Posts From Jameel- ur-Rahman

Back to homepage
Jameel- ur-Rahman

Jameel- ur-Rahman

گلوب کے مرغولے میں گردش کرتی رات (جمیل الرحمٰن)

پرکار کی نوک پر کاغذی گلوب نے تیزی سے حرکت کی اور مجھے کئی حصوں میں منقسم کردیا میں نہیں جانتا میرا کون سا ٹکڑا گلوب کے کس حصے میں گرا یا اس کی سطح میں جذب ہو کر رہ

Read More

استعاروں کے مقتل میں

جمیل الرحمٰن:نظم کی سانس اکھڑ رہی ہے
زمین بگڑ رہی ہے
لفظ چلّا رہے ہیں
کیا تمہیں یہ علم نہیں
"خدا یہ نظم دوبارہ نہیں لکھے گا

Read More

علی زریون کے نام ایک خط

جمیل الرحمان: پیارے علی زریون
یہاں تخت
درختوں کی لکڑی سے نہیں
معصوموں اور کمزوروں کی ہڈیوں اور گوشت سے بنتے ہیں

Read More

دردِ زہ میں مبتلا کوکھ کا چارہ گر

جمیل الرحمان: وہ فلائی اووروں پر چل کر نہیں لوٹ سکے گا
اُسے پرانے راوی کو نئے راوی میں انڈیل کر
پانی کی تیز لہروں کو اپنی فولادی بانہوں سے چیر کر
اُس میں راستہ بناتی اپنی جرنیلی سڑک کو بچھا کر
اُسی پر چلتے ہوئے
لوٹنا ہوگا
Read More

یومِ پاکستان پر حکمرانوں سے

جمیل الرحمان:
تم نے ہر گھر سے ستارے نوچ کر
تیرگی کا آئینہ صیقل کیا
بے حسی کو عام کرنے کے لیے
اہل دل کو بھی وہاں پاگل کیا
Read More

ایک خالی کمرے میں معرکہ

جمیل الرحمان: کمرے میں موجود خالی کرسی
اور اس کے سامنے پڑی بیضوی میز
اُن آواز وں کے بین سُن رہی ہیں
جو دروازے کے کواڑوں سے لٹک رہی ہیں
Read More

غیر جانبدار سرزمین کے نقشے میں

جمیل الرحمان: ہر بار میرے پھیپھڑے
دھوئیں سے بھر دیے گئے
اور چھتوں سے
سوختنی قربانیوں کی مہک اٹھتی رہی
Read More

واپس دو

جمیل الرحمان: میں تم سے آج اپنا آپ واپس مانگتا ہوں
مجھے تم خوں بہا مت دو
Read More

میں جانتا ہوں جہنم کہاں ہے

جمیل الرحمان:میں سارے ایندھن کا شور
خود میں انڈیل لینا چاہتا ہوں
افق پر لہو میں تیرتا دھندلکا
میرے کسی ہم نفس کو پکارتا ہے
Read More

ایک گیت (پیڑا کتھا)

جمیل الرحمٰن: کوئی پنچھی نہ تارا نہ کوئی سکھی
موہے پیڑا کی سدھ بدھ بھی کب رہ گئی
Read More

محبت کا ڈائمینشنل سٹریس

جمیل الرحمٰن: تمہارے ہونٹوں اور آنکھوں سے نچوڑا ہوا رس
میرے لیے
وہ قفس تعمیر کر گیا ہے
جس میں
ایک اڑان کے علاوہ صرف ابدی پیاس ہے
Read More

وصل گزیدہ

جمیل الرحمٰن: داستان
ایک وحشی کی طرح
عنوان کو برہنہ کرنے میں مصروف ہے
اور انجانی لذّتیں قطار باندھے
مسہری پر ٹپکتے جرثوموں کی
کلبلاہٹ پر ہنس رہی ہیں
Read More

نظریہء اضافت کے پاتال میں

جمیل ارحمان:
سورج، ستارے، زمین اور ہم
سبھی گردش میں ہیں
ہمارے دنوں کی طرح
مگر ساکت ہیں
Read More

ایک ہذیانی لمحے کا عکس

جمیل الرحمان: سورج مکھی
تیرے شہر میں دن راستہ بھول گیا
تیرے مکینوں کی لاشیں خاک پر اوندھے منہ پڑی رہیں
اور تیرے سورج کو بیڑیاں پہنا دی گئیں
کیا تیرے شہر میں کوئی ایسی شام تو دفن نہیں
جس کے کتبے کا حاشیہ لکھنے والے بد ہیئت ہاتھ
ستاروں کے لہو سے لتھڑے ہوئے تھے؟؟؟؟
Read More

صبح و شام کے درمیان

جمیل الرحمان: سورج دیوتا نے
شہزادے کا رتھ الٹ دیا
شہزادے کا کچھ پتہ نہین چلا
لیکن
شہزادی کی لاش کے ٹکڑے
راہگیرون کو گھاٹی میں ملے
Read More