اظہر اقبال کے نام ایک خط (تالیف حیدر)

اظہر اقبال کے نام ایک خط (تالیف حیدر)

پیارے دوست اظہر اقبال اللہ تمہاری عمر میں برکت عطا کرے۔ جس دن سے تم جے- این- یو کے پروگرام سے لوٹے ہو میں تمہارے خلوص اور محبت کا مزید قائل ہو گیا ہوں۔ کسی ایک دوست کا دوسرے دوست پہ یہ کوئی احسان تو نہیں کہ وہ اس کے کہنے سے اپنی ساری مصروفیات چھوڑ چھاڑ کے بنا کسی مفاد کی خاطر دوڑا چلا آئے، پھر بھی تمہاری دنوں اور راتوں کی مصروفیت کو دیکھ کر میں اسے تمہارے احسان میں ہی شمار کرتا ہوں۔ راتوں سے میری مراد مشاعرے ہی ہیں،لہذا کسی غلط فہمی میں مبتلا مت ہو جانا۔

جان من تم سے ملاقاتیں تو کم ہی ہو پاتی ہیں، لیکن جب کبھی یہاں دہلی میں تمہاری دوستی اور خوش اخلاقی کا ذکر چھڑتا ہے تو بات دور تک نکل جاتی ہے۔ میرے اطراف میں تمہارے معترف اتنے ہیں کہ ہر کوئی تمہارا ویسا ہی دوست اور عاشق نظر آتا ہے جیسا کہ میں خود ہوں۔ جو لوگ تمہاری خوش مزاجی سے واقف نہیں اور تمہارے اشعار ان تک پہنچتے ہیں میں ایسے لوگوں کو تمہارا چہل شناس تصور کرتا ہوں، یعنی وہ بس تمہاری شخصیت کا چالس فی صد ہی جانتے ہیں۔ ساٹھ فی صد اس مسکراہٹ اور بغل گیری میں قید ہے جو ہم جیسے عزیزوں کو حاصل ہے۔

یار جس روز سے تم یہاں سے گئے ہو یہ سوچتا ہوں کہ کیسے تمہاری محبتوں کا اعتراف کروں۔ آج سوچا کہ وہ چند باتیں جو میں تم سے اور تمہارے بارے میں سب سے کہنا چاہتا ہوں انہیں کا پٹارا کھول دوں تاکہ دل کا بوجھ بھی ہلکا ہو جائے اور سامان اعتراف بھی جمع ہو۔

یار سب سے پہلی بات تو یہ کہ یہ جو تم طرح طرح کے نئے نئے کپڑے پہنتے ہو اور نئی نئی محفلوں میں رنگ برنگی روشنیوں میں اپنی پوشاک سے محفل کی زینت بن جاتے ہو تو اس درزی کا اتا پتا کچھ ہمیں بھی بتاو، تم ہو بڑے پر خلوص مگر لباس کے معاملے میں ذرا ظالم ہی واقع ہوئے ہو کہ اس روز بھی جب تم اپنی گاڑی سے اتر کے خراماں خراماں میری طرف بڑھ رہے تھے تو میں تمہارے لباس کو بڑے غور سے دیکھ رہا تھا۔یا رایک کام کرو کہ اب کی جب وہاں سے ادھر آنا ہو تو ایک عددجوڑا اپنی جسامت کا لمبائی کچھ کم کروا کر سلوا ہی لاو۔ اس میں کچھ خرچ تو ہوگا اور میں یقیناً اس کی پوری ادائیگی بھی نہیں کرپاوں گا، پھر بھی جو پاکٹ میں ہو گا چپکے سے تمہاری جیب میں رکھ دوں گا۔ اس سے تمہاری محبت کا امتحان مقصود نہیں، کیوں کہ میں واقف ہوں کہ تم اس میں ہمیشہ کامیاب ہی ہوتے ہو۔

