Posts From Sarwat Zahra

Back to homepage
Sarwat Zahra

Sarwat Zahra

خلا میں لڑھکتی زمین

ثروت زہرا: زمیں
بانجھ چہروں کے ہمراہ
چلتی چلی جا رہی ہے

Read More

پلکوں پر افلاک

ثروت زہرا: پلکوں پر افلاک کا
بھاری بوجھ اُٹھایا
خوابوں کی سر سبز یری
کو ہندسوں کا سُرتال سکھایا

Read More

مجھے تم سے محبت ہے

ثروت زہرا: مجھے تماری سماعتوں سے محبت ہے
جو ہزار گدلے خیالات کے دریاؤں کو
سمندروں کی طرح خود میں جگہ دے کے تازہ دم کردیتی ہے

Read More

معیشت کی رسی

ثروت زہرا: فصیلوں کے گارے سے
خواہش کی اینٹوں سے

Read More

ہوائیں حاملہ ہیں

ثروت زہرا: ہمیں اب خوف ہے کہ
اس نئی دنیا کی زچگی سے
ہمارے شہر کا کیا کچھ لٹے گا؟

Read More

من و تو

ثروت زہرا: تمھارے گھیروں میں آجانے کے بعد
مجھے ایسا کیوں لگتا ہے
جیسے پوری کائنات
مجھ میں سما رہی ہو

Read More

انٹیروگیشن ...!!!

ثروت زہرا: تم نے سورج سے کیوں روشنی چوری کی
تم پر دن لوٹنے کی دفعہ لگتی ہے
تم کو اب وقت کی ہتھکڑی لگتی ہے

Read More

وقت کا نوحہ

ثروت زہرا: میرے روئی کے بستروں کے سلگنے سے
صحن میں دُھواں پھیلتا جا رہا ہے
گھروں کی چلمنوں سے اُس پار
باہر بیٹھی ہَوا رو رہی ہے

Read More

منی پلانٹ

ثروت زہرا: پرائے اجنبی آنگن میں
ڈالر اور درہم کے لیے
سینچا گیا ہوں

Read More

جنت اور جہنم کے درمیان کی لکیر

ثروت زہرا: رتھ فاؤ
تمہیں تو ڈراونی شکلوں سے خوف نہیں آتا
مگر مجھے ان کے تحلیل شدہ،
جھڑتے ہوئے متعصب نظریوں کے فضا میں پھیلنے سے
خوف آ رہا ہے

Read More

ایک اور فتح کے بعد

ثروت زہرا: بموں اور گولیوں سے
مری دھرتی اب نئی دنیا اگائے گی

Read More

خاتون خانہ

ثروت زہرا: میں اپنی اولاد کے لئے
دودھ کی ایک بوتل
اپنے صاحب کے لئے تسکین
گھر کے لیے مشین
اور اپنے لیے
ایک آہٹ بن کے رہ گئی ہوں

Read More

انٹرنیٹ استھان کی ملکہ

ثروت زہرا: یہ جلتے ہونٹوں کے خط،
یہ ہنسنا رونا
سب کچھ آدھا سچ ہے

Read More

وقت کا چڑیا گھر

ثروت زہرا: سلاخوں کے اندرکا پورا علاقہ میری دسترس میں
دے دیا گیا ہے
مگر تماش بینوں کے روائتی شوق سے پہنچنے والی
اذیت سے تحفظ بھی دیا جا رہا ہے

Read More

غلامانِ غلاماں ہیں

ثروت زہرا: ہمیں کوئی بھی ڈھانچہ دو گے
پل لیں گے
ہمیں کوئی بھی کھانچہ دو گے
ڈھل لیں گے
Read More