Posts From Sarwat Zahra

Back to homepage
Sarwat Zahra

Sarwat Zahra

ہوائیں حاملہ ہیں

ثروت زہرا: ہمیں اب خوف ہے کہ
اس نئی دنیا کی زچگی سے
ہمارے شہر کا کیا کچھ لٹے گا؟

Read More

من و تو

ثروت زہرا: تمھارے گھیروں میں آجانے کے بعد
مجھے ایسا کیوں لگتا ہے
جیسے پوری کائنات
مجھ میں سما رہی ہو

Read More

انٹیروگیشن ...!!!

ثروت زہرا: تم نے سورج سے کیوں روشنی چوری کی
تم پر دن لوٹنے کی دفعہ لگتی ہے
تم کو اب وقت کی ہتھکڑی لگتی ہے

Read More

وقت کا نوحہ

ثروت زہرا: میرے روئی کے بستروں کے سلگنے سے
صحن میں دُھواں پھیلتا جا رہا ہے
گھروں کی چلمنوں سے اُس پار
باہر بیٹھی ہَوا رو رہی ہے

Read More

منی پلانٹ

ثروت زہرا: پرائے اجنبی آنگن میں
ڈالر اور درہم کے لیے
سینچا گیا ہوں

Read More

جنت اور جہنم کے درمیان کی لکیر

ثروت زہرا: رتھ فاؤ
تمہیں تو ڈراونی شکلوں سے خوف نہیں آتا
مگر مجھے ان کے تحلیل شدہ،
جھڑتے ہوئے متعصب نظریوں کے فضا میں پھیلنے سے
خوف آ رہا ہے

Read More

ایک اور فتح کے بعد

ثروت زہرا: بموں اور گولیوں سے
مری دھرتی اب نئی دنیا اگائے گی

Read More

خاتون خانہ

ثروت زہرا: میں اپنی اولاد کے لئے
دودھ کی ایک بوتل
اپنے صاحب کے لئے تسکین
گھر کے لیے مشین
اور اپنے لیے
ایک آہٹ بن کے رہ گئی ہوں

Read More

انٹرنیٹ استھان کی ملکہ

ثروت زہرا: یہ جلتے ہونٹوں کے خط،
یہ ہنسنا رونا
سب کچھ آدھا سچ ہے

Read More

وقت کا چڑیا گھر

ثروت زہرا: سلاخوں کے اندرکا پورا علاقہ میری دسترس میں
دے دیا گیا ہے
مگر تماش بینوں کے روائتی شوق سے پہنچنے والی
اذیت سے تحفظ بھی دیا جا رہا ہے

Read More

غلامانِ غلاماں ہیں

ثروت زہرا: ہمیں کوئی بھی ڈھانچہ دو گے
پل لیں گے
ہمیں کوئی بھی کھانچہ دو گے
ڈھل لیں گے
Read More

سفر میں سوگ کا منظر

ثروت زہرا: کراہت کی منڈی میں
سر سبز شاخوں، گل لالہ چہروں کے
بازار لگنے لگے ہیں
Read More

چپ کی تعمیر سے پہلے کا سفر

ثروت زہرہ: چپ کی تعمیر سے پہلے کا سفر
کون لکھے گا؟
کسے یاد ہے اب؟
Read More

کب تک۔۔۔۔۔ آ خر کب تک

ثروت زہرا: تمہیں معلوم ہے؟
ہمارے بندھے ہوئے پروں کی پھڑپھڑاھٹ
وقت کی سانسوں کو پھکنیوں کی طرح پھونک پھونک کر
شعلوں میں تبدیل کرتی جا رہی ہے
Read More

تلاش

ثروت زہرا: مجھے یقین ہے
کہ میری نال خود مجھے
میری قبر تک
تلاش کرتی ہوئی پہنچ جائے گی
Read More