Literature

Back to homepage


سیدھی بارش میں کھڑا آدمی (حسین عابد)

بارش بہت ہے وہ ٹین کی چھت کو چھیدتی دماغ کے گودے میں اور دل کے پردوں میں چھید کرتی پیروں کی سوکھی ہڈیاں چھید رہی ہے میں چاہتا ہوں چھت پہ جا کر لیٹ جاوں اور سوراخوں کو چھلنی

Read More

گونگا گلو (جیم عباسی)

گاؤں بنام ڈگھڑی انگریزوں کی کھدائی شدہ نہرکے کنارے کنارے اس جگہ بسایا گیا تھا جہاں نہر اور گاؤں کو ریل کی پٹڑی کا پہاڑ نما ٹریک روک لیتا تھا۔ اسی ریلوے لائن کے قدموں میں دونوں کا ایک جگہ

Read More

ٹِک ٹِک ٹِک (محمد جمیل اختر)

ٹِک، ٹِک، ٹِک ’’ایک تو اس وال کلاک کو آرام نہیں آتا، سردیوں میں تو اس کی آواز لاوڈ سپیکر بن جاتی ہے‘‘ ٹِک ٹِک ٹِک یہ آواز اور یہ احساس واقعی بہت تکلیف دہ ہے، خصوصاً جب آپ گھر

Read More

ہم آگ کی آخری نسل ہیں (سدرہ سحر عمران)

کاش تم بارشوں کی طرح مر جاؤ اور کسی سبز آنکھ میں تمہارے چہرے نہ کھل سکیں تم وہی ہو جس نے ہمارا نام سیڑھی رکھا اور دیوار پر اپنے جسم شائع کئے ہم تمہاری بندوقوں سے نکلے ہوئے منفی

Read More

زنہار (رضی حیدر)

چھپکلی چیختی ہے رفت کی بے خوابی سے ٹڈیاں کاٹتی ہیں رات کے گونگے پن کو سرد صرصر کی زباں رونگٹوں کو چاٹتی ہے لاکھوں زندوں کی تمناؤں کے ڈھانچوں کا ثمر لاکھوں مردوں کی نفس بستہ بقا تکنے کے

Read More

دیوارِ دوست (زاہد نبی)

تیری دیور پہ لکھا ہے سارے دکھ اندر نہیں تھوکے جا سکتے میرے دوست! میں تیرا اگال دان ہوں اور گرتی ہوئی دیوار کا سایہ سنبھالنے آیا ہوں کسی جا چکے دوپہر کے لیے جانے کتنی مکھیاں اڑانا ہوں گی

Read More

معدومیت کا مکالمہ (رضی حیدر)

میں : گوشت میں لتھڑی ہوئی اس قوم کے حیلوں ، بہانوں سا ہے یہ گرداب ، کہ جس میں ہم اور تم فنا ہونے کو ہیں یا فنا ہو بھی چکے ؟ وہ : فنا ہو رہے ہیں (سرگوشی)

Read More

ورثہ (ثروت زہرا)

[/vc_column_text][/vc_column][/vc_row]

Read More

ابدی کھیل (نصیر احمد ناصر)

وقت کے نورانیے میں تہذیبیں زوال کی سیاہی اوڑھ لیتی ہیں لیکن اکاس گنگا کے اَن گنت اَن بُجھ ستارے لُک چُھپ لُک چُھپ کھیلتے رہتے ہیں!! Image: Suzanne Wright Crain

Read More

دو بدن (مصطفیٰ ارباب)

مجھ میں ادھوری لذت سو رہی ہے میں اِس کی نیند کو طُول دینا چاہتا ہوں لیکن ایسا مُمکن نہیں اپنے طے شُدہ اوقات میں یہ بیدار ہو جاتی ہے اپنی تکمیل کی جُست جُو میں اُس بدن کے حُصول

Read More

انتظام (سلمان حیدر)

ہماری گردنوں سے لپٹے ہوئے مفلر ہمارا گلا گھونٹتے ہیں تو بڑھی ہوئی کھردری شیو میں الجھ جاتے ہیں ہماری پتلیاں پپوٹوں کے بند دروازوں کے پیچھے موت کے انتظار میں بے چین ٹہل رہی ہیں گلے آخری ہچکی کی

Read More

ادنیٰ (افتخاری بخاری)

کیا تم جاننا چاہو گے ادنیٰ ہونے کا مطلب؟ تو سنو! یہ ایسے ہے جیسے گھنٹوں قطار میں انتظار کے بعد تم کھڑکی کے قریب پہنچو اور ایک پُر رعونت بوڑھا چھڑی کے اشارے سے تمہیں ایک جانب ہٹا دے

Read More

ریلوے اسٹیشن (محمد جمیل اختر)

“جناب یہ ریل گاڑی یہاں کیوں رکی ہے ؟ “ جب پانچ منٹ انتظار کے بعد گاڑی نہ چلی تو میں نے ریلوے اسٹیشن پہ اُترتے ہی ایک ٹکٹ چیکر سے یہ سوال کیا تھا۔ “ او جناب پیچھے ایک

Read More

314 والے اشونی جی (تالیف حیدر)

وہ ہمیشہ سے مجھے متاثر کن لگے، لمبے بال، ڈھیلی ڈھالی ٹی شرٹ یا شرٹ،اس کے نیچے کبھی جینس تو کبھی نیکر،ناک پہ چشمہ،بظاہر اکھڑی اکھڑی سی شکل و صورت، مگر نہایت پر خلوص۔ کم بولنے اورخاموشی سے اپنے کاموں

Read More

آرکی ٹائپل کُڈھب کردار (فارحہ ارشد)

قبر نے اس کی انگلی تھامی اور اس کے ساتھ ساتھ چلنے لگی۔ وہ جو چہچہا رہی تھی۔ ہموار زمین پر قدم مضبوطی سے جمائے قلانچیں بھرتی، دلچسپی سے ہر چیز کو تک رہی تھی۔ اس کے بائیں طرف چلتے

Read More