خیر لباس کے بعد تمہاری مسکراہٹ اور انداز تکلم ان دونوں کے متعلق یہ کہنا ہے کہ یار جتنی بار تم مجھ سے ملتے ہو اور میرے جتنے دوستوں کے سامنے ملتے ہو وہ سب تمہارے چلے جانے کے بعد تمہارے تبسم و تکلم کی تعریف کرتے رہتے ہیں۔کچھ ایسے کٹھور دل لوگ جو میرے حلقے میں شامل ہیں جنہوں نے کبھی کسی کی رائی برابر تعریف نہ کی وہ بھی تمہارے متعلق خوش کلامی کرنے سے نہیں چوکتے۔ یار تمہیں اکثر لوگ اسٹیج پہ بولتے ہوئے سنتے ہیں، تمہارے احباب کا حلقہ بھی بہت وسیع ہے، مجھے یقین ہے کہ اپنے تبسم و تکلم کی تعریف تم اکثر سنتے رہتے ہو گے، مگر میں نے جو ایک خاص بات اس میں محسوس کی ہے وہ شائد تم سے کم ہی لوگوں نے کہی ہو کہ جب تم کسی دوست یا اپنے قریبی شخص کا تعارف کراتے ہوئے جمال احسانی کے اشعار سنا رہے ہوتے ہویا کسی استاد شاعر کی مدح سرائی کرتے ہوئے لطیف تبسم کے ساتھ زیب غوری یا عادل منصوری کا شعر پڑھ رہے ہوتے ہو یا پھرکسی عزیز کے لیے رطب اللسان ہوتے ہوئے نئے نئے جملے تراش رہے ہوتے ہو تو تمہاری مسکراہٹ اور تمہاری باتوں سے ایسی متانت چھلک رہی ہوتی ہے جیسے وہ تمام جدید و قدیم شاعرجن کے اشعار تم اپنی نظامت کے دوران پڑھتے ہو تمہاری زبان سے اپنے اشعار سن کر تمہاری پیٹ تھپتھپا رہے ہوں اور اس بات پر تمہیں سراہ رہے ہوں کہ تم ایک نئے انداز اور فن کاری سے عوامی سماعتوں کا ذوق تبدیل کر رہے ہو۔ میرے دوست تمہاری آواز کی وجاہت اور تمہارا انداز ِقراتِ شعر مجھے ہمیشہ تمہاری شخصیت کےایسے نمایاں پہلو محسوس ہوےہیں جیسے قدرت نے تمہیں اسی توصیف صناعی کے لیے تشکیل کیا ہو۔

پیارے دوست تم ایک اچھے فن کار اور ایک اچھنے شاعر ہو۔ تمہاری فن کاری مجھے عزیز ہے اور شاعری محبوب۔ تم میرے حلقہ احباب کا درخشاں ستارہ ہو۔ میں ہر اس لمحے میں جب تم اپنے شعر سنا رہے ہوتے ہو، بڑی سنجیدگی سے ہر ہر شعر کی تراش خراش پہ نظریں جمائے رہتا ہوں، اس لمحے میرے اندر ایک انتشار معنی کی لہر رواں دواں ہوتی ہے اور میں اپنی سماعت کو مکمل تمہارے شعر کے وجود کی نذر کر دیتا ہوں۔ تم شعر سناتے وقت جہاں رکتے ہو،میری سماعتیں وہیں تھم جاتی ہیں، جہاں مسکراتے ہو، میری بصیرتیں کھِلنے(کھِ لنے) لگتی ہیں، جہاں الجھتے ہو وہاں لرزہ بر اندام ہو جاتی ہیں اور جہاں جھنجھلاتے ہو وہاں سہم جاتی ہیں۔ پیارے میں نے ہر اس نشست اور ہر اس مشاعرے کا کوئی حساب تو نہیں رکھا جہاں جہاں مجھے لوگوں کی طرح طرح کی آوازوں کے درمیان تمہاری آواز گونجتی نظر آئی ہےاور نہ کوئی ایسا رقعہ تحریر کر رکھا ہے کہ میں نے کتنی بار تمہیں اب تک سنا ہے، لیکن یقین کرو کہ ہر وہ شعر جو تم نے میری موجودگی میں پڑھا ہے وہ ایک خوش گوار لمحہ بن کر میری یادوں کے روشن دریچوں میں محفوظ ہے۔ میں ان کو جب بھی یاد کرتا ہوں تمہاری شاعرانہ بصیرت کو محسوس کر لیتا ہوں۔

