Posts From Taleef Haider

Back to homepage
Taleef Haider

Taleef Haider

Taleef Haider is a student of M. Phil. Urdu at Jawahar Lal Nehru University. He is a poet and has written many critical essays for various literary magazines.

نئے ذہنوں کو خوش آمدید

تالیف حیدر: نئے ذہن کا استقبال نئی قوموں اور نئے دنیاوں کے عروج کی موجب ہے ۔ ان کی تعظیم نئی کائنات  کےروشن نظاروں کی ضامن ہے۔ ہمیں نئے ذہن کا استقبال کرنا چاہئے اور اس  کی آمد کے جشن کو اپنی ذات کا مسئلہ تصور کرنا چاہیے۔

Read More

ادب کسی کا مسئلہ نہیں

تالیف حیدر: ادب دنیا نہیں کائنات کے اس آخری چھور تک بسیط ہے جہاں تک انسان اپنے حواس کے ساتھ پہنچا ہے اور ادب اس خیال سے بھی کہیں زیادہ آگے کی چیز ہے جو ابھی ایک لاکھ برس بعد وجود میں آئے گا۔

Read More

میں کچھ لکھنا چاہتا ہوں

تالیف حیدر: ادھوری تحریر لکھنا میرا محبوب مشغلہ ہے میں جتنا لکھتا ہوں یا پھر یہ کہوں کہ جتنا لکھے کو ایک مکمل صورت عطا کرپاتا ہوں اس سے پچاس گنا زیادہ میں ایسی ادھوری تحریریں لکھتا ہوں جن میں نہ میرا کوئی واضح موقف ہوتا ہے اور نہ داخلی اظہار۔

Read More

کیا اُردو کی نئی نسل کو زبان نہیں آتی؟

تالیف حیدر: زبان آنے اور نہ آنے کا جھگڑا اردو میں پرانا ہے ، مگر اب ہم جس عہد میں سانس لے رہے ہیں اس عہد میں ہمیں کم از کم اردو کے تعلق سے تو یہ قطعی غلط فہمی نہیں پالنا چاہیے کہ کوئی شخص اردو میں شعر کہہ رہا ہے اور اچھے شعر کہہ رہا ہے یا افسانہ لکھ رہا ہے یا مضمون لکھ رہا ہے اس کے باوجود اس کو زبان نہیں آتی ۔

Read More

میں ادب کیوں پڑھتا ہوں؟

تالیف حیدر: ادب ایک بڑا شعبہ ہے۔ زندگی کا بھی اور موت کا بھی۔ لہذا اس کو پڑھنا بھی ہر شخص اور جماعت کے نزدیک ایک الگ تقاضہ رکھتا ہے۔

Read More

عجیب الخلقت

تالیف حیدر: نہانے کا انہیں ذرا شوق نہ تھا۔ میں نے آخری بار نہانے کی تاریخ معلوم کی تو پتہ چلا کہ اس کو گزرے ایک عرصہ ہو گیا ہے۔ بدن پر میل کی کئی پرتیں جمع ہو گئیں تھی جس کی وجہ سے صحت نکل آئی تھی۔

Read More

ذہن جدید والے زبیر رضوی

تالیف حیدر: میں نے ہمیشہ زبیر صاحب کے اندر ایک متحرک ادیب، ایک علم دوست انسان اور ایک نہایت سلجھا ہوا شخص دیکھا۔ ان کی گفتگو بتاتی تھی کہ وہ اپنے موضوعات کے حوالے سے کتنا زیادہ غور کر چکے ہیں اور اس غور و فکر کی بنیاد پر انہوں نے ایک موقف قائم کر لیا ہے۔

Read More

سرور صاحب سے ایک اور ملاقات

تالیف حیدر: بہت سے لوگ اپنے مطالعے کو وسیع اور کثیر جتانے کے لئے حافظ، سعدی ، رومی، انوری، خسرو، بیدل ،امرالقیس اور متبی وغیرہ کی باتیں کرتے ہیں ، کبھی وہاں سے اچانک مغربی ادب پر کود جاتے ہیں اور کبھی ہندی اور سنسکرت کے ادیبوں کا تذکرہ چھیڑ دیتے ہیں ۔ سرور صاحب کو میں نے کبھی ایسا کرتے نہیں دیکھا ۔

