چاند رات (عادل یوسف)

چاند رات (عادل یوسف)

اجسام پلاسٹک کی بوتلوں کی مانند سڑک پر لڑھکتے جاتے ہیں
بوتلیں جن میں سماج کا پیشاب بھرا پڑا ہے

ہر آنکھ میں مردہ خوابوں کی لاشیں تیرتی رہتی ہیں
جو فاتحہ کی امید پہ اکثر آنکھوں سے ٹکراتی رہتی ہیں
انہیں ہر دن رشتوں کے گدھوں کی خوراک بننا ہے

لڑکیاں جو شادیوں کی بھینٹ چڑھیں گی
موٹر سائیکلوں کی چیختی ہڈیوں کی آواز پہ جوانوں کے قہقہے میرا مذاق اڑاتے ہیں

آج میں سڑک کے تارکول سے لپٹ کر خوب رویا
اور میری آنکھوں کی سیاہی سڑک میں اپنا تیزاب پلاتی گئی

شہر کی ہر دکان میرا منہ چڑاتی ہے

لوگ اپنے خوابوں کا قتل کر کے نئے کرتے خریدتے ہیں
اور اس پہ اپنے ارمانوں کے کفن پہنتے ہیں

ہماری اناوں کے کتوں کو لڑتے دیکھ کر ہمارے وعدے سہمے بیٹھے ہیں
میں نے بھی تمہارے لیے اک دکان سے لباس چرانے کا سوچا ہے
مگر دکاندار کو مالک کی پڑھنے والی گالیوں کا تصور میرے ارادوں کا گلہ گھونٹتا ہے
گو عید پہ تمہارے جسم میری انگلیوں سے مس کیے لیے لباس کی راہ تکے گا
تکنے دو
مجھ سے جڑی ہر چیز کے حصے میں انتظار ہی لکھا ہے


Related Articles

اِس دنیا میں خدا کا ہاتھ ہے

یاہودا امیخائی: میرا دُکھ میرا جدِ امجد ہے
اِس نے میرے دُکھوں کی دو نسلوں کو جنم دیا
جو اُس کی ہم شکل ہیں

کُمہار

گلیوں میں
ٹُوٹے ہوئے برتن
کُمہار کو
اپنے وجود کے ٹُکڑے لگتے ہیں

ایک روشن روح

یلنا سپرا نووا:دانائی کے ارفع عالم کے در کھول کر
سننسی خیزی کو
شفاف پاکیزگی میں تبدیل کرتے ہوئے
تم پہاڑوں کی
بلند و بالا چوٹیاں سر کر جاتے ہو

No comments

Write a comment
No Comments Yet! You can be first to comment this post!

Write a Comment

Your e-mail address will not be published.
Required fields are marked*