جان من میں کوئی نقاد نہیں جو تمہیں تمہاری شاعری پر اچھی اور بری کی سند عطا کر وں، تمہارا ہم خیال اور معترف ہوں، اس لیے بہت حد تک اس معاملے میں جانب دار بھی ہو جاتا ہوں۔ حالاں کہ مجھے اب تک ایسا کوئی شخص نہیں ملا جس نے تمہاری شاعری کے متعلق کوئی افواہ بیان کی ہو، اور اگر مستقبل میں کوئی کرے بھی تو میرا یہ ہی جواب ہے کہ جو تمہارا اچھا وہ بھی میرا اچھا اور جو تمہارا خراب وہ بھی میرا اچھا۔ یہ ایک طرفہ فیصلہ ہے۔ اسے جذباتی رکھنے کا صرف یہ جواز ہے کہ یہ جذباتی ہے۔

خیر یار اب ذرا دو ایک باتیں اور کہہ دوں پھر چلوں کہ میں تو بہت کچھ کہہ سکتا ہوں پر عین ممکن ہے کہ تمہارے پھر سے کسی اسٹیج پر جانے کا وقت ہو رہا ہواور تم سفر پہ نکلنے کو پر تول رہے ہو۔ اس لیے قصے کو مختصر کر رہا ہوں۔ یار کہنا بس یہ ہے کہ ادھر کچھ دنوں سے بہت سے ایسے مشاعروں میں تمہاری شرکت کی خبریں دیکھ رہا ہوں جہاں تمہارے معیار کا کوئی شاعر نظر نہیں آتا۔ ہو سکتا ہے کہ اس میں بھی تمہاری کوئی عملی پالسی کار فرما ہو کہ تبدیلی ماحول کی یہ بھی کوئی سبیل ہو۔ پر ایسے تمام مشاعروں میں تمہاری تصویر دیکھ کر ذرا ملال ہوتا ہے۔ تمہاری شاعرانہ وظیفہ داری کا خیال تو ایک مستحسن پہلو ہے اس کے باوجود کئی دفع سوچتا ہوں کہ ایسے لوگوں کو جو نہایت بازارو قسم کے شعرا کو اپنی محفلوں میں بلاتے ہیں انہیں کوئی حق نہیں کہ تمہیں بھی بلائیں۔ یہ بھی ممکن ہے کے لوگوں کے اصرار پر تم کوئی عذر نہ پیش کر پاتے ہو کہ اپنی خوش مزاجی سے مجبور ہو، پر پیارے میرے خیال میں کوئی ایسا نظام تشکیل دو جس سے ایسے مشاعروں میں تمہاری شرکت کا کوئی اشتہار نہ ہو۔کیوں کہ تمہارے اشعاراور تمہاری نظامت جس تیزی سے مشاعرے کے منظر نامے کو تبدیل کرنے میں کوشاں ہے اس پر کوئی حرف نہ آئے۔ یقیناً یہ ایک مشکل کام ہے مگر مجھے تمہاری دانش مندی اور ادب فہمی سے یہ امید ہے کہ تم کوئی نہ کوئی راہ نکال ہی لو گے کیوں کہ راہ نکالنا بھی تمہارا ایک وصف ہے۔ چلو، خوش رہو، آباد رہو اور جب دہلی آو جے- این- یو کے لیے بھی ایک شام مختص رکھو۔

تمہاری زلف پریشاں کا عاشق تمہارا دوست و ممنون کرم تالیف حیدر۔

Taleef Haider

Taleef Haider

Taleef Haider is a student of PhD Urdu at Jawahar Lal Nehru University. He is a poet and has written many critical essays for various literary magazines.


Related Articles

نظم کیا ہے؟

ستیہ پال آنند: سچی تخلیق کا دار و مدار فہم، شعور، عقل و دانش پر نہیں ہے۔ اس کے لیے کسی کو بھی چِت یا بودھ نہیں چاہیے، قوائے فکر و فطانت کی ضرورت نہیں، صرف خدا داد حسیت پر اس کی بنیاد رکھی گئی ہے

بے مصرف اور بے قیمت

لاشیں سب اٹھوا لی گئی ہیں
جتنے زخمی تھے اُن کو امداد فراہم کردی گئی ہے
جسموں کے بکھرے اعضا اب وہاں نہیں ہیں، جہاں پڑے تھے

یااللہ حفاظت فرما! ۔

"بیٹا !آرام سے بیٹھو،یہ مسجد ہے یہاں شرارت کرنے سے اللہ ناراض ہوتا ہے"
ریحان نے اپنے چار سالہ بیٹے کو پیار سے سمجھایا۔