے یہاں رُکے ہیں۔
Read More

مضافِ دریا

علی اکبر ناطق: مضافِ دریا کے رہنے والو تمہیں ہارا سلام پہنچے
مضافِ دریا کے رہنے والوں تمہارے قریوں میں زندگی ہے
Read More

نولکھی کوٹھی - دسویں قسط

علی اکبر ناطق: وہ اس سب کچھ سے بے نیاز نئی دنیا دیکھنے کے لیے بے تاب اور خوش خوش سفر کو آمادہ، جی ہی جی میں سوچ رہا تھا کہ وہ ایسی جگہ جا رہاہے جہاں دن کا رنگ ہرا ہرا ہوتا ہے اور راتوں کو جگمگ کرتے تارے کوٹھوں کی چھتوں پر آجاتے ہیں۔
Read More

نولکھی کوٹھی - نویں قسط

علی اکبر ناطق: غلام حیدر نے رفیق پاولی کی طرف دیکھ کر بلا کسی تمہید کے کہا،جو رات کی نسبت کافی ہشاش بشاش نظر آ رہا تھا، چاچا رفیق آپ ایسا کرو، بندوں کو لے کر آج واپس جلال آباد چلے جاؤ اور دونوں گاؤں کے معاملات پر پوری نظر رکھو۔ دشمن کسی بھی طرف سے دوبارہ شرارت کر سکتا ہے۔
Read More

نولکھی کوٹھی - آٹھویں قسط

علی اکبر ناطق: مولوی کی جھجھک اب کچھ دور ہو چکی تھی اس لیے کھل کر تیزی سے بولا،سرکار فَرفَر پانی کی طرح لکھتا ہوں۔ آپ کا غلام مولوی کرامت یہ کام تو بڑے ڈھنگ سے کر سکتا ہے اور سرکار میری خوش خطی کی دھوم توقصور شہر تک ہے۔دو قُرآ ن میں نے اپنے ہاتھ سے لکھے ہیں۔ بہشتی والد نے نستعلیق، نسخ، خطِ کوفی، ہر طرح کی اِملا سکھا دی تھی۔
Read More