Read More

میں اور میرے ایم۔ فل والے (قسط اول)

تالیف حیدر: میری ایم فل کی کلاس میں کل ستائس بچے ہیں اور میں یہ بات پورے یقین سے کہہ سکتا ہوں کہ اس میں سے کم سے کم بیس لوگ ایسے ہیں جو اگر گزشتہ صدی میں اشرف صبوحی کے ہاتھ آ جاتے تو ان کے خاکوں کا ایک عدد مجموعہ اور تیار ہو جاتا۔
Read More

سر سید کے مذہبی عقائد و افکار: ایک مکالمہ

تالیف حیدر: سر سید کے مذہبی عقائد و افکا ر پر اصل بحث ہمیں اسی مقدمے میں ملتی ہے۔ جس میں تیرہ ذیلی عناوین میں سے چھ عنوانات سر سید کی شخصیت کے مختصر ترین تعارف ان کے ہمعصراوران کے احباب کے ان سے اختلافات، ان کے مذہبی عقائد،علما کے ان سے اختلافات اور اسی طرح کی دیگر بحثوں پر مشتمل ہیں۔
Read More

گردشِ پا؛ ایک داستان ایک کہانی

تالیف حیدر: گردش پا ایک ایسی کتاب ہے جس کو اردو زبان کی خود نوشت سوانحی کتب میں بالیقین شامل کیا جا سکتا ہے۔ اس لئے نہیں کہ یہ خود نوشت سوانح کے اجزائے ترکیبی کو ترتیب وار انداز میں پرو کر تحریر کی گئی ہے، بلکہ اس لئے کیوں کہ اس میں زندگی کے ان معاملات کو بیان کیا گیا ہے جو ایک پژ مردہ اور افسردہ انسان کو زندہ رہنے کا حوصلہ بخشنے اور اس کو زندگی کرنے کا عمل سکھاتی ہے۔
Read More

گیلے ہونٹوں کا خشک جہان

تالیف حیدر: میں نے ان لبوں کا ذائقہ چکھا ہے۔ وہ لب جو نیم سرخ اور نیم گلابی ہیں۔جن کی گدازی اور غیر معمولی ملائمیت بلا کی حیرت انگیز ہے۔ میں ان لبوں کا پر ستار،ان کا محافظ، ان کے قرب و جوار سے آگاہ، ان کی سرحدوں کا نگہ بان ہوں۔
Read More

طلبہ اسلامیہ اور اردو زبان و ادب

تالیف حیدر: طلبہ جن درسگاہوں میں اپنی تعلیم کی ابتدا کر تے ہیں ان کا نظام تعلیم اتنا خراب اور یک رخی ہوتا ہے کہ روایتی و مذہبی معلومات کے علاوہ زندگی کے دیگر شعبوں میں ان کا ہاتھ اتنا تنگ ہوتا ہے کہ یہ کسی قابل نہیں رہتے ۔
Read More

شہرام سرمدی کی نظم پر ایک مختصر نوٹ

تالیف حیدر: شہرام سرمدی کی کئی نظمیں ایسی بھی ہیں جو ان کے مذہبی ،معاشرتی اور تمدنی وجدان سے پیدا ہوئی ہیں۔
Read More

اپنی ہم جماعت کے نام ایک خط

تالیف حیدر: جان لوکہ ہم اگر دوبارہ دوستوں کی طرح پیش آئیں گے تو تمہارے اور ہمارے ان خیر خواہوں کے پیٹ میں پھر درد ہونا شروع ہو جائے گا، جس درد کا علاج نہ تمہارے پاس ہے نہ میرے پاس، تو یا تو تم ان سے ڈر جاوں اور مجھ سے بد گمان ہو جاو یا ان کی پروا کرنا چھوڑ دو
Read More