دروازوں کی خود کُشی اور دوسری نظمیں (تبسم ضیا)

دروازوں کی خود کُشی اور دوسری نظمیں (تبسم ضیا)
دروازوں کی خود کُشی

دروازے کیا ہوتے ہیں؟
کیا دروازے باہر جانے کے لیے ہیں؟
یا صرف اندر آنے کے لیے؟
دروازوں کا درست مصرف سمجھنے سے
فلسفی قاصر رہے

ہم تمام عمر
ان کی حقیقت سے ناآشنا رہے
ہمیں معلوم نہ ہو سکا
اور دروازے ہمارے اندر سے خارج ہو گئے
یا شاید
اپنے ہی اندر داخل ہو گئے

داخل اور خارج ہونے کی بحث جاری تھی
کہ دروازوں کو دوام بخشا جا سکے
لیکن دروازوں کی خود کشی سے
مداومت کی موت واقع ہو گئی

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

سلم ڈاگ

گرمیوں کے موسم میں
لالٹین کی آگ سینکتے ہیں
تو ٹھنڈابلب مسکراتا ہے
اور ہماری بے بسی پر منہ چڑاتا ہے

بہت سی ہڈیاں
کھال کے تھیلے میں پڑی چبھتی رہتی ہیں
روزانہ کئی کتے
فوڈ سٹریٹ میں
خوراک کی تلاش میں مصروف
کچرے کے ڈھیر پہ
ایک دوسرے پر غراتے ہیں

زمین کے بالوں میں کنگھی کرتی
گرم سرد ہوائیں
خیالوں کی پرانی دیگ میں باس مارتے خواب
کولہوں کی بھٹی کے پاس جلتا سرد خون
آہیں بھرتی پیروں میں بکھری سسکیاں
انجان سڑک پہ اُدھڑاپڑالاوارث پیٹ
جسے اجنبی شعبدہ باز
ہنسی کی ٹھوکریں مار کر گزر جاتے ہیں

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

مالوف کی اولادِ بائن

اس کا نام ہم نے پیدائش سے پہلے ہی رکھ لیا تھا
میں جانتا تھا،
پیدائش کے وقت میں اسے مل نہیں سکوں گا کہ کوئی ہماری شکلوں میں مماثلت پیدا نہ کرلے
میں چاہتا تھا،
وہ اپنے ہاتھوں سے مجھے میرا دوسرا جنم تھمائے

میں نے یونہی ایک دن اس سے پوچھاکہ اس کی پیدائش پہ مجھے کیا تحفہ دو گی
کہنے لگی
سونے میں تول دوں گی
میں نے اپنے تھوک والا ہاتھ اس کے پیٹ پر لگایا
اور چل دیا

کوئی چند ماہ مجھے پکارتے رہے

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

خود رُسوا

میرے دل میں اُگتی پیار کی فصل کو
جب لو گوں کی نفرت کے فضلے کی کھاد ملی
تو سِٹے چمک کر سونا ہو گئے
پھر وہی فصل کاٹنے کا وقت آیاتو میرے خلوص کی درانتی کُند ہو گئی
اور دل شکم کے آنسووں سے بھر آیا

درانتی خوب چلائی گئی لیکن فصل نہ کٹی
میرے ہاتھوں پر کیچڑ لگا ہوا تھا
سٹے نیلے ہو چکے تھے

محبت نے خلوص کے ساتھ نیّت کو اٹھا کر نفرت کے فضلے پہ پٹخ ڈالا
اور درد نے محبت کے اُپلے ناف پر تھاپنا شروع کر دیے

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

روح سے لپٹا پیاسا کوا

روح سے لپٹے پیاسے کوّے نے پیاس بجھانے کویہاں وہاں دیکھا
ایک مٹکے پہ نظر پڑی تو اس کے کنارے جا بیٹھا
معلوم ہوا۔۔۔ کنارہ ، کنارہ نہیں

پانی بہت دور تھا
قریب لانے کو کنکر ڈالے تو پانی ان میں رستا نظر آیا
گویا موت نظر آئی
کوّے نے شیطان کو دوست کیا
اور اپنے رونگٹے پانی کے مساموں میں اتار دیئے
پانی ان میں چڑھنا شروع ہو ا
نئی زندگی کے پہلے لفظ نے ہاتھ بڑھا کر
موت کے آخری حرف کو تھاما
اور ایک نیا جملہ وجود میں آیا
کائیں کائیں۔۔۔کائیں کائیں۔۔۔


Related Articles

نذر فیض

ہاں مجھے اتنی خبر ہے مرے ہمدم مرے دوست
زندگی اپنی جگہ مہمل و دشوار سہی

وہ سازش ڈھونڈ رہے تھے

سلمان حیدر: کسی خفیہ راستے کی تلاش میں
انہوں نے سرکنڈوں کی بنی دیواروں پر
لپی ہوئی مٹی کھرچ ڈالی

میں جا چکی ہوں

نسیم سید: میں اپنے ہونے کے اورنہ ہونے کے
مخمصے سے
نہ جانے کب کی
نکل چکی ہوں

No comments

Write a comment
No Comments Yet! You can be first to comment this post!

Write a Comment

Your e-mail address will not be published.
Required fields are